🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب عيادة الصبيان:
باب: بچوں کی عیادت بھی جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5655
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَاصِمٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا" أَنَّ ابْنَةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِ، وَهُوَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَعْدٌ، وَأُبَيٌّ، نَحْسِبُ أَنَّ ابْنَتِي قَدْ حُضِرَتْ فَاشْهَدْنَا فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا السَّلَامَ، وَيَقُولُ إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطَى وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ مُسَمًّى، فَلْتَحْتَسِبْ وَلْتَصْبِرْ فَأَرْسَلَتْ تُقْسِمُ عَلَيْهِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقُمْنَا فَرُفِعَ الصَّبِيُّ فِي حَجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ، فَفَاضَتْ عَيْنَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: هَذِهِ رَحْمَةٌ وَضَعَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ مَنْ شَاءَ مِنْ عِبَادِهِ، وَلَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ إِلَّا الرُّحَمَاءَ".
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عاصم نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابوعثمان سے سنا اور انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی (زینب رضی اللہ عنہا) نے آپ کو کہلوا بھیجا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سعد رضی اللہ عنہ اور ہمارا خیال ہے کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے کہ میری بچی بستر مرگ پر پڑی ہے اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کہلوایا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے جو چاہے دے اور جو چاہے لے لے ہر چیز اس کے یہاں متعین و معلوم ہے۔ اس لیے اللہ سے اس مصیبت پر اجر کی امیدوار رہو اور صبر کرو۔ صاحبزادی نے پھر دوبارہ قسم دے کر ایک آدمی بلانے کو بھیجا۔ چنانچہ آپ کھڑے ہوئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے پھر بچی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں اٹھا کر رکھی گئی اور وہ جانکنی کے عالم میں پریشان تھی۔ آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کے دل میں چاہتا ہے رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے انہیں بندوں پر رحم کرتا ہے جو خود بھی رحم کرنے والے ہوتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المرضى/حدیث: 5655]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أسامة بن زيد الكلبي، أبو حارثة، أبو يزيد، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو زيدصحابي
👤←👥أبو عثمان النهدي، أبو عثمان
Newأبو عثمان النهدي ← أسامة بن زيد الكلبي
ثقة ثبت
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعاصم الأحول ← أبو عثمان النهدي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عاصم الأحول
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥الحجاج بن المنهال الأنماطي، أبو محمد
Newالحجاج بن المنهال الأنماطي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5655
هذه رحمة وضعها الله في قلوب من شاء من عباده
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5655 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5655
حدیث حاشیہ:
حدیث كى اس باب میں مطابقت ظاہر ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی بچی کی عیادت کو تشریف لے گئے جو جانکنی کے عالم میں تھی جسے دیکھ کر آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور ان کو آپ نے رحم سے تعبیر فرمایا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5655]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5655
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نواسی کی مزاج پرسی کے لیے تشریف لے گئے جو اس وقت حالت نزع میں تھی، جسے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے خیال کیا کہ ایسے حالات میں صبر کرنا چاہیے، رونے کی کیا ضرورت ہے؟ اس کا جواب آپ نے دیا:
یہ اللہ کی رحمت ہے جو صبر کے منافی نہیں۔
یہ جذبہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں میں ڈالتا ہے جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں۔
(2)
اللہ تعالیٰ کے ہاں سو رحمتیں ہیں۔
ان میں سے ایک رحمت اللہ تعالیٰ نے جِنوں، انسانوں، جانوروں اور حشرات میں رکھی ہے جس کے باعث وہ ایک دوسرے سے شفقت کرتے ہیں حتی کہ وحشی جانور بھی اپنے بچوں پر رحم کرتے ہیں۔
باقی ننانوے رحمتیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر قیامت کے دن نازل فرمائے گا۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5655]

Sahih Bukhari Hadith 5655 in Urdu