پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب ما جاء فى كفارة المرض:
باب: بیماری کے کفارہ ہونے کا بیان اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں فرمایا ”جو کوئی برا کرے گا اس کو بدلہ ملے گا“۔
حدیث نمبر: 5645
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ أَبَا الْحُبَابِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں محمد بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن یسار ابوالحباب سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر و بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے بیماری کی تکالیف اور دیگر مصیبتوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المرضى/حدیث: 5645]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر و برکت کا ارادہ کرتا ہے، اسے مصائب و آلام میں مبتلا کر دیتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المرضى/حدیث: 5645]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥سعيد بن يسار، أبو الحباب سعيد بن يسار ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥محمد بن عبد الله الأنصاري، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله الأنصاري ← سعيد بن يسار | ثقة | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← محمد بن عبد الله الأنصاري | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥عبد الله بن يوسف الكلاعي، أبو محمد عبد الله بن يوسف الكلاعي ← مالك بن أنس الأصبحي | ثقة متقن من أثبت الناس في الموطأ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5645
| من يرد الله به خيرا يصب منه |
موطا امام مالك رواية ابن القاسم |
616
| من يرد الله به خيرا يصب منه |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5645 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5645
حدیث حاشیہ:
ان جملہ احادیث کے لانے کا مقصد یہی ہے کہ مسلمان پر طرح طرح کی تکالیف اور تفکرات آتی ہی رہتی ہیں لیکن وہ صبر کر کے جھیلتا ہے نا شکری کا کوئی کلمہ زبان سے نہیں نکالتا گو کتنی ہی تکلیف ہو مگر صبر و شکر کو نہیں چھوڑتا، ان سب سے اس کے گناہ معاف ہوتے رہتے ہیں اور درجات بڑھتے رہتے ہیں گویا یہ سب آیت ﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ (النساء: 123)
۔
ان جملہ احادیث کے لانے کا مقصد یہی ہے کہ مسلمان پر طرح طرح کی تکالیف اور تفکرات آتی ہی رہتی ہیں لیکن وہ صبر کر کے جھیلتا ہے نا شکری کا کوئی کلمہ زبان سے نہیں نکالتا گو کتنی ہی تکلیف ہو مگر صبر و شکر کو نہیں چھوڑتا، ان سب سے اس کے گناہ معاف ہوتے رہتے ہیں اور درجات بڑھتے رہتے ہیں گویا یہ سب آیت ﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ (النساء: 123)
۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5645]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5645
حدیث حاشیہ:
(1)
اس عالم رنگ و بو میں مسلمان پر ہر طرح کی مصیبتیں آتی ہیں اور تفکرات درپیش رہتے ہیں۔
وہ انہیں خندہ پیشانی سے برداشت کرتا ہے اور اپنی زبان پر کوئی حرف شکایت نہیں لاتا اور صبر و شکر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔
اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کر دیتا ہے اور اس کے درجات بھی بلند ہوتے رہتے ہیں، گویا یہ تکالیف گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی کا ذریعہ ہیں۔
(2)
حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اپنے بندے کے لیے کوئی مرتبہ طے کر دیتا ہے جسے وہ عمل کے ذریعے سے نہیں حاصل کر پاتا تو اللہ تعالیٰ اسے کسی بیماری یا پریشانی یا مالی نقصان میں مبتلا کر دیتا ہے، وہ بندہ اس پر صبر کر کے اس مرتبے کو حاصل کر لیتا ہے۔
(مسند أحمد: 272/5)
(1)
اس عالم رنگ و بو میں مسلمان پر ہر طرح کی مصیبتیں آتی ہیں اور تفکرات درپیش رہتے ہیں۔
وہ انہیں خندہ پیشانی سے برداشت کرتا ہے اور اپنی زبان پر کوئی حرف شکایت نہیں لاتا اور صبر و شکر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔
اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کر دیتا ہے اور اس کے درجات بھی بلند ہوتے رہتے ہیں، گویا یہ تکالیف گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی کا ذریعہ ہیں۔
(2)
حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اپنے بندے کے لیے کوئی مرتبہ طے کر دیتا ہے جسے وہ عمل کے ذریعے سے نہیں حاصل کر پاتا تو اللہ تعالیٰ اسے کسی بیماری یا پریشانی یا مالی نقصان میں مبتلا کر دیتا ہے، وہ بندہ اس پر صبر کر کے اس مرتبے کو حاصل کر لیتا ہے۔
(مسند أحمد: 272/5)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5645]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 616
ہر مصیبت کو عذاب قرار دینا درست نہیں
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے ساتھ اللہ خیر کا ارادہ کرتا ہے تو اس (کی صحت یا مال میں) سے کچھ لے لیتا ہے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 616]
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے ساتھ اللہ خیر کا ارادہ کرتا ہے تو اس (کی صحت یا مال میں) سے کچھ لے لیتا ہے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 616]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 5645، من حديث مالك به]
تفقہ:
➊ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مصیبت بھی کسی مسلمان کو پہنچتی ہے حتیٰ کہ ایک کانٹے کا چبھنا تو اللہ اسے اس کا کفارہ بنا دیتا ہے۔“ [صحيح بخاري: 5640 و صحيح مسلم: 2572]
ایک روایت میں آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان جب بھی کسی تکلیف، بیماری، مصیبت اور غم میں مبتلا ہوتا ہے حتیٰ کہ ایک کانٹا جو اسے چبھ جاتا ہے تو اللہ اس کے ذریعے سے اس کی خطائیں معاف فرما دیتا ہے۔“ [صحيح بخاري: 5641، 5642 وصحيح مسلم: 2573]
➋ سیدنا صہیب الرومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کا معاملہ عجیب (پیارا) ہے، اس کی ساری باتیں خیر ہی خیر ہوتی ہیں اور یہ صرف مومن کو ہی حاصل ہے۔ اس پر جب خوشی آتی ہے تو شکر کرتا ہے جو اس کے لئے بہتر ہے اور جب اس پر مصیبت آتی ہے تو صبر کرتا ہے جو اس کے لئے بہتر ہے۔“ [صحيح مسلم: 2999 [7500] ]
لہٰذا انسان کو ہر وقت صبر و شکر سے ہی کام لینا چاہئے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: «وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ» ”اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔“ [آل عمران: 146]
➌ ہر مصیبت کو عذاب قرار دینا درست نہیں، کبھی یہ مومن کی بلندی درجات کا باعث ہوتی ہے۔
[وأخرجه البخاري 5645، من حديث مالك به]
تفقہ:
➊ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مصیبت بھی کسی مسلمان کو پہنچتی ہے حتیٰ کہ ایک کانٹے کا چبھنا تو اللہ اسے اس کا کفارہ بنا دیتا ہے۔“ [صحيح بخاري: 5640 و صحيح مسلم: 2572]
ایک روایت میں آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان جب بھی کسی تکلیف، بیماری، مصیبت اور غم میں مبتلا ہوتا ہے حتیٰ کہ ایک کانٹا جو اسے چبھ جاتا ہے تو اللہ اس کے ذریعے سے اس کی خطائیں معاف فرما دیتا ہے۔“ [صحيح بخاري: 5641، 5642 وصحيح مسلم: 2573]
➋ سیدنا صہیب الرومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کا معاملہ عجیب (پیارا) ہے، اس کی ساری باتیں خیر ہی خیر ہوتی ہیں اور یہ صرف مومن کو ہی حاصل ہے۔ اس پر جب خوشی آتی ہے تو شکر کرتا ہے جو اس کے لئے بہتر ہے اور جب اس پر مصیبت آتی ہے تو صبر کرتا ہے جو اس کے لئے بہتر ہے۔“ [صحيح مسلم: 2999 [7500] ]
لہٰذا انسان کو ہر وقت صبر و شکر سے ہی کام لینا چاہئے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: «وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ» ”اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔“ [آل عمران: 146]
➌ ہر مصیبت کو عذاب قرار دینا درست نہیں، کبھی یہ مومن کی بلندی درجات کا باعث ہوتی ہے۔
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 93]
Sahih Bukhari Hadith 5645 in Urdu
سعيد بن يسار ← أبو هريرة الدوسي