صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
54. باب ما يكره من التمادح:
باب: تعریف میں مبالغہ کرنا منع، مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 6061
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَثْنَى عَلَيْهِ رَجُلٌ خَيْرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيْحَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ" يَقُولُهُ مِرَارًا" إِنْ كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا لَا مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ: أَحْسِبُ كَذَا وَكَذَا، إِنْ كَانَ يُرَى أَنَّهُ كَذَلِكَ وَحَسِيبُهُ اللَّهُ وَلَا يُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا"، قَالَ وُهَيْبٌ: عَنْ خَالِدٍ وَيْلَكَ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خالد نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے، ان سے ان کے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ایک شخص کا ذکر آیا تو ایک دوسرے شخص نے ان کی مبالغہ سے تعریف کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افسوس تم نے اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ کئی بار فرمایا، اگر تمہارے لیے کسی کی تعریف کرنی ضروری ہو تو یہ کہنا چاہیئے کہ میں اس کے متعلق ایسا خیال کرتا ہوں، باقی علم اللہ کو ہے وہ ایسا ہے۔ اگر اس کو یہ معلوم ہو کہ وہ ایسا ہی ہے اور یوں نہ کہے کہ وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہی ہے۔ اور وہیب نے اسی سند کے ساتھ خالد سے یوں روایت کی ارے تیری خرابی تو نے اس کی گردن کاٹ ڈالی یعنی لفظ «ويحك» کے بجائے لفظ «ويلك» بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6061]
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ایک آدمی کا ذکر آیا تو ایک دوسرے شخص نے اس کی خوب تعریف کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس! تم نے اپنے ساتھی کی گردن توڑ ڈالی ہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ کئی بار دہرایا۔ ”اگر کوئی اپنے ساتھی کی تعریف کرنا ہی چاہتا ہو تو یوں کہے: میں اس کے متعلق ایسا خیال کرتا ہوں (اور یہ بھی اس صورت میں) اگر وہ جانتا ہے کہ دوسرا شخص واقعی ایسا ہے، اللہ تعالیٰ اس کا محاسبہ کرنے والا ہے، اللہ تعالیٰ کے سامنے میں اس کی صفائی نہیں دیتا (کیونکہ وہ تو سب کو خوب جانتا ہے)“ وہیب نے خالد سے «وَيْحَكَ» کی بجائے «وَيْلَكَ» کے الفاظ بیان کیے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6061]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2662
| قطعت عنق صاحبك من كان منكم مادحا أخاه لا محالة فليقل أحسب فلانا والله حسيبه ولا أزكي على الله أحدا أحسبه كذا وكذا إن كان يعلم ذلك منه |
صحيح البخاري |
6061
| قطعت عنق صاحبك إن كان أحدكم مادحا لا محالة فليقل أحسب كذا وكذا إن كان يرى أنه كذلك وحسيبه الله ولا يزكي على الله أحدا |
صحيح البخاري |
6162
| قطعت عنق أخيك من كان منكم مادحا لا محالة فليقل أحسب فلانا والله حسيبه ولا أزكي على الله أحدا إن كان يعلم |
صحيح مسلم |
7502
| قطعت عنق صاحبك إن كان أحدكم مادحا أخاه لا محالة فليقل أحسب فلانا إن كان يرى أنه كذلك ولا أزكي على الله أحدا |
صحيح مسلم |
7502
