🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. بَابُ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ مِنَ الْقَصَبِ وَالْمَرْوَةِ وَالْحَدِيدِ:
باب: بانس، سفید دھاردار اور لوہار جو خون بہا دے اس کا حکم کیا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5502
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ، أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ:" أَنَّ جَارِيَةً لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ تَرْعَى غَنَمًا لَهُ بِالْجُبَيْلِ الَّذِي بِالسُّوقِ وَهُوَ بِسَلْعٍ فَأُصِيبَتْ شَاةٌ، فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ، فَذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهَا".
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے بنی سلمہ کے ایک صاحب (ابن کعب بن مالک) نے کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ خبر دی کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی اس پہاڑی پر جو سوق مدنی میں ہے اور جس کا نام سلع ہے، بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ایک بکری مرنے کے قریب ہو گئی تو اس نے ایک پتھر توڑ کر اس سے بکری کو ذبح کر لیا، پھر لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت عطا فرمائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5502]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی اس پہاڑ پر جو سوق مدنی ہے اور جس کا نام سلع ہے، بکریاں چرایا کرتی تھی، ایک بکری مرنے کے قریب ہو گئی تو اس نے ایک پتھر توڑ کر اس سے بکری کو ذبح کر دیا، لوگوں نے اس امر کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے انہیں اس کے کھانے کی اجازت دی۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5502]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥اسم مبهم0
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← اسم مبهم
ثقة ثبت مشهور
👤←👥جويرية بن أسماء الضبعي، أبو أسماء، أبو مخراق، أبو مخارق
Newجويرية بن أسماء الضبعي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← جويرية بن أسماء الضبعي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5502
كسرت حجرا فذبحتها به فذكروا للنبي فأمرهم بأكلها
سنن أبي داود
2823
يرعى لقحة بشعب من شعاب أحد فأخذها الموت فلم يجد شيئا ينحرها به فأخذ وتدا فوجأ به في لبتها حتى أهريق دمها ثم جاء إلى النبي فأخبره بذلك فأمره بأكلها
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5502 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5502
حدیث حاشیہ:
جانور کو ذبح کرنے کے لیے تیز چھری استعمال کرنی چاہیے جیسا کہ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ ہم میں کوئی شکار کرتا ہے اور اس کے پاس ذبح کرنے کے لیے چھری نہیں ہوتی تو کیا وہ اسے پتھر یا لکڑی کی تیز پھانک سے ذبح کرے؟ آپ نے فرمایا:
جس چیز سے تم چاہو خون بہاؤ اور اللہ کا نام ذکر کرو۔
(سنن أبي داود، الضحایا، حدیث: 2824)
بوقت ضرورت اگر چھری دستیاب نہ ہو تو تیز دھاری دار پتھر یا لکڑی کی تیز پھانک سے ذبح کرنا جائز ہے مگر دانت، ہڈی اور ناخن سے ذبح کرنا جائز نہیں کیونکہ اس میں کفار کی مشابہت ہے۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے تیز پتھر سے خرگوش ذبح کیا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت دی۔
(سنن أبي داود، الضحایا، حدیث: 2822)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5502]

Sahih Bukhari Hadith 5502 in Urdu