🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب المغفر:
باب: خود کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5808
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے زہری نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال (مکہ مکرمہ میں) داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5808]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر خود تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5808]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← أنس بن مالك الأنصاري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← محمد بن شهاب الزهري
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥هشام بن عبد الملك الباهلي، أبو الوليد
Newهشام بن عبد الملك الباهلي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5808
دخل مكة عام الفتح وعلى رأسه المغفر
سنن النسائى الصغرى
2871
دخل مكة عام الفتح وعلى رأسه المغفر
سنن ابن ماجه
2805
دخل مكة يوم الفتح وعلى رأسه المغفر
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5808 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5808
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے یہ نکلا کہ اگر حج یا عمرے کی نیت سے نہ ہو اور آدمی کسی کا م کاج یا تجارت کے لیے مکہ شریف میں جائے تو بغیر احرام کے بھی داخل ہو سکتا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5808]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5808
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مکہ مکرمہ میں احرام کے بغیر داخل ہونا بھی جائز ہے۔
احرام صرف اس وقت ضروری ہے جب حج یا عمرے کی نیت ہو۔
(2)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ نے سیاہ عمامہ باندھا ہوا تھا۔
(سنن ابن ماجة، اللباس، حدیث: 3586)
اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اوقات میں دونوں، یعنی پگڑی اور خود باندھے ہوں گے، چنانچہ ممکن ہے جس وقت آپ داخل ہوئے ہوں اس وقت آپ کے سر مبارک پر خود ہو اور پھر اسے اتار کر سیاہ پگڑی پہن لی ہو کیونکہ ایک روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے دروازے پر سیاہ پگڑی پہنے ہوئے خطبہ دیا تھا۔
(سنن ابن ماجة، اللباس، حدیث: 3584)
ابن بطال نے کہا ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خود پہن کر داخل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ آپ حالت جنگ میں داخل ہوئے تھے اور آپ محرم نہیں تھے۔
(عمدة القاري: 26/15)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5808]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2805
اسلحہ کا بیان۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن اس حال میں مکہ داخل ہوئے کہ آپ کے سر پر خود تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2805]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جنگ میں ہتھیاروں کا استعمال یا دشمن کے ہتھیاروں سے بچاؤ کی اشیاء کا استعمال تواکل کے منافی نہیں۔

(2)
مکہ مکرمہ حرم ہے جہاں جنگ اور قتال منع ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے فتح مکہ کے دن جہاد کے لیے خاص طور پر اجازت دی تھی۔
جب مکہ فتح ہوگیا تو پابندی دوبارہ نافذ ہوگئی۔

(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں رائج ہتھیار اور دفاعی اشیاء مثلاً:
خود اور زرہ استعمال کیں۔
ہمیں جدید اشیاء استعمال کرنی چاہییں بلکہ خود ایجاد یا تیار کرنی چاہییں اس لیے جدید ترین ٹینک، آبدوزیں، بکتر بند گاڑیاں اور جنگی لباس مثلاً:
ہیلمٹ، اندھیرے میں دیکھنے کے لیے چشمہ وغیرہ کا حصول تیاری اور استعمال شریعت کا تقاضا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2805]

Sahih Bukhari Hadith 5808 in Urdu