علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. باب قبالان فى نعل ومن رأى قبالا واحدا واسعا:
باب: ہر چپل میں دو دو تسمہ ہونا اور ایک تسمہ بھی کافی ہے۔
حدیث نمبر: 5858
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ بِنَعْلَيْنِ لَهُمَا قِبَالَانِ، فَقَالَ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ" هَذِهِ نَعْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
مجھ سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں عیسیٰ بن طہمان نے خبر دی، بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ دو جوتے لے کر ہمارے پاس باہر آئے جس میں دو تسمے لگے ہوئے تھے۔ ثابت بنانی نے کہا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5858]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد | ثقة | |
👤←👥عيسى بن طهمان الجشمي، أبو بكر عيسى بن طهمان الجشمي ← ثابت بن أسلم البناني | ثقة | |
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك الحنظلي ← عيسى بن طهمان الجشمي | ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير | |
👤←👥محمد بن مقاتل المروزي، أبو الحسن محمد بن مقاتل المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5858
| هذه نعل النبي |
سنن النسائى الصغرى |
5370
| لنعل رسول الله قبالان |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5858 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5858
حدیث حاشیہ:
اسی آخری جملے سے باب کا دوسرا مضمون ثابت ہوا حضرت عبداللہ بن مبارک علمائے ربانیین میں سے ہیں۔
امام فقیہ حافظ حدیث زاہد پر ہیز گار سخی پختہ کار تھے۔
اللہ تعالیٰ نے خیر کی خصلتوں میں سے ایسی کوئی خصلت نہیں پیدا کی جو حضرت عبداللہ بن مبارک کو نہ عطا فرمائی ہو۔
بغداد میں درس حدیث دیا۔
سنہ 118ھ میں پیدا ہوئے سنہ181ھ میں وفات پائی۔
رب توفني مسلما و ألحقني بالصالحین، آمین۔
اسی آخری جملے سے باب کا دوسرا مضمون ثابت ہوا حضرت عبداللہ بن مبارک علمائے ربانیین میں سے ہیں۔
امام فقیہ حافظ حدیث زاہد پر ہیز گار سخی پختہ کار تھے۔
اللہ تعالیٰ نے خیر کی خصلتوں میں سے ایسی کوئی خصلت نہیں پیدا کی جو حضرت عبداللہ بن مبارک کو نہ عطا فرمائی ہو۔
بغداد میں درس حدیث دیا۔
سنہ 118ھ میں پیدا ہوئے سنہ181ھ میں وفات پائی۔
رب توفني مسلما و ألحقني بالصالحین، آمین۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5858]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5858
حدیث حاشیہ:
(1)
عہد نبوی میں جوتے کی بناوٹ دور حاضر کی ہوائی چپل سے ملتی جلتی تھی۔
اس میں چمڑے کا ایک ٹکڑا انگلیوں کے درمیان ہوتا تھا اور اس کا دوسرا سرا زمام سے بندھا ہوتا تھا۔
زمام کا نام قبال بھی ہے۔
اس قسم کے جوتے میں پاؤں کا اکثر حصہ کھلا رہتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اتارے بغیر پاؤں دھو لیتے تھے جیسا کہ حدیث میں صراحت ہے۔
(صحیح البخاري، الوضوء، حدیث: 166)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے کی دو پٹیاں تھیں جن کے تسمے دہرے تھے۔
(سنن ابن ماجة، اللباس، حدیث: 3614) (2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ عنوان کا دوسرا جز اس طرح ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتوں کے دو تسمے تھے تو ایک جوتے کا ایک تسمہ ثابت ہوا۔
(فتح الباری: 385/10)
(1)
عہد نبوی میں جوتے کی بناوٹ دور حاضر کی ہوائی چپل سے ملتی جلتی تھی۔
اس میں چمڑے کا ایک ٹکڑا انگلیوں کے درمیان ہوتا تھا اور اس کا دوسرا سرا زمام سے بندھا ہوتا تھا۔
زمام کا نام قبال بھی ہے۔
اس قسم کے جوتے میں پاؤں کا اکثر حصہ کھلا رہتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اتارے بغیر پاؤں دھو لیتے تھے جیسا کہ حدیث میں صراحت ہے۔
(صحیح البخاري، الوضوء، حدیث: 166)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے کی دو پٹیاں تھیں جن کے تسمے دہرے تھے۔
(سنن ابن ماجة، اللباس، حدیث: 3614) (2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ عنوان کا دوسرا جز اس طرح ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتوں کے دو تسمے تھے تو ایک جوتے کا ایک تسمہ ثابت ہوا۔
(فتح الباری: 385/10)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5858]
Sahih Bukhari Hadith 5858 in Urdu
عيسى بن طهمان الجشمي ← ثابت بن أسلم البناني