🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
73. باب من كفر أخاه بغير تأويل فهو كما قال:
باب: جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کو جس میں کفر کی وجہ نہ ہو کافر کہے وہ خود کافر ہو جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6103
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِأَخِيهِ يَا كَافِرُ فَقَدْ بَاءَ بِهِ أَحَدُهُمَا"، وَقَالَ عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے محمد بن یحییٰ ذہلی (یا محمد بن بشار) اور احمد بن سعید دارمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم کو علی بن مبارک نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن ابی کثیر نے، انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص اپنے کسی بھائی کو کہتا ہے کہ اے کافر! تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہو گیا۔ اور عکرمہ بن عمار نے یحییٰ سے بیان کیا کہ ان سے عبداللہ بن یزید نے کہا، انہوں نے ابوسلمہ سے سنا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6103]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنے بھائی کو کہے: «يَا كَافِرُ» اے کافر! تو ان دونوں میں سے ایک ضرور کافر ہو جاتا ہے۔ عکرمہ بن عمار نے یحییٰ سے، انہوں نے عبداللہ بن یزید سے، انہوں نے ابو سلمہ سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6103]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥عبد الله بن يزيد القرشي، أبو بكر، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن يزيد القرشي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← عبد الله بن يزيد القرشي
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥عكرمة بن عمار العجلي، أبو عمار
Newعكرمة بن عمار العجلي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
صدوق يغلط
👤←👥أبو هريرة الدوسي
Newأبو هريرة الدوسي ← عكرمة بن عمار العجلي
صحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥علي بن المبارك الهنائي
Newعلي بن المبارك الهنائي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة
👤←👥عثمان بن عمر العبدي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عدي
Newعثمان بن عمر العبدي ← علي بن المبارك الهنائي
ثقة
👤←👥أحمد بن سعيد الدارمي، أبو جعفر
Newأحمد بن سعيد الدارمي ← عثمان بن عمر العبدي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← أحمد بن سعيد الدارمي
ثقة حافظ جليل
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6103
قال الرجل لأخيه يا كافر فقد باء به أحدهما
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6103 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6103
حدیث حاشیہ:
جس کو کافر کہا وہ واقعہ میں کافر ہے تب تو وہ کافر ہے اور جب وہ کافر نہیں تو کہنے والا کافر ہو گیا۔
اسی لئے اہلحدیث نے تکفیر میں بڑی احتیاط برتی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم کسی اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے لیکن متاخرین فقہاء اپنی کتابوں میں ادنیٰ ادنیٰ باتوں پر اپنے مخالفین کی تکفیر کرتے ہیں، صاحب در مختار نے بڑی جرات سے یہ فتویٰ درج کر دیا۔
فلعنة ربنا أعداد رمل علی من رد قول أبي حنیفة یعنی جو حضرت امام ابو حنیفہ کے کسی قول کو رد کر دے اس پر اتنی لعنت ہو جتنے دنیا میں ذرات ہیں۔
کہئے اس اصول کے موافق تو سارے ائمہ دین ملعون ٹھہرے جنہوں نے بہت سے مسائل میں حضرت ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے قول کو رد کیا ہے۔
خود حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں نے کتنے ہی مسائل میں حضرت امام سے اختلاف کیا ہے تو کیا صاحب درمختار کے نزدیک وہ بھی سب ملعون اور مطرود تھے۔
حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو ایسے لوگوں نے پیغمبر سمجھ لیا ہے یا آیت اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ کے تحت ان کو خدا بنا لیا ہے۔
حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ایک عالم دین تھے، ان سے کتنے ہی مسائل میں خطا ہوئی وہ معصوم نہیں تھے۔
اس حدیث سے ان لوگوں کو سبق لینا چاہئے جو بلا تحقیق محض گمان کی بنا پر مسلمانوں کو مشرک یا کافر کہہ دیتے ہیں۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6103]

Sahih Bukhari Hadith 6103 in Urdu