| قطعت عنق صاحبك إذا كان أحدكم مادحا صاحبه لا محالة فليقل أحسب فلانا والله حسيبه ولا أزكي على الله أحدا أحسبه إن كان يعلم ذاك كذا وكذا |
سنن أبي داود |
4805
| قطعت عنق صاحبك إذا مدح أحدكم صاحبه لا محالة فليقل إني أحسبه كما يريد أن يقول ولا أزكيه على الله |
سنن ابن ماجه |
3744
| قطعت عنق صاحبك إن كان أحدكم مادحا أخاه فليقل أحسبه ولا أزكي على الله أحدا |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6061 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6061
حدیث حاشیہ:
لفظ ویحك کلمہ رحمت ہے اور ویلك کلمہ عذاب ہے، مطلب یہ ہوگا کہ جس کے لئے ویح بولا جائے تو معنی یہ ہوگا کہ افسوس تجھ پر اللہ رحم کرے اور جس پر لفظ ویلک بولیں گے تو معنی یہ ہوگا کہ افسوس اللہ تجھ پر عذاب کرے۔
تعریف میں، اسی طرح ہجو میں مبالغہ کرنا، بےہودہ شاعروں اور خوشامدی لوگوں کا کام ہے ایسی تعریف سے وہ شخص جس کی تعریف کرو پھول کر مغرور بن جاتا ہے اور جہل مرکب میں گرفتار ہو کر رہ جاتا ہے۔
لفظ ویحك کلمہ رحمت ہے اور ویلك کلمہ عذاب ہے، مطلب یہ ہوگا کہ جس کے لئے ویح بولا جائے تو معنی یہ ہوگا کہ افسوس تجھ پر اللہ رحم کرے اور جس پر لفظ ویلک بولیں گے تو معنی یہ ہوگا کہ افسوس اللہ تجھ پر عذاب کرے۔
تعریف میں، اسی طرح ہجو میں مبالغہ کرنا، بےہودہ شاعروں اور خوشامدی لوگوں کا کام ہے ایسی تعریف سے وہ شخص جس کی تعریف کرو پھول کر مغرور بن جاتا ہے اور جہل مرکب میں گرفتار ہو کر رہ جاتا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6061]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6061
حدیث حاشیہ:
(1)
انسان کو چاہیے کہ وہ کسی دوسرے کے باطن کی پورے وثوق اور یقین سے صفائی نہ دے اور نہ کسی کی پاکدامنی ہی کا دعویٰ کرے کیونکہ باطن کے حالات اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔
اسے کسی کی تعریف کرتے ہوئے صرف یہ کہنے کی اجازت ہے کہ میں اسے ایسا ایسا خیال کرتا ہوں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ لوگوں نے کہا:
آپ ہمارے سید ہیں۔
آپ نے فرمایا:
”سید اللہ ہے۔
“ لوگوں نے کہا:
آپ ہمارے لیے صاحب فضیلت اور صاحب جود وسخا ہیں تو آپ نے فرمایا:
”تم اس طرح کی بات تو کہہ سکتے ہو لیکن کہیں شیطان تمھیں اپنا وکیل نہ بنائے کہ ایسی بات کہہ دو جو میری شان کے مطابق نہ ہو۔
“ (سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 4806) (2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسلاف سے بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کی اس کے سامنے تعریف کرے تو اسے درج ذیل دعا پڑھنی چاہیے:
(اللَّهمّ اجْعَلْنِي خَيْرًا مِمَّا يَظُنُّونَ، وَاغْفِرْ لِي مَا لا يَعْلَمُونَ، وَلا تُؤَاخِذْنِي بِمَا يَقُولُونَ)
”اے اللہ! میرے متعلق جن امور کا انھیں علم نہیں مجھے معاف کر دے اور جو وہ کہتے ہیں اس کے متعلق میرا مؤاخذہ نہ کر اور مجھے ان کے گمان کے مطابق اچھا بنادے۔
“ (شعب الإیمان للبیھقي: 228/4، وصحیح الأدب المفرد للألباني: 282/1،رقم: 761/589)
(1)
انسان کو چاہیے کہ وہ کسی دوسرے کے باطن کی پورے وثوق اور یقین سے صفائی نہ دے اور نہ کسی کی پاکدامنی ہی کا دعویٰ کرے کیونکہ باطن کے حالات اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔
اسے کسی کی تعریف کرتے ہوئے صرف یہ کہنے کی اجازت ہے کہ میں اسے ایسا ایسا خیال کرتا ہوں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ لوگوں نے کہا:
