🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. بَابُ مَنْ وَصَلَ وَصَلَهُ اللَّهُ:
باب: جو شخص ناطہٰ جوڑے گا اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاپ رکھے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5989
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الرَّحِمُ شِجْنَةٌ فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ وَمَنْ قَطَعَهَا قَطَعْتُهُ".
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے، انہوں نے کہا مجھ کو معاویہ بن ابی مزرد نے خبر دی، انہوں نے یزید بن رومان سے، انہوں نے عروہ سے، ام المؤمنین انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رحم (رشتہ داری رحمن سے ملی ہوئی) شاخ ہے جو شخص اس سے ملے میں اس سے ملتا ہوں اور جو اس سے قطع تعلق کرے میں اس سے قطع تعلق کرتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 5989]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترم، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الرَّحِمُ» ( «الرَّحْمٰنِ» سے ملی ہوئی) ایک شاخ ہے، جو شخص اس سے ملے، میں اس سے ملتا ہوں اور جو اس سے قطع تعلق کرے، اس سے قطع تعلق کرتا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 5989]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
283 13301 14057

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥يزيد بن رومان الأسدي، أبو روح
Newيزيد بن رومان الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة
👤←👥معاوية بن أبي مزرد المدني
Newمعاوية بن أبي مزرد المدني ← يزيد بن رومان الأسدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥سليمان بن بلال القرشي، أبو محمد، أبو أيوب
Newسليمان بن بلال القرشي ← معاوية بن أبي مزرد المدني
ثقة
👤←👥سعيد بن أبي مريم الجمحي، أبو محمد
Newسعيد بن أبي مريم الجمحي ← سليمان بن بلال القرشي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5989
الرحم شجنة من وصلها وصلته من قطعها قطعته
صحيح مسلم
6519
الرحم معلقة بالعرش من وصلني وصله الله من قطعني قطعه الله
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5989 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5989
حدیث حاشیہ:
اس باب سے صاف ظاہر ہو اکہ رحم کو قطع کرنے والا اللہ تعالیٰ سے تعلق توڑنے والا مانا گیا ہے۔
بہت سے امام نام نہاد دیندار اپنے گنہگار بھائیوں سے بالکل غیر متعلق ہو جاتے ہیں اور اسے تقویٰ جانتے ہیں۔
جو بالکل خیال باطل ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5989]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5989
حدیث حاشیہ:
(1)
ان احادیث سے صلہ رحمی کی اہمیت کا پتا چلتا ہے کہ رشتے داری قائم رکھنے والے سے اللہ تعالیٰ اپنا تعلق قائم رکھتا ہے اور اسے ختم کرنے والے سے اللہ تعالیٰ اپنا تعلق ختم کرلیتا ہے۔
دور حاضر میں بہت سے دیندار اپنے دنیادار بھائیوں سے بالکل قطع تعلق ہوجاتے ہیں اور اسے تقویٰ کا اعلی معیار شمار کیا جاتا ہے۔
یہ بالکل غلط خیال ہے۔
ایسے لوگوں کو اپنے کردار پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
قرآن مجید میں قطع رحمی کی مذمت ان الفاظ میں کی گئی ہے:
”اور جن تعلقات کو اللہ تعالیٰ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے وہ انھیں توڑتے ہیں۔
“ (الرعد13: 25)
در حقیقت رشتے داری کے کئی مراتب ہیں:
پہلا یہ کہ آپس میں ایسی رشتے داری ہو جس سے باہمی نکاح حرام ہوتا ہے، دوسرے یہ کہ وہ ایک دوسرے کے وارث بنتے ہیں، تیسرے یہ کہ ان دونوں کے علاوہ کسی بھی وجہ سے قرابت ہو۔
ان میں سب سے زیادہ حق ماں کا ہے، پھر باپ کا، پھر حسب مراتب دوسرے عزیزواقارب کا ہے۔
(2)
اگرچہ صلہ رحمی تمام عزیزو اقارب کا حق ہے مگر درجہ بدرجہ یہ حق بڑھتا چلا جاتا ہے۔
صلہ رحمی کا کم از کم درجہ یہ ہے کہ آپس میں سلام وکلام کا سلسلہ قائم رہے۔
اگر یہ بھی باقی نہ رہا تو صلہ رحمی کیسی؟ اس کے بعد عزیزواقارب کے احوال کی خبرگیری، مال وجان سے ان کا تعاون، ان کی غلطیوں سے درگزر اور ان کی عزت وآبرو کی حفاظت کرنا یہ صلہ رحمی کی مختلف صورتیں ہیں۔
والله أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5989]

Sahih Bukhari Hadith 5989 in Urdu