صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب ما أنهر الدم من القصب والمروة والحديد:
باب: بانس، سفید دھاردار اور لوہار جو خون بہا دے اس کا حکم کیا ہے؟
حدیث نمبر: 5501
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، سَمِعَ ابْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ يُخْبِرُ ابْنَ عُمَرَ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ:" أَنَّ جَارِيَةً لَهُمْ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا بِسَلْعٍ فَأَبْصَرَتْ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا مَوْتًا فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا، فَقَالَ لِأَهْلِهِ: لَا تَأْكُلُوا حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ، أَوْ حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْهِ مَنْ يَسْأَلُهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ بَعَثَ إِلَيْهِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَكْلِهَا".
ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے، انہوں نے ابن کعب بن مالک سے سنا، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ انہیں ان کے والد نے خبر دی کہ ان کے گھر ایک لونڈی سلع پہاڑی پر بکریاں چرایا کرتی تھی (چراتے وقت ایک مرتبہ) اس نے دیکھا کہ ایک بکری مرنے والی ہے۔ چنانچہ اس نے ایک پتھر توڑ کر اس سے بکری ذبح کر دی تو کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ اسے اس وقت تک نہ کھانا جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم نہ پوچھ آؤں یا (انہوں نے یہ کہا کہ) میں کسی کو بھیجوں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھ آئے پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے یا کسی کو بھیجا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھانے کی اجازت بخشی۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5501]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہیں عبدالرحمن کے والد گرامی نے بتایا کہ ان کی لونڈی سلع پہاڑی پر بکریاں چرایا کرتی تھی، اس نے ایک بکری کو دیکھا کہ وہ مرنے کے قریب ہے، تو اس نے ایک پتھر توڑ کر اسے ذبح کر دیا۔ اہل خانہ میں سے کسی نے گھر والوں کو کہا: ”اسے مت کھاؤ یہاں تک کہ میں اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لوں یا کسی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجتا ہوں جو آپ سے مسئلہ پوچھ کر آئے۔“ چنانچہ وہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے یا کسی کو آپ کے پاس بھیجا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت دے دی۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5501]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5501
| جارية لهم كانت ترعى غنما بسلع فأبصرت بشاة من غنمها موتا فكسرت حجرا فذبحتها فقال لأهله لا تأكلوا حتى آتي النبي فأسأله أو حتى أرسل إليه من يسأله فأتى النبي أو بعث إليه فأمر النبي بأكلها |
صحيح البخاري |
2304
| كسرت حجرا فذبحتها به فقال لهم لا تأكلوا حتى أسأل النبي أو أرسل إلى النبي من يسأله وأنه سأل النبي عن ذاك أو أرسل فأمره بأكلها |
صحيح البخاري |
5504
| امرأة ذبحت شاة بحجر فسئل النبي عن ذلك فأمر بأكلها |
سنن ابن ماجه |
3182
| ذبحت شاة بحجر فذكر ذلك لرسول الله فلم ير به بأسا |
بلوغ المرام |
1154
| امراة ذبحت شاة بحجر فسئل النبي صلى الله عليه وآله وسلم عن ذلك فامر باكلها |
Sahih Bukhari Hadith 5501 in Urdu
عبد الرحمن بن كعب الأنصاري ← كعب بن مالك الأنصاري