آپ ہمارے سید ہیں۔
آپ نے فرمایا:
”سید اللہ ہے۔
“ لوگوں نے کہا:
آپ ہمارے لیے صاحب فضیلت اور صاحب جود وسخا ہیں تو آپ نے فرمایا:
”تم اس طرح کی بات تو کہہ سکتے ہو لیکن کہیں شیطان تمھیں اپنا وکیل نہ بنائے کہ ایسی بات کہہ دو جو میری شان کے مطابق نہ ہو۔
“ (سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 4806) (2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسلاف سے بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کی اس کے سامنے تعریف کرے تو اسے درج ذیل دعا پڑھنی چاہیے:
(اللَّهمّ اجْعَلْنِي خَيْرًا مِمَّا يَظُنُّونَ، وَاغْفِرْ لِي مَا لا يَعْلَمُونَ، وَلا تُؤَاخِذْنِي بِمَا يَقُولُونَ)
”اے اللہ! میرے متعلق جن امور کا انھیں علم نہیں مجھے معاف کر دے اور جو وہ کہتے ہیں اس کے متعلق میرا مؤاخذہ نہ کر اور مجھے ان کے گمان کے مطابق اچھا بنادے۔
“ (شعب الإیمان للبیھقي: 228/4، وصحیح الأدب المفرد للألباني: 282/1،رقم: 761/589)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6061]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3744
مدح کا بیان۔
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک آدمی کی تعریف کی تو آپ نے فرمایا: ”افسوس! تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی“، اس جملہ کو آپ نے کئی بار دہرایا، پھر فرمایا: ”تم میں سے اگر کوئی آدمی اپنے بھائی کی تعریف کرنا چاہے تو یہ کہے کہ میں ایسا سمجھتا ہوں، لیکن میں اللہ تعالیٰ کے اوپر کسی کو پاک نہیں کہہ سکتا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3744]
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک آدمی کی تعریف کی تو آپ نے فرمایا: ”افسوس! تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی“، اس جملہ کو آپ نے کئی بار دہرایا، پھر فرمایا: ”تم میں سے اگر کوئی آدمی اپنے بھائی کی تعریف کرنا چاہے تو یہ کہے کہ میں ایسا سمجھتا ہوں، لیکن میں اللہ تعالیٰ کے اوپر کسی کو پاک نہیں کہہ سکتا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3744]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
انسان ظاہر کے مطابق رائے قائم کرتا ہے۔
دل کی حقیقت اور کیفیت سے صرف اللہ تعالیٰ باخبر ہے۔
(2)
منہ پر تعریف کرنا منع ہے، تا ہم جس کی بابت یہ خطرہ نہ ہو کہ وہ تعریف سے کبر و غرور میں مبتلا ہو جائےگا، اس کی مناسب انداز سے تعریف کی جا سکتی ہے، جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض دفعہ حضرت ابو بکر ؓ وغیرہ بعض صحابہ کی تعریف فرمائی۔
فوائد و مسائل:
(1)
انسان ظاہر کے مطابق رائے قائم کرتا ہے۔
دل کی حقیقت اور کیفیت سے صرف اللہ تعالیٰ باخبر ہے۔
(2)
منہ پر تعریف کرنا منع ہے، تا ہم جس کی بابت یہ خطرہ نہ ہو کہ وہ تعریف سے کبر و غرور میں مبتلا ہو جائےگا، اس کی مناسب انداز سے تعریف کی جا سکتی ہے، جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض دفعہ حضرت ابو بکر ؓ وغیرہ بعض صحابہ کی تعریف فرمائی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3744]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6162
