صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
55. باب من أثنى على أخيه بما يعلم:
باب: جو اپنے بھائی کی (اتنی) تعریف کرے جتنا وہ جانتا ہے۔
حدیث نمبر: Q6062
وَقَالَ سَعْدٌ: مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأَحَدٍ يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی شخص کے متعلق جو زمین پر چلتا پھرتا ہو، یہ کہتے نہیں سنا کہ یہ جنتی ہے سوا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: Q6062]
حدیث نمبر: 6062
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ ذَكَرَ فِي الْإِزَارِ مَا ذَكَرَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنَّ إِزَارِي يَسْقُطُ مِنْ أَحَدِ شِقَّيْهِ قَالَ: إِنَّكَ لَسْتَ مِنْهُمْ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ازار لٹکانے کے بارے میں جو کچھ فرمانا تھا جب آپ نے فرمایا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرا تہمد ایک طرف سے لٹکنے لگتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ان تکبر کرنے والوں میں سے نہیں ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6062]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت | |
👤←👥موسى بن عقبة القرشي، أبو محمد موسى بن عقبة القرشي ← سالم بن عبد الله العدوي | ثقة فقيه إمام في المغازي | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← موسى بن عقبة القرشي | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن علي بن المديني ← سفيان بن عيينة الهلالي | ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6062
| إزاري يسقط من أحد شقيه قال إنك لست منهم |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6062 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6062
حدیث حاشیہ:
ٹخنوں سے نیچے تہ بند پا جامہ لٹکانا مرد کے لئے برا ہے کیونکہ یہ تکبر کی نشانی ہے۔
گاہے کسی کا تہ بند یوں ہی بغیر خیال تکبر کے لٹک جائے تو امر دیگر ہے مگر اس عادت سے بچنا لازم ہے۔
ٹخنوں سے نیچے تہ بند پا جامہ لٹکانا مرد کے لئے برا ہے کیونکہ یہ تکبر کی نشانی ہے۔
گاہے کسی کا تہ بند یوں ہی بغیر خیال تکبر کے لٹک جائے تو امر دیگر ہے مگر اس عادت سے بچنا لازم ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6062]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6062
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ چادر لٹکا کر چلنے سے منع فرمایا اور اس پر سخت وعید سنائی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے متعلق وضاحت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:
”تم تکبر کرنے والوں سے نہیں ہو۔
“ (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص دوسرے کے متعلق جانتا ہو تو اس کی تعریف کرنے میں کوئی حرج نہیں تاکہ دوسرے لوگوں کو اس کی فضیلت اور عظمت کا علم ہو جائے اور وہ اس کے مقام اور مرتبے کے مطابق عزت واحترام پیش آئیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر صحابۂ کرام کے امتیازی اوصاف بیان کیے جیسا کہ متعدد احادیث میں ان کا ذکر ہے، امام بخاری رحمہ اللہ نے انھیں کتاب المناقب میں ذکر کیا ہے۔
بہرحال اگر کسی کے فتنے میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو اپنے علم کے مطابق اس کی تعریف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(فتح الباري: 588/10)
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ چادر لٹکا کر چلنے سے منع فرمایا اور اس پر سخت وعید سنائی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے متعلق وضاحت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:
”تم تکبر کرنے والوں سے نہیں ہو۔
“ (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص دوسرے کے متعلق جانتا ہو تو اس کی تعریف کرنے میں کوئی حرج نہیں تاکہ دوسرے لوگوں کو اس کی فضیلت اور عظمت کا علم ہو جائے اور وہ اس کے مقام اور مرتبے کے مطابق عزت واحترام پیش آئیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر صحابۂ کرام کے امتیازی اوصاف بیان کیے جیسا کہ متعدد احادیث میں ان کا ذکر ہے، امام بخاری رحمہ اللہ نے انھیں کتاب المناقب میں ذکر کیا ہے۔
بہرحال اگر کسی کے فتنے میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو اپنے علم کے مطابق اس کی تعریف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(فتح الباري: 588/10)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6062]
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي