صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب وقت المغرب:
باب: مغرب کی نماز کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: Q559
وَقَالَ عَطَاءٌ: يَجْمَعُ الْمَرِيضُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ.
اور عطاء بن ابی رباح نے کہا کہ مریض عشاء اور مغرب دونوں کو ایک ساتھ جمع کر لے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: Q559]
صحیح بخاری کی حدیث نمبر Q559 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري Q559
� تشریح:
اس اثر کو عبدالرزاق نے مصنف میں وصل کیا ہے۔
اس اثر کو عبدالرزاق نے مصنف میں وصل کیا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 559]
حدیث نمبر: 559
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّجَاشِيِّ صُهَيْبٌ مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيج، يَقُولُ:" كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ".
ہم سے محمد بن مہران نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلمہ نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن عمرو اوزاعی نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابوالنجاشی نے بیان کیا، ان کا نام عطاء بن صہیب تھا اور یہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رافع بن خدیج سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم مغرب کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھ کر جب واپس ہوتے اور تیر اندازی کرتے (تو اتنا اجالا باقی رہتا تھا کہ) ایک شخص اپنے تیر گرنے کی جگہ کو دیکھتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 559]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھتے تھے، پھر (فارغ ہونے کے بعد) جب ہم میں سے کوئی واپس جاتا (اور تیر پھینکتا) تو وہ تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ لیتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 559]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
559
| نصلي المغرب مع النبي فينصرف أحدنا وإنه ليبصر مواقع نبله |
صحيح مسلم |
1441
| نصلي المغرب مع رسول الله فينصرف أحدنا وإنه ليبصر مواقع نبله |
سنن ابن ماجه |
687
| نصلي المغرب على عهد رسول الله فينصرف أحدنا وإنه لينظر إلى مواقع نبله |
بلوغ المرام |
131
| كنا نصلي المغرب مع رسول الله فينصرف احدنا وإنه ليبصر مواقع نبله |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 559 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 559
حدیث حاشیہ:
تشریح:
حدیث سے ظاہر ہوا کہ مغرب کی نماز سورج ڈوبنے پر فوراً ادا کرلی جایا کرتی تھی۔
بعض احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ مغرب کی جماعت سے پہلے صحابہ دورکعت سنت بھی پڑھا کرتے تھے، پھر فوراً جماعت کھڑی کی جاتی اور نماز سے فراغت کے بعد صحابہ کرام بعض دفعہ تیراندازی کی مشق بھی کیا کرتے تھے۔
اوراس وقت اتنا اجالا رہتا تھا کہ وہ اپنے تیر گرنے کی جگہ کو دیکھ سکتے تھے۔
مسلمانوں میں مغرب کی نماز اول وقت پڑھنا توسنت متوارثہ ہے۔
مگرصحابہ کی دوسری سنت یعنی تیراندازی کو وہ اس طرح بھول گئے، گویا یہ کوئی کام ہی نہیں۔
حالانکہ تعلیمات اسلامی کی روسے سپاہیانہ فنون کی تعلیمات بھی مذہبی مقام رکھتی ہیں۔
تشریح:
حدیث سے ظاہر ہوا کہ مغرب کی نماز سورج ڈوبنے پر فوراً ادا کرلی جایا کرتی تھی۔
بعض احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ مغرب کی جماعت سے پہلے صحابہ دورکعت سنت بھی پڑھا کرتے تھے، پھر فوراً جماعت کھڑی کی جاتی اور نماز سے فراغت کے بعد صحابہ کرام بعض دفعہ تیراندازی کی مشق بھی کیا کرتے تھے۔
اوراس وقت اتنا اجالا رہتا تھا کہ وہ اپنے تیر گرنے کی جگہ کو دیکھ سکتے تھے۔
مسلمانوں میں مغرب کی نماز اول وقت پڑھنا توسنت متوارثہ ہے۔
مگرصحابہ کی دوسری سنت یعنی تیراندازی کو وہ اس طرح بھول گئے، گویا یہ کوئی کام ہی نہیں۔
حالانکہ تعلیمات اسلامی کی روسے سپاہیانہ فنون کی تعلیمات بھی مذہبی مقام رکھتی ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 559]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 559
� تشریح:
