🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب قول المريض قوموا عني:
باب: مریض لوگوں سے کہے میرے پاس سے اٹھ کر چلے جاؤ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5669
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلُمَّ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غَلَبَ عَلَيْهِ الْوَجَعُ وَعِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ حَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ، فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ فَاخْتَصَمُوا، مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ قَرِّبُوا يَكْتُبْ لَكُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغْوَ وَالِاخْتِلَافَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُومُوا، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الْكِتَابَ مِنَ اخْتِلَافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے معمر نے (دوسری سند) اور مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو گھر میں کئی صحابہ موجود تھے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی وہیں موجود تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لاؤ میں تمہارے لیے ایک تحریر لکھ دوں تاکہ اس کے بعد تم غلط راہ پر نہ چلو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سخت تکلیف میں ہیں اور تمہارے پاس قرآن مجید تو موجود ہے ہی، ہمارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ اس مسئلہ پر گھر میں موجود صحابہ کا اختلاف ہو گیا اور بحث کرنے لگے۔ بعض صحابہ کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو (لکھنے کی چیزیں) دے دو تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسی تحریر لکھ دیں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو سکو اور بعض صحابہ وہ کہتے تھے جو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اختلاف اور بحث بڑھ گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں سے چلے جاؤ۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ سب سے زیادہ افسوس یہی ہے کہ ان کے اختلاف اور بحث کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تحریر نہیں لکھی جو آپ مسلمانوں کے لیے لکھنا چاہتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المرضى/حدیث: 5669]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا اور گھر میں کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے، ان میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آؤ، میں تمہارے لیے ایک تحریر لکھ دوں، اس کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: بلاشبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بیماری کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن مجید موجود ہے، ہمارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ اس مسئلے پر گھر میں موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اختلاف ہو گیا اور وہ بحث و تمحیص کرنے لگے۔ بعض نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اسبابِ کتابت قریب کرو تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی تحریر لکھ دیں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو سکو اور کچھ صحابہ وہ کہتے تھے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا۔ بہرحال جب لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بے مقصد باتیں زیادہ کیں اور جھگڑا کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یہاں سے) چلے جاؤ۔ حضرت عبید اللہ نے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: سب سے زیادہ افسوسناک بات یہی ہے کہ لوگوں کے اختلاف اور بحث و تمحیص کے باعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ تحریر نہ لکھ سکے جو آپ مسلمانوں کے لیے لکھنا چاہتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المرضى/حدیث: 5669]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله
Newعبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة فقيه ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥عبد الله بن محمد الجعفي، أبو جعفر
Newعبد الله بن محمد الجعفي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← عبد الله بن محمد الجعفي
ثقة ثبت فاضل
👤←👥هشام بن يوسف الأبناوي، أبو عبد الرحمن
Newهشام بن يوسف الأبناوي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن موسى التميمي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن موسى التميمي ← هشام بن يوسف الأبناوي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5669
قوموا قال عبيد الله فكان ابن عباس يقول إن الرزية كل الرزية ما حال بين رسول الله وبين أن يكتب لهم ذلك الكتاب من اختلافهم ولغطهم
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5669 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5669
حدیث حاشیہ:
الخیر فیھا وقع مرضی الٰہی یہی تھی اس وقعہ کے تین روز بعد آپ باحیات رہے اگر آپ کو یہی منظور ہوتا کہ وصیت نامہ لکھنا چاہتے تو اس کے بعد کسی وقت لکھوا دیتے مگر بعد میں آپ نے اشارہ تک نہیں فرمایا معلوم ہوا کہ وہ ایک وقتی بات تھی اسی لیے بعد میں آپ نے بالکل خاموشی اختیار فرمائی۔
حافظ صاحب نے آداب عیادت تحریر فرمائے ہیں کہ عیادت کو جانے والا اجازت مانگتے وقت دروازے کے سامنے نہ کھڑا ہو اور نرمی کے ساتھ کنڈی کو کھڑ کھڑائے اور صاف لفظوں میں نام لے کر اپنا تعارف کرائے اور ایسے وقت میں عیادت نہ کرے جب مریض دوا پی رہا ہو اور یہ کہ عیادت میں کم وقت صرف کرے اور نگاہ نیچی رکھے اور سوالات کم کرے اور رقت و رافت ظاہر کرتا ہوا مریض کے لیے بہ خلوص دعا کرے اور مریض کو صحت کی امید دلائے اور صبر و شکر کے فضائل اسے سنائے اور جزع فزع سے اسے روکنے کی کوشش کرے وغیرہ وغیرہ (فتح الباري)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5669]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5669
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصد اس حدیث سے یہ ہے کہ تیمارداری کرنے والوں کو مریض کے پاس بیٹھ کر ایسی باتوں سے گریز کرنا چاہیے جس سے وہ غمگین ہو اور نوبت یہاں تک آ پہنچے کہ وہ انہیں اپنے پاس سے اٹھ جانے کا کہہ دے۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس موقع پر کچھ آداب عیادت تحریر کیے ہیں کہ پہلے تو تیمارداری کرنے والے کو اجازت لینی چاہیے اور اجازت لیتے وقت بالکل دروازے کے سامنے کھڑا نہ ہو بلکہ آرام اور سکون سے دروازہ کھٹکھٹائے یا گھنٹی بجائے، پھر صاف الفاظ میں اپنا تعارف کرائے۔
ایسے وقت میں عیادت نہ کرے جب مریض دوا استعمال کر رہا ہو۔
عیادت میں کم از کم وقت لگایا جائے۔
اس دوران میں اپنی نگاہ نیچے رکھے۔
سوالات کم کرے۔
مریض سے محبت و ہمدردی سے پیش آئے۔
اسے صحت کی امید دلائے اور صبر و شکر کے فضائل سے اسے آگاہ کرے۔
مریض کے لیے صدق دل سے دعا کرے۔
واویلا کرنے، رونے پیٹنے، چیخنے چلانے اور گھبرانے سے باز رہنے کی تلقین کرے۔
(فتح الباري: 157/10)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5669]

Sahih Bukhari Hadith 5669 in Urdu