6162. حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک آدمی نے کسی دوسرے آدمی کی تعریف کی تو آپ نے فرمایا: افسوس تجھ پر! تم نے اپنی بھائی کی گردن کاٹ دی۔۔۔۔ آپ نے تین مرتبہ یہ الفاظ دہرائے۔ اگر تمہیں کسی کی تعریف کرنا ہو اور وہ اس کے متعلق جانتا بھی ہو تو اس طرح کہو ”فلاں کے متعلق میرا خیال یہ ہے یقینی طور پر اللہ ہی اس کا حساب جانتا ہے۔ میں تو اللہ کے مقابلے میں کسی کو نیک نہیں کہہ سکتا۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6162]
حدیث حاشیہ:
کیونکہ اس کواللہ کے علم کی خبر نہیں ہے۔
کیونکہ اس کواللہ کے علم کی خبر نہیں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6162]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2662
2662. حضرت ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی دوسرے شخص کی تعریف کی تو آپ نے کئی مرتبہ فرمایا: ”تجھ پر افسوس ہے!تم نے تو اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی۔“ پھر آپ نے تلقین فرمائی: ”تم میں سے اگرکوئی اپنے بھائی کی ضرور تعریف کرنا چاہتا ہے تو اسے یوں کہنا چاہیے کہ اللہ ہی فلاں شخص کے متعلق صحیح علم رکھتا ہے۔ میں اس کے مقابلے میں کسی کو پاک نہیں ٹھہراتا۔ میں اسے ایسا ایسا گمان کرتا ہوں بشرط یہ کہ وہ اس کی اس خوبی سے واقف ہو۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2662]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صفائی دینے والا ایک مرد ہی کافی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرد کی صفائی کا اعتبار کیا ہے لیکن ضروری ہے کہ وہ اس کی صفائی میں حد سے زیادہ بڑھنے کی بجائے حق گوئی سے کام لے۔
اگر کوئی شخص اپنی تعریف سن کر فخر میں آ جائے تو ایسے شخص کی تعریف سے بچنا چاہیے اور جس شخص سے اس کے کمال تقویٰ کے باعث فخر و تکبر کا خطرہ نہ ہو اس کی صفائی دینے اور تعریف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
اس کا طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
”اصل علم تو اللہ تعالیٰ کو ہے، اس کے علم کے مقابلے میں کسی کو پاک نہیں ٹھہرایا جا سکتا، البتہ اس شخص کے متعلق میں اچھا گمان رکھتا ہوں۔
“ (2)
کسی آدمی کی منہ پر تعریف کی جا سکتی ہے بشرطیکہ اس کے فخر میں مبتلا ہونے کا خطرہ نہ ہو، البتہ تعریف میں حد سے بڑھنا بہرحال ممنوع ہے، چنانچہ امام بخاری ؒ اس کے متعلق ایک دوسرا عنوان قائم کرتے ہیں۔
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صفائی دینے والا ایک مرد ہی کافی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرد کی صفائی کا اعتبار کیا ہے لیکن ضروری ہے کہ وہ اس کی صفائی میں حد سے زیادہ بڑھنے کی بجائے حق گوئی سے کام لے۔
اگر کوئی شخص اپنی تعریف سن کر فخر میں آ جائے تو ایسے شخص کی تعریف سے بچنا چاہیے اور جس شخص سے اس کے کمال تقویٰ کے باعث فخر و تکبر کا خطرہ نہ ہو اس کی صفائی دینے اور تعریف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
اس کا طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
”اصل علم تو اللہ تعالیٰ کو ہے، اس کے علم کے مقابلے میں کسی کو پاک نہیں ٹھہرایا جا سکتا، البتہ اس شخص کے متعلق میں اچھا گمان رکھتا ہوں۔
“ (2)
کسی آدمی کی منہ پر تعریف کی جا سکتی ہے بشرطیکہ اس کے فخر میں مبتلا ہونے کا خطرہ نہ ہو، البتہ تعریف میں حد سے بڑھنا بہرحال ممنوع ہے، چنانچہ امام بخاری ؒ اس کے متعلق ایک دوسرا عنوان قائم کرتے ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2662]
Sahih Bukhari Hadith 6061 in Urdu
وهيب بن خالد الباهلي ← خالد الحذاء