🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب تسمية المولود غداة يولد، لمن لم يعق عنه، وتحنيكه:
باب: اگر بچے کے عقیقہ کا ارادہ نہ ہو تو پیدائش کے دن ہی اس کا نام رکھنا اور اس کی تحنیک کرنا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5467
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي بُرَيْدٌ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وُلِدَ لِي غُلاَمٌ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ، فَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ، وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ وَدَفَعَهُ إِلَيَّ، وَكَانَ أَكْبَرَ وَلَدِ أَبِي مُوسَى.
مجھ سے اسحاق بن نضر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یزید نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا تو میں اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور کھجور کو اپنے دندان مبارک سے نرم کر کے اسے چٹایا اور اس کے لیے برکت کی دعا کی پھر مجھے دے دیا۔ یہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے سب سے بڑے لڑکے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب العقيقة/حدیث: 5467]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6198
سماه إبراهيم فحنكه بتمرة
صحيح البخاري
5467
سماه إبراهيم فحنكه بتمرة
صحيح مسلم
5615
سماه إبراهيم وحنكه بتمرة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5467 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5467
حدیث حاشیہ:
پیدائش کے بعد ہی بچہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا تھا۔
اسی سے باب کا مطلب ثابت ہوا۔
امام ابن حبان نے ان کا نام بھی صحابہ میں شمار کیا ہے کیونکہ اس نے آنحضرت کو دیکھا مگر آپ سے روایت نہیں کی۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابن أبي عدي، عن ابن عون، عن محمد، عن أنس، وساق الحديث،‏‏ ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عدی نے بیان کیا، انہوں نے ابن عون سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اس حدیث کو (مثل سابق)
پورے طور پر بیان کیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5467]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5467
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں پیدائش کے دن ہی نومولود کا نام رکھنے اور اسے گھٹی دینے کا ذکر ہے، اگرچہ اس حدیث سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نومولود کا نام رکھنے اور اسے گھٹی دینے میں جلدی کرنی چاہیے لیکن دیگر صحیح احادیث میں ہے کہ ساتویں روز نام رکھا جائے جیسا کہ حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ہر بچہ اپنے عقیقے کے عوض گروی ہوتا ہے۔
پیدائش کے ساتویں روز اس کا عقیقہ کیا جائے، اس کا نام رکھا جائے اور سر کے بال صاف کرائے جائیں۔
(سنن أبي داود، الضحایا، حدیث: 2839) (2)
امام بخاری رحمہ اللہ کا موقف یہ ہے کہ اگر عقیقہ کرنے کا پروگرام نہ ہو تو نام وغیرہ رکھنے کو ساتویں دن تک مؤخر نہیں کرنا چاہیے بلکہ پیدائش کے دن ہی نام رکھ دیا جائے اور گھٹی بھی دے دی جائے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5467]

Sahih Bukhari Hadith 5467 in Urdu