صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب البرود والحبرة والشملة:
باب: دھاری دار چادروں، یمنی چادروں اور کملیوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 5813
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ أَحَبُّ الثِّيَابِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَهَا الْحِبَرَةَ".
مجھ سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معاذ دستوائی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام کپڑوں میں یمنی سبز چادر پہننا بہت پسند تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5813]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر هشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← قتادة بن دعامة السدوسي | ثقة ثبت وقد رمي بالقدر | |
👤←👥معاذ بن هشام الدستوائي، أبو عبد الله معاذ بن هشام الدستوائي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عبد الله بن أبي الأسود البصري، أبو بكر عبد الله بن أبي الأسود البصري ← معاذ بن هشام الدستوائي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5812
| أي الثياب كان أحب إلى النبي أن يلبسها قال الحبرة |
صحيح البخاري |
5813
| أحب الثياب إلى النبي أن يلبسها الحبرة |
صحيح مسلم |
5440
| أي اللباس كان أحب إلى رسول الله أو أعجب إلى رسول الله قال الحبرة |
صحيح مسلم |
5441
| أحب الثياب إلى رسول الله الحبرة |
سنن أبي داود |
4060
| أي اللباس كان أحب إلى رسول الله قال الحبرة |
سنن النسائى الصغرى |
5317
| أحب الثياب إلى نبي الله الحبرة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5813 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5813
حدیث حاشیہ:
حبرة، اس دھاری دار سبز چادر کو کہتے ہیں جو یمن میں تیار ہوتی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ چادر اس لیے زیادہ پسند ہوتی تھی کہ ایک تو مضبوط ہوتی تھی اور دوسرے اس کا رنگ ایسا ہوتا تھا کہ اس میں میل زیادہ محسوس نہ ہوتی تھی۔
ابن بطال نے لکھا ہے کہ یہ چادریں یمن میں روئی سے تیار ہوتی تھیں اور ان کے ہاں یہ بہترین لباس ہوتا تھا۔
اسے حبره اس لیے کہا جاتا تھا کہ اسے زینت کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔
(فتح الباري: 341/10)
حبرة، اس دھاری دار سبز چادر کو کہتے ہیں جو یمن میں تیار ہوتی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ چادر اس لیے زیادہ پسند ہوتی تھی کہ ایک تو مضبوط ہوتی تھی اور دوسرے اس کا رنگ ایسا ہوتا تھا کہ اس میں میل زیادہ محسوس نہ ہوتی تھی۔
ابن بطال نے لکھا ہے کہ یہ چادریں یمن میں روئی سے تیار ہوتی تھیں اور ان کے ہاں یہ بہترین لباس ہوتا تھا۔
اسے حبره اس لیے کہا جاتا تھا کہ اسے زینت کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔
(فتح الباري: 341/10)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5813]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5317
یمن کی سوتی چادر پہننے اوڑھنے کا بیان۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے زیادہ پسندیدہ کپڑا یمن کی سوتی چادر تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5317]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے زیادہ پسندیدہ کپڑا یمن کی سوتی چادر تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5317]
اردو حاشہ:
اس حدیث مبارکہ سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ دھاری دار کپڑے پہننے جاسکتے ہیں۔ دھاری دار کپڑا جلدی میلا محسوس نہیں ہوتا۔ اسی لیے آپ کو زیادہ پسند تھا نیز ایسا کپڑا دیکھنے میں بھلا محسوس ہوتا ہے۔ واللہ أعلم۔
اس حدیث مبارکہ سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ دھاری دار کپڑے پہننے جاسکتے ہیں۔ دھاری دار کپڑا جلدی میلا محسوس نہیں ہوتا۔ اسی لیے آپ کو زیادہ پسند تھا نیز ایسا کپڑا دیکھنے میں بھلا محسوس ہوتا ہے۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5317]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4060
دھاری دار لال چادر پہننے کا بیان۔
قتادہ کہتے ہیں ہم نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا لباس زیادہ محبوب یا زیادہ پسند تھا؟ تو انہوں نے کہا: دھاری دار یمنی چادر ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4060]
قتادہ کہتے ہیں ہم نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا لباس زیادہ محبوب یا زیادہ پسند تھا؟ تو انہوں نے کہا: دھاری دار یمنی چادر ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4060]
فوائد ومسائل:
دھاری دار چادریں بالخصوص یمن میں بنتی تھیں ان کی پسندیدگی کی وجہ غالبا ان کی مضبوطی اور میل خوارہوتا تھی۔
دھاری دار چادریں بالخصوص یمن میں بنتی تھیں ان کی پسندیدگی کی وجہ غالبا ان کی مضبوطی اور میل خوارہوتا تھی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4060]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5441
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب کپڑوں سے یمنی دھاری دار منقش چادر پسند تھی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5441]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
حبرة:
بروزن عنبه:
دھاری دار منقش یمنی چادر جو بقول بعض سبز رنگ کی ہوتی ہے جو اہل جنت کا لباس ہے اور بقول ابن بطال روئی سے بنتی تھیں اور اہل یمن کے ہاں سب سے عمدہ اور اشرف لباس تھا،
جس سے ثابت ہوتا ہے،
اعلیٰ اور عمدہ اور خوبصورت لباس پہننا پسندیدہ ہے۔
مفردات الحدیث:
حبرة:
بروزن عنبه:
دھاری دار منقش یمنی چادر جو بقول بعض سبز رنگ کی ہوتی ہے جو اہل جنت کا لباس ہے اور بقول ابن بطال روئی سے بنتی تھیں اور اہل یمن کے ہاں سب سے عمدہ اور اشرف لباس تھا،
جس سے ثابت ہوتا ہے،
اعلیٰ اور عمدہ اور خوبصورت لباس پہننا پسندیدہ ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5441]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5812
5812. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ قتادہ نے ان سے سوال کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح کا لباس زیادہ پسند تھا؟ انہوں نے کہا کہ دھاری دار چادر بہت پسند تھی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5812]
حدیث حاشیہ:
کیونکہ وہ میل خوری اور بہت مضبوط ہوتی ہے۔
کیونکہ وہ میل خوری اور بہت مضبوط ہوتی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5812]
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري