صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب ما أسفل من الكعبين فهو فى النار:
باب: کپڑا جو ٹخنوں سے نیچے ہو (ازار ہو یا کرتہ یا چغہ) وہ اپنے پہننے والے مرد کو دوزخ میں لے جائے گا جب کہ وہ پہننے والا متکبر ہو۔
حدیث نمبر: 5787
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فَفِي النَّارِ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن ابی سعید مقبری نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے لٹکا ہو وہ جہنم میں ہو گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5787]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو، وہ جہنم میں ہوگا۔“ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5787]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥سعيد بن أبي سعيد المقبري، أبو سعيد، أبو سعد سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← سعيد بن أبي سعيد المقبري | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥آدم بن أبي إياس، أبو الحسن آدم بن أبي إياس ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5787
| ما أسفل من الكعبين من الإزار ففي النار |
سنن النسائى الصغرى |
5333
| ما أسفل من الكعبين من الإزار ففي النار |
سنن النسائى الصغرى |
5332
| ما تحت الكعبين من الإزار ففي النار |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5787 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5787
حدیث حاشیہ:
وہ تہمد والا حصہ جسم کے ساتھ دوزخ میں جلایا جائے گا۔
اور یہ اس تکبر کی سزا ہوگی جس کی وجہ سے اس شخص نے وہ تہمد ٹخنوں سے نیچے لٹکایا۔
أعاذنا اللہ آمین۔
وہ تہمد والا حصہ جسم کے ساتھ دوزخ میں جلایا جائے گا۔
اور یہ اس تکبر کی سزا ہوگی جس کی وجہ سے اس شخص نے وہ تہمد ٹخنوں سے نیچے لٹکایا۔
أعاذنا اللہ آمین۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5787]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5787
حدیث حاشیہ:
(1)
ٹخنوں سے نیچے کپڑا کرنے کی دو صورتیں ہیں:
ایک عادت کے طور پر اور دوسرا تکبر کے پیش نظر۔
شریعت میں دونوں صورتیں مذموم ہیں۔
ہاں، اگر کوئی عذر ہو تو قابل مؤاخذہ نہیں۔
عذر کے بغیر ایسا کرنا انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے اور ان دونوں کی الگ الگ سزا ہے۔
(2)
اس حدیث میں پہلی صورت کا بیان ہے کہ کپڑے کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو گا وہ آگ میں جائے گا اور پہننے والے کو بھی گھسیٹ لے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
”مسلمان کا تہ بند نصف پنڈلی تک ہوتا ہے، آدھی پنڈلی سے ٹخنوں تک کے مابین میں کوئی حرج نہیں اور جو ٹخنوں سے نیچے ہو وہ آگ میں ہے۔
“ (سنن أبي داود، اللباس، حدیث: 4093)
ایک روایت میں ہے:
”چادر وغیرہ کا ٹخنوں پر کوئی حق نہیں۔
“ (سنن النسائي، الزینة، حدیث: 5331)
(1)
ٹخنوں سے نیچے کپڑا کرنے کی دو صورتیں ہیں:
ایک عادت کے طور پر اور دوسرا تکبر کے پیش نظر۔
شریعت میں دونوں صورتیں مذموم ہیں۔
ہاں، اگر کوئی عذر ہو تو قابل مؤاخذہ نہیں۔
عذر کے بغیر ایسا کرنا انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے اور ان دونوں کی الگ الگ سزا ہے۔
(2)
اس حدیث میں پہلی صورت کا بیان ہے کہ کپڑے کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو گا وہ آگ میں جائے گا اور پہننے والے کو بھی گھسیٹ لے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
”مسلمان کا تہ بند نصف پنڈلی تک ہوتا ہے، آدھی پنڈلی سے ٹخنوں تک کے مابین میں کوئی حرج نہیں اور جو ٹخنوں سے نیچے ہو وہ آگ میں ہے۔
“ (سنن أبي داود، اللباس، حدیث: 4093)
ایک روایت میں ہے:
”چادر وغیرہ کا ٹخنوں پر کوئی حق نہیں۔
“ (سنن النسائي، الزینة، حدیث: 5331)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5787]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5332
ٹخنوں سے نیچے تہبند کے حکم کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹخنوں سے نیچے کا تہبند جہنم کی آگ میں ہو گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5332]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹخنوں سے نیچے کا تہبند جہنم کی آگ میں ہو گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5332]
اردو حاشہ:
یہ سزا تہبند ٹخنوں سے نیچے رکھنے کی ہے خواہ تکبر کے بغیر ہو۔ الا یہ کہ سستی سے کبھی کبھار تہبند نیچا ہو جائے اور توجہ ہونے پر فوراً اونچا کر لیا جائے تو پھر یہ وعید اور سزا نہیں ہو گی۔ واللہ أعلم۔
یہ سزا تہبند ٹخنوں سے نیچے رکھنے کی ہے خواہ تکبر کے بغیر ہو۔ الا یہ کہ سستی سے کبھی کبھار تہبند نیچا ہو جائے اور توجہ ہونے پر فوراً اونچا کر لیا جائے تو پھر یہ وعید اور سزا نہیں ہو گی۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5332]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5333
ٹخنوں سے نیچے تہبند کے حکم کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تہبند کا جتنا حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو گا وہ جہنم کی آگ میں ہو گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5333]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تہبند کا جتنا حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو گا وہ جہنم کی آگ میں ہو گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5333]
اردو حاشہ:
”آگ میں جائے گی“ گویا وہ شخص آگ میں جائے گا البتہ آگ متعلقہ حصے تک ہی ہو گی۔ جب تک سزا پوری نہیں ہو گی وہ جنت میں نہیں جاسکے گا۔
”آگ میں جائے گی“ گویا وہ شخص آگ میں جائے گا البتہ آگ متعلقہ حصے تک ہی ہو گی۔ جب تک سزا پوری نہیں ہو گی وہ جنت میں نہیں جاسکے گا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5333]
Sahih Bukhari Hadith 5787 in Urdu
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي