🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
68. باب التبسم والضحك:
باب: مسکرانا اور ہنسنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6086
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالطَّائِفِ قَالَ:" إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ"، فَقَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَبْرَحُ أَوْ نَفْتَحَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَاغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ" قَالَ: فَغَدَوْا فَقَاتَلُوهُمْ قِتَالًا شَدِيدًا وَكَثُرَ فِيهِمُ الْجِرَاحَاتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ" قَالَ: فَسَكَتُوا فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِالْخَبَرِ كُلِّهِ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے ابو العباس سائب نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف میں تھے (فتح مکہ کے بعد) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اللہ نے چاہا تو ہم یہاں سے کل واپس ہوں گے۔ آپ کے بعض صحابہ نے کہا کہ ہم اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک اسے فتح نہ کر لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہی بات ہے تو کل صبح لڑائی کرو۔ بیان کیا کہ دوسرے دن صبح کو صحابہ نے گھمسان کی لڑائی لڑی اور بکثرت صحابہ زخمی ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان شاءاللہ ہم کل واپس ہوں گے۔ بیان کیا کہ اب سب لوگ خاموش رہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔ حمیدی نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان نے پوری سند «خبر‏.» کے لفظ کے ساتھ بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6086]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو کل ہم واپس چلے جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا کہ جب تک ہم طائف کو فتح نہ کر لیں واپس نہیں جائیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہی بات ہے تو صبح لڑائی کرو۔ چنانچہ دوسرے دن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنگ کرنے گئے اور گھمسان کی لڑائی ہوئی، اس میں بکثرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم زخمی ہوئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» اگر اللہ نے چاہا کل ہم واپس ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیصلے پر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خاموش رہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی خاموشی پر ہنس پڑے۔ حمیدی رحمہ اللہ نے کہا: ہمیں سفیان رحمہ اللہ نے پوری سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6086]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمدثقة حافظ حجة
👤←👥الحميدي عبد الله بن الزبير، أبو بكر
Newالحميدي عبد الله بن الزبير ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة حافظ أجل أصحاب ابن عيينة
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمر العدوي ← الحميدي عبد الله بن الزبير
صحابي
👤←👥السائب بن فروخ المكي، أبو العباس
Newالسائب بن فروخ المكي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← السائب بن فروخ المكي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
7480
إنا قافلون غدا إن شاء الله فقال المسلمون نقفل ولم نفتح قال فاغدوا على القتال فغدوا فأصابتهم جراحات قال النبي إنا قافلون غدا إن شاء الله فكأن ذلك أعجبهم فتبسم رسول الله
صحيح البخاري
4325
إنا قافلون إن شاء الله فثقل عليهم وقالوا نذهب ولا نفتحه وقال مرة نقفل فقال اغدوا على القتال فغدوا فأصابهم جراح فقال إنا قافلون غدا إن شاء الله فأعجبهم فضحك النبي
صحيح البخاري
6086
إنا قافلون غدا إن شاء الله قال فسكتوا فضحك رسول الله
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6086 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6086
حدیث حاشیہ:
باب کا مطلب فضحك رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکلا کہ آپ ہنس دیئے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6086]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4325
4325. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا تو دشمن سے کچھ نہ پا سکے۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم ان شاءاللہ کل یہاں سے لوٹ جائیں گے۔ یہ بات مسلمانوں پر بہت گراں گزری اور وہ کہنے لگے: کیا ہم فتح کے بغیر واپس جائیں؟ آپ نے فرمایا: اچھا صبح جنگ کا آغاز کرو۔ چنانچہ انہوں نے صبح جنگ چھیڑ دی تو انہیں بہت زخم آئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل ان شاءاللہ ہم واپس چلیں گے۔ یہ سن کر مسلمان بہت خوش ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنسی آ گئی۔ کبھی سفیان نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تبسم فرمانے لگے۔ حمیدی نے کہا کہ ہم سے سفیان نے سارا واقعہ بیان کیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4325]
حدیث حاشیہ:
اس جنگ میں الٹا مسلمانوں ہی کا نقصان ہوا کیونکہ طائف والے قلعہ کے اندر تھے اور ایک برس کا ذخیرہ انہوں نے اس کے اندر رکھ لیا تھا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اٹھارہ دن یا پچیس دن یا اور کم وبیش اس کا محاصرہ کئے رہے۔
کافر قلعہ کے اندر سے مسلمانوں پر تیر برساتے رہے، لوہے کے ٹکڑے گرم کر کرکے پھینکتے جس سے کئی مسلمان شہید ہوگئے۔
آپ نے نوفل بن معاویہ ؓ سے مشورہ کیا، انہوں نے کہا یہ لوگ لومڑی کی طرح ہیں جو اپنے بل میں گھس گئی ہے۔
اگر آپ یہاں ٹھہرے رہیں گے تو لومڑی پکڑ پائیں گے اگر چھوڑ دیں گے تو لومڑی آپ کا کچھ نقصان نہیں کر سکتی۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4325]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4325
4325. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا تو دشمن سے کچھ نہ پا سکے۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم ان شاءاللہ کل یہاں سے لوٹ جائیں گے۔ یہ بات مسلمانوں پر بہت گراں گزری اور وہ کہنے لگے: کیا ہم فتح کے بغیر واپس جائیں؟ آپ نے فرمایا: اچھا صبح جنگ کا آغاز کرو۔ چنانچہ انہوں نے صبح جنگ چھیڑ دی تو انہیں بہت زخم آئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل ان شاءاللہ ہم واپس چلیں گے۔ یہ سن کر مسلمان بہت خوش ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنسی آ گئی۔ کبھی سفیان نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تبسم فرمانے لگے۔ حمیدی نے کہا کہ ہم سے سفیان نے سارا واقعہ بیان کیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4325]
حدیث حاشیہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہوازن سے حاصل شدہ مال غنیمت جعرانہ میں رکھا اور خود طائف کا محاصرہ کر لیا۔
لیکن اہل قلعہ نے وہاں اتنا سامان جمع کر رکھا تھا جو انھیں ایک سال کے لیے کافی تھا انھوں نے مسلمانوں پر تیروں کے ساتھ گرم سلاحیں باندھ کر پھینکیں۔
حافظ ابن حجر ؒ نے ابن شیبہ کے حوالے سے ایک روایت نقل کی ہے۔
کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف کا محاصرہ کیا تو صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی:
اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ثقیف کے تیروں نےہمیں جلا دیا ہے، آپ ان پر بددعا فرمائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی:
"اے اللہ!ثقیف کو ہدایت دے۔
" (المصنف لابن أبي شیبة: 108/11)
پھر آپ نے نوفل بن معاویہ ؓ سے مشورہ کیا تو انھوں نے عرض کی کہ یہ لوگ لومڑی کی طرح اپنے بل میں گھس گئے ہیں اگر آپ یہاں ٹھہریں گے تو ان پر قابو پانا ممکن ہے اور چھوڑنے کی صورت میں وہ آپ کا نقصان نہیں کر سکیں گے۔
ان کے مشورے کے بعد آپ نے وہاں سے کوچ کا پروگرام بنایا تو صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے اپنے جذبات کا اظہار کیا جیسا کہ حدیث میں ہے لڑائی شروع ہوئی تو مسلمان نیچے سے تیر پھینکتے تو نشانہ خطا جاتا اور دشمن اوپر سے تیر پھینکتے تو نشانہ خطانہ جاتا اب مسلمانوں کو محسوس ہوا کہ ان کا واپس جانا ہی بہتر ہےاس لیے جب دوسرے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"کل ہم واپس جائیں گے تو وہ خوش ہو گئے کیونکہ اوپر سے آنے والے تیروں سے بچنا بہت مشکل تھا۔
'' (فتح الباري: 56/8)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4325]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7480
7480. سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نےکہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف کا محاصرہ کیا لیکن ابھی فتح نہیں کیا تھا کہ آپ نے فرمایا: ہم ان شاء اللہ کل (مدینہ طیبہ) واپس چلے جائیں گے۔ مسلمانوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم فتح کیے بغیر ہی لوٹ جائیں؟ آپ نے فرمایا: اگر تمہارا یہی عزم ہے تو پھر کل صبح لڑائی شروع کرو۔ صبح انہوں نے جنگ کی تو بہت زخمی ہوگئے۔ (یہ دیکھ کر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم ان شاء اللہ کل واپس جائیں گے۔ اس پر مسلمان بہت خوش ہوئے تب (یہ دیکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7480]
حدیث حاشیہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ حنین سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف کا محاصرہ کیا۔
چونکہ وہ بڑے نشانہ باز اور تیر انداز تھے، اس لیے اس قلعے کو فتح کرنا مشکل تھا۔
وہاں لمبا عرصہ ٹھہرنے کی ضرورت تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر شفقت فرماتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم کل مدینہ طیبہ لوٹ جائیں گے لیکن مسلمانوں کو یہ پروگرام پسند نہ آیا اور انھوں نے اسے فتح کرنے کا عزم کیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اگر تمہارا اسے فتح کرنے کا پروگرام ہے تو صبح جنگ کا آغاز کردو۔
چنانچہ جنگ شروع کر دی گئی۔
مسلمانوں کو کافی نقصان پہنچا اور انھیں کاری زخم لگے۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی یہ حالت دیکھی تو پھر فرمایا:
ان شاء اللہ ہم کل واپس لوٹ جائیں گے۔
اس عزم پر مسلمان بہت خوش ہوئے تب انھیں پتا چلا کہ خیروبرکت تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر عمل کرنے میں ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے عزم کی تبدیلی پر مسکرا دیے کہ ابھی کل کی بات ہے کہ لڑنے پر آمادہ تھے اور آج واپسی کے لیے خوش ہیں۔

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے اللہ تعالیٰ کی مشیت کو بیان کیا ہے کہ پہلے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپسی کا عزم کیا اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف رکھا لیکن اللہ تعالیٰ نے نہ چاہا اور اسکے اسباب مہیا نہ فرمائے۔
اگلے دن پھررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ لوٹ جانے کا عزم کیا اور اسے اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف رکھا، اب یہ پروگرام اللہ تعالیٰ کی مشیت کے عین مطابق تھا۔
اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اسباب اور ذرائع مہیا کر دیے۔
بہرحال اللہ تعالیٰ کی مشیت کسی کو محتاج نہیں، وہ تمام جہان میں کارفرما ہے۔
اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کر گزرتا ہے وہ بے نیاز اور بے پروا ہے، اس سلسلے میں کسی کا محتاج نہیں۔
بہرحال ہم اس بات کے پابند ہیں کہ اپنے آئندہ کے پروگرام اللہ تعالیٰ کی مشیت سے وابستہ کریں۔
اس میں کامیابی ہوتی ہے یا نہیں ہوتی، اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے کیونکہ کامیابی یا ناکامی اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اور تم نہیں چاہتے مگر یہ کہ اللہ چاہے جو رب العالمین ہے۔
(التکویر 29)

مختصر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کی دو قسمیں ہیں:
۔
ارادہ کونیہ۔
۔
ارادہ شرعیہ۔
ارادہ کونیہ جو مشیت کے معنی میں ہوجیسا کہ قرآن میں ہے:
اگر اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہو کہ تمھیں گمراہ کر دے۔
(ھود 34)
ارادہ شرعیہ جو محبت کے معنی میں ہو جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اللہ توچاہتا ہے کہ تم پر توجہ دے۔
(النساء 27/4)
لیکن اللہ تعالیٰ کے کسی چیز کو پسند فرمانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ چیز وقوع پذیر بھی ہو جائے، البتہ جب ارادہ کونیہ فرماتا ہے، یعنی کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ چیز فوراً پیدا ہو جاتی ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
بس اس کا حکم، جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے یہ (ہوتا ہے)
کہ وہ اسے کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔
(یٰس 82)
البتہ شرعی ارادے میں اس کا وقوع پذیر ہونا ضروری نہیں کیونکہ محبوب چیز کبھی وقوع پذیر ہوتی ہے اور کبھی نہیں ہوتی۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7480]

Sahih Bukhari Hadith 6086 in Urdu