حدیث سے ظاہر ہوا کہ مغرب کی نماز سورج ڈوبنے پر فوراً ادا کر لی جایا کرتی تھی۔ بعض احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ مغرب کی جماعت سے پہلے صحابہ دو رکعت سنت بھی پڑھا کرتے تھے، پھر فوراً جماعت کھڑی کی جاتی اور نماز سے فراغت کے بعد صحابہ کرام بعض دفعہ تیراندازی کی مشق بھی کیا کرتے تھے۔ اور اس وقت اتنا اجالا رہتا تھا کہ وہ اپنے تیر گرنے کی جگہ کو دیکھ سکتے تھے۔ مسلمانوں میں مغرب کی نماز اول وقت پڑھنا تو سنت متوارثہ ہے۔ مگر صحابہ کی دوسری سنت یعنی تیراندازی کو وہ اس طرح بھول گئے، گویا یہ کوئی کام ہی نہیں۔ حالانکہ تعلیمات اسلامی کی رو سے سپاہیانہ فنون کی تعلیمات بھی مذہبی مقام رکھتی ہیں۔
حدیث سے ظاہر ہوا کہ مغرب کی نماز سورج ڈوبنے پر فوراً ادا کر لی جایا کرتی تھی۔ بعض احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ مغرب کی جماعت سے پہلے صحابہ دو رکعت سنت بھی پڑھا کرتے تھے، پھر فوراً جماعت کھڑی کی جاتی اور نماز سے فراغت کے بعد صحابہ کرام بعض دفعہ تیراندازی کی مشق بھی کیا کرتے تھے۔ اور اس وقت اتنا اجالا رہتا تھا کہ وہ اپنے تیر گرنے کی جگہ کو دیکھ سکتے تھے۔ مسلمانوں میں مغرب کی نماز اول وقت پڑھنا تو سنت متوارثہ ہے۔ مگر صحابہ کی دوسری سنت یعنی تیراندازی کو وہ اس طرح بھول گئے، گویا یہ کوئی کام ہی نہیں۔ حالانکہ تعلیمات اسلامی کی رو سے سپاہیانہ فنون کی تعلیمات بھی مذہبی مقام رکھتی ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 559]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:559
حدیث حاشیہ:
اس حدیث کا تقاضا ہے کہ نماز مغرب کواول وقت میں ادا کرلینا چاہیے، یعنی ایسے وقت میں پڑھ لی جائے کہ فراغت کے بعد بھی روشنی باقی ہو، چنانچہ ایک حدیث میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا بیان بایں الفاظ نقل ہوا ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز مغرب ادا کرتے، پھر نکلتے اور تیراندازی کرتے تو ہم پر تیروں کے گرنے کی جگہ پوشیدہ نہ رہتی۔
(مسند أحمد: 36/4)
اس کا مطلب یہ ہے کہ مغرب کے بعد فاصلے طے کر کے بھی اتنی روشنی رہتی تھی کہ تیر گرنے کی جگہ نظر آتی۔
(فتح الباري: 55/2)
ایک روایت میں مزید وضاحت ہے کہ کچھ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھتے۔
(سنن النسائي، المواقیت، حدیث: 521)
یعنی غروب آفتاب کے بعد نماز پڑھتے، پھر اتنی روشنی میں گھر پہنچ جاتے کہ تیر گرنے کی جگہ نظر آتی۔
حاصل کلام یہ ہے کہ نماز مغرب میں جلدی کرنا ایک پسندیدہ امر ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غروب آفتاب کے فوراً بعد نماز پڑھتے تھے۔
اسے اس قدر مؤخر نہ کیا جائے کہ آسمان پر ستارے نظر آنے لگیں اور نماز کا وقت نکل جائے، چنانچہ ایک حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”میری امت اس وقت تک فطرت پر قائم رہے گی جب تک نماز مغرب کو ستارے نکلنے تک مؤخر نہیں کرے گی۔
“(صحیح ابن خزیمة: 174/1، حدیث: 339)
اس حدیث کا تقاضا ہے کہ نماز مغرب کواول وقت میں ادا کرلینا چاہیے، یعنی ایسے وقت میں پڑھ لی جائے کہ فراغت کے بعد بھی روشنی باقی ہو، چنانچہ ایک حدیث میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا بیان بایں الفاظ نقل ہوا ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز مغرب ادا کرتے، پھر نکلتے اور تیراندازی کرتے تو ہم پر تیروں کے گرنے کی جگہ پوشیدہ نہ رہتی۔
(مسند أحمد: 36/4)
اس کا مطلب یہ ہے کہ مغرب کے بعد فاصلے طے کر کے بھی اتنی روشنی رہتی تھی کہ تیر گرنے کی جگہ نظر آتی۔
(فتح الباري: 55/2)
ایک روایت میں مزید وضاحت ہے کہ کچھ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھتے۔
(سنن النسائي، المواقیت، حدیث: 521)
یعنی غروب آفتاب کے بعد نماز پڑھتے، پھر اتنی روشنی میں گھر پہنچ جاتے کہ تیر گرنے کی جگہ نظر آتی۔
حاصل کلام یہ ہے کہ نماز مغرب میں جلدی کرنا ایک پسندیدہ امر ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غروب آفتاب کے فوراً بعد نماز پڑھتے تھے۔
اسے اس قدر مؤخر نہ کیا جائے کہ آسمان پر ستارے نظر آنے لگیں اور نماز کا وقت نکل جائے، چنانچہ ایک حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”میری امت اس وقت تک فطرت پر قائم رہے گی جب تک نماز مغرب کو ستارے نکلنے تک مؤخر نہیں کرے گی۔
“(صحیح ابن خزیمة: 174/1، حدیث: 339)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 559]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 131
نماز مغرب میں زیادہ تاخیر جائز نہیں
«. . . وعن رافع بن خديج رضي الله عنه قال: كنا نصلي المغرب مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فينصرف احدنا وإنه ليبصر مواقع نبله . . .»
”. . . سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نماز مغرب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے پھر ہم میں سے کوئی نماز سے فارغ ہو کر واپس ہوتا (تو اتنی روشنی ابھی باقی ہوتی تھی) کہ تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ لیتا . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 131]
«. . . وعن رافع بن خديج رضي الله عنه قال: كنا نصلي المغرب مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فينصرف احدنا وإنه ليبصر مواقع نبله . . .»
”. . . سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نماز مغرب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے پھر ہم میں سے کوئی نماز سے فارغ ہو کر واپس ہوتا (تو اتنی روشنی ابھی باقی ہوتی تھی) کہ تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ لیتا . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 131]
� لغوی تشریح:
«مَوَاقِعَ نَبْلِه» «مَوَاقِع» ، موقع کی جمع ہے، مراد ہے تیروں کے گرنے کی جگہیں۔ اور «نَبْل» کے معنی ہیں: تیر۔ ”نون“ پر فتحہ اور ”با“ ساکن ہے۔ انہی لفظوں سے اس کا واحد استعمال نہیں ہوتا۔
فائدہ:
نماز مغرب میں زیادہ تاخیر جائز نہیں۔ اس کے ادا کرنے میں جلدی ہی بہتر ہے جیسا کہ اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے۔
راویٔ حدیث:
(سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ) ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی۔ کم عمری کی وجہ سے غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے۔ غزوہ احد اور بعد کے غزوات میں برابر شریک رہے۔ 73 یا 74 ہجری میں 86 برس کی عمر میں وفات پائی۔
«مَوَاقِعَ نَبْلِه» «مَوَاقِع» ، موقع کی جمع ہے، مراد ہے تیروں کے گرنے کی جگہیں۔ اور «نَبْل» کے معنی ہیں: تیر۔ ”نون“ پر فتحہ اور ”با“ ساکن ہے۔ انہی لفظوں سے اس کا واحد استعمال نہیں ہوتا۔
فائدہ:
نماز مغرب میں زیادہ تاخیر جائز نہیں۔ اس کے ادا کرنے میں جلدی ہی بہتر ہے جیسا کہ اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے۔
راویٔ حدیث:
(سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ) ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی۔ کم عمری کی وجہ سے غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے۔ غزوہ احد اور بعد کے غزوات میں برابر شریک رہے۔ 73 یا 74 ہجری میں 86 برس کی عمر میں وفات پائی۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 131]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث687
نماز مغرب کا وقت۔
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مغرب کی نماز پڑھتے، پھر ہم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ کر واپس ہوتا، اور وہ اپنے تیر گرنے کے مقام کو دیکھ لیتا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 687]
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مغرب کی نماز پڑھتے، پھر ہم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ کر واپس ہوتا، اور وہ اپنے تیر گرنے کے مقام کو دیکھ لیتا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 687]
اردو حاشہ:
(1)
تیر گرنے کی جگہ دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ نظر اتنی دور تک کام کرتی تھی کہ کوئی شخص تیر چلائے تو اندھیرا کم ہونے کی وجہ سے اسے اپنا تیر زمین میں گرتا ہوا نظر آئے۔
(2)
اتنی جلدی فارغ ہونے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ سورج غروب ہوتے ہی نماز مغرب ادا کی جاتی تھی اور دوسری وجہ یہ ہے کہ نماز مختصر ہوتی تھی اس میں دوسری نمازوں کی طرح طویل قراءت نہیں ہوتی تھی۔
(1)
تیر گرنے کی جگہ دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ نظر اتنی دور تک کام کرتی تھی کہ کوئی شخص تیر چلائے تو اندھیرا کم ہونے کی وجہ سے اسے اپنا تیر زمین میں گرتا ہوا نظر آئے۔
(2)
اتنی جلدی فارغ ہونے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ سورج غروب ہوتے ہی نماز مغرب ادا کی جاتی تھی اور دوسری وجہ یہ ہے کہ نماز مختصر ہوتی تھی اس میں دوسری نمازوں کی طرح طویل قراءت نہیں ہوتی تھی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 687]
Sahih Bukhari Hadith 559 in Urdu
عطاء بن صهيب الأنصاري ← رافع بن خديج الأنصاري