🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
108. باب تحويل الاسم إلى اسم أحسن منه:
باب: کسی برے نام کو بدل کر اچھا نام رکھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6192
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" أَنَّ زَيْنَبَ كَانَ اسْمُهَا بَرَّةَ، فَقِيلَ: تُزَكِّي نَفْسَهَا، فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ".
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں عطاء بن ابی میمونہ نے، انہیں ابورافع نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا کا نام برہ تھا، کہا جانے لگا کہ وہ اپنی پاکی ظاہر کرتی ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام زینب رکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6192]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا نام «بَرَّة» تھا۔ کہا گیا کہ وہ اپنی پاکی ظاہر کرتی ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام زینب رکھ دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6192]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥نفيع بن رافع المدني، أبو رافع
Newنفيع بن رافع المدني ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥عطاء بن أبي ميمونة البصري، أبو معاذ
Newعطاء بن أبي ميمونة البصري ← نفيع بن رافع المدني
صدوق حسن الحديث
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عطاء بن أبي ميمونة البصري
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥صدقة بن الفضل المروزي، أبو الفضل
Newصدقة بن الفضل المروزي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6192
زينب كان اسمها برة فقيل تزكي نفسها فسماها رسول الله زينب
صحيح مسلم
5607
سماها رسول الله زينب
سنن ابن ماجه
3732
سماها رسول الله زينب
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6192 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6192
حدیث حاشیہ:
بعض لوگوں نے کہا کہ یہ زینب بنت جحش ام المؤمنین کا نام رکھا گیا تھا۔
حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے ادب المفرد میں نکالا کہ جویریہ کا بھی پہلے نام برہ رکھا گیا تھا تب آپ نے بدل کر جویریہ رکھ دیا۔
لفظ برہ بہت نیکو کار کے معنی میں ہے۔
یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہیں آیا کیونکہ اس میں خود پسندی کی جھلک آتی تھی۔
لفظ زینب کے معنی موٹے جسم والی عورت۔
حضرت زینب اسم با مسمیٰ تھیں رضی اللہ عنہا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6192]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6192
حدیث حاشیہ:
ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کا نام تبدیل کیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کا نام تبدیل کیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا ہوں جیسا کہ بعض روایات میں اس کی صراحت ہے۔
(صحیح مسلم، الأدب،حدیث: 5609(2142)
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کا نام بھی برہ تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر جویریہ رکھا اور آپ یہ ناپسند کرتے تھے کہ یوں کہا جائے:
وہ برہ کے پاس چلے گئے۔
(صحیح مسلم، الأدب، حدیث: 5606(2140)
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا نام بھی برہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام میمونہ رکھا۔
(الأدب المفرد، حدیث: 832)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی کا نام عاصیہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام جمیلہ رکھا۔
(صحیح مسلم، الأدب، حدیث: 5605(2139)
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی صحابہ اور صحابیات کے نام تبدیل کیے جن کی فہرست کتب حدیث میں دیکھی جا سکتی ہے۔
(سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 4956)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6192]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3732
نا مناسب ناموں کی تبدیلی کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں زینب کا نام بّرہ تھا (یعنی نیک بخت اور صالحہ) لوگوں نے اعتراض کیا کہ یہ اپنی تعریف آپ کرتی ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر زینب رکھ دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3732]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اچھے نام میں تعریف کا پہلو تو ہوتا ہی ہے لیکن بعض ناموں میں یہ زیادہ واضح ہوتا ہے۔
ایسے ناموں سے اجتناب بہتر ہے۔

(2)
زینب ایک قسم کی خوشبودار نباتات کا نام ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3732]

Sahih Bukhari Hadith 6192 in Urdu