صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ مِنَ الْقَصَبِ وَالْمَرْوَةِ وَالْحَدِيدِ:
باب: بانس، سفید دھاردار اور لوہار جو خون بہا دے اس کا حکم کیا ہے؟
حدیث نمبر: 5502
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ، أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ:" أَنَّ جَارِيَةً لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ تَرْعَى غَنَمًا لَهُ بِالْجُبَيْلِ الَّذِي بِالسُّوقِ وَهُوَ بِسَلْعٍ فَأُصِيبَتْ شَاةٌ، فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ، فَذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهَا".
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے بنی سلمہ کے ایک صاحب (ابن کعب بن مالک) نے کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ خبر دی کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی اس پہاڑی پر جو ”سوق مدنی“ میں ہے اور جس کا نام سلع ہے، بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ایک بکری مرنے کے قریب ہو گئی تو اس نے ایک پتھر توڑ کر اس سے بکری کو ذبح کر لیا، پھر لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت عطا فرمائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5502]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی اس پہاڑ پر جو سوق مدنی ہے اور جس کا نام سلع ہے، بکریاں چرایا کرتی تھی، ایک بکری مرنے کے قریب ہو گئی تو اس نے ایک پتھر توڑ کر اس سے بکری کو ذبح کر دیا، لوگوں نے اس امر کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے انہیں ”اس کے کھانے کی اجازت دی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5502]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5502
| كسرت حجرا فذبحتها به فذكروا للنبي فأمرهم بأكلها |
سنن أبي داود |
2823
| يرعى لقحة بشعب من شعاب أحد فأخذها الموت فلم يجد شيئا ينحرها به فأخذ وتدا فوجأ به في لبتها حتى أهريق دمها ثم جاء إلى النبي فأخبره بذلك فأمره بأكلها |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5502 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5502
حدیث حاشیہ:
جانور کو ذبح کرنے کے لیے تیز چھری استعمال کرنی چاہیے جیسا کہ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ ہم میں کوئی شکار کرتا ہے اور اس کے پاس ذبح کرنے کے لیے چھری نہیں ہوتی تو کیا وہ اسے پتھر یا لکڑی کی تیز پھانک سے ذبح کرے؟ آپ نے فرمایا:
”جس چیز سے تم چاہو خون بہاؤ اور اللہ کا نام ذکر کرو۔
“ (سنن أبي داود، الضحایا، حدیث: 2824)
بوقت ضرورت اگر چھری دستیاب نہ ہو تو تیز دھاری دار پتھر یا لکڑی کی تیز پھانک سے ذبح کرنا جائز ہے مگر دانت، ہڈی اور ناخن سے ذبح کرنا جائز نہیں کیونکہ اس میں کفار کی مشابہت ہے۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے تیز پتھر سے خرگوش ذبح کیا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت دی۔
(سنن أبي داود، الضحایا، حدیث: 2822)
جانور کو ذبح کرنے کے لیے تیز چھری استعمال کرنی چاہیے جیسا کہ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ ہم میں کوئی شکار کرتا ہے اور اس کے پاس ذبح کرنے کے لیے چھری نہیں ہوتی تو کیا وہ اسے پتھر یا لکڑی کی تیز پھانک سے ذبح کرے؟ آپ نے فرمایا:
”جس چیز سے تم چاہو خون بہاؤ اور اللہ کا نام ذکر کرو۔
“ (سنن أبي داود، الضحایا، حدیث: 2824)
بوقت ضرورت اگر چھری دستیاب نہ ہو تو تیز دھاری دار پتھر یا لکڑی کی تیز پھانک سے ذبح کرنا جائز ہے مگر دانت، ہڈی اور ناخن سے ذبح کرنا جائز نہیں کیونکہ اس میں کفار کی مشابہت ہے۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے تیز پتھر سے خرگوش ذبح کیا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت دی۔
(سنن أبي داود، الضحایا، حدیث: 2822)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5502]
Sahih Bukhari Hadith 5502 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← اسم مبهم