صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
115. باب كنية المشرك:
باب: مشرک کی کنیت کا بیان۔
حدیث نمبر: Q6207
وَقَالَ مِسْوَرٌ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِلَّا أَنْ يُرِيدَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ
اور مسور بن مخرمہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ ابوطالب کا بیٹا میری بیٹی کو طلاق دیدے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: Q6207]
حدیث نمبر: 6207
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ. ح حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَخْبَرَهُ" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ عَلَى حِمَارٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ فَدَكِيَّةٌ وَأُسَامَةُ وَرَاءَهُ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِي بَنِي حَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ، فَسَارَا حَتَّى مَرَّا بِمَجْلِسٍ فِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ، فَإِذَا فِي الْمَجْلِسِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ وَالْيَهُودِ، وَفِي الْمُسْلِمِينَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَلَمَّا غَشِيَتِ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ، خَمَّرَ ابْنُ أُبَيٍّ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ وَقَالَ: لَا تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا، فَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ وَقَفَ فَنَزَلَ فَدَعَاهُمْ إِلَى اللَّهِ، وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ: أَيُّهَا الْمَرْءُ لَا أَحْسَنَ مِمَّا تَقُولُ، إِنْ كَانَ حَقًّا فَلَا تُؤْذِنَا بِهِ فِي مَجَالِسِنَا، فَمَنْ جَاءَكَ فَاقْصُصْ عَلَيْهِ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاغْشَنَا فِي مَجَالِسِنَا فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ، فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْيَهُودُ حَتَّى كَادُوا يَتَثَاوَرُونَ، فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَتُوا، ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَابَّتَهُ، فَسَارَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيْ سَعْدُ، أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالَ أَبُو حُباب؟ يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ"، قَالَ: كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ اعْفُ عَنْهُ وَاصْفَحْ، فَوَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ لَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالْحَقِّ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ، وَلَقَدِ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبَحْرَةِ عَلَى أَنْ يُتَوِّجُوهُ وَيُعَصِّبُوهُ بِالْعِصَابَةِ، فَلَمَّا رَدَّ اللَّهُ ذَلِكَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَ شَرِقَ بِذَلِكَ فَذَلِكَ فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ، فَعَفَا عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ يَعْفُونَ عَنِ الْمُشْرِكِينَ وَأَهْلِ الْكِتَابِ كَمَا أَمَرَهُمُ اللَّهُ، وَيَصْبِرُونَ عَلَى الْأَذَى، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ سورة آل عمران آية 186 الْآيَةَ وَقَالَ: وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ سورة البقرة آية 109، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَأَوَّلُ فِي الْعَفْوِ عَنْهُمْ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ بِهِ حَتَّى أَذِنَ لَهُ فِيهِمْ، فَلَمَّا غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرًا، فَقَتَلَ اللَّهُ بِهَا مَنْ قَتَلَ مِنْ صَنَادِيدِ الْكُفَّارِ وَسَادَةِ قُرَيْشٍ، فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مَنْصُورِينَ غَانِمِينَ مَعَهُمْ أُسَارَى مِنْ صَنَادِيدِ الْكُفَّارِ، وَسَادَةِ قُرَيْشٍ. قَالَ ابْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ: هَذَا أَمْرٌ قَدْ تَوَجَّهَ، فَبَايِعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَأَسْلَمُوا.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے (دوسری سند) اور ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابی عتیق نے بیان کیا، ان سے ابن ابی شہاب نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر نے اور انہیں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر فدک کا بنا ہوا ایک کپڑا بچھا ہوا تھا، اسامہ آپ کے پیچھے سوار تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی حارث بن خزرج میں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے، یہ واقعہ غزوہ بدر سے پہلے کا ہے یہ دونوں روانہ ہوئے اور راستے میں ایک مجلس سے گزرے جس میں عبداللہ بن ابی ابن سلول بھی تھا۔ عبداللہ نے ابھی تک اپنے اسلام کا اعلان نہیں کیا تھا۔ اس مجلس میں کچھ مسلمان بھی تھے۔ بتوں کی پرستش کرنے والے کچھ مشرکین بھی تھے اور کچھ یہودی بھی تھے۔ مسلمان شرکاء میں عبداللہ بن رواحہ بھی تھے۔ جب مجلس پر (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی) سواری کا غبار اڑ کر پڑا تو عبداللہ بن ابی نے اپنی چادر ناک پر رکھ لی اور کہنے لگا کہ ہم پر غبار نہ اڑاؤ، اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (قریب پہنچنے کے بعد) انہیں سلام کیا اور کھڑے ہو گئے۔ پھر سواری سے اتر کر انہیں اللہ کی طرف بلایا اور قرآن مجید کی آیتیں انہیں پڑھ کر سنائیں۔ اس پر عبداللہ بن ابی ابن سلول نے کہا کہ بھلے آدمی جو کلام تم نے پڑھا اس سے بہتر کلام نہیں ہو سکتا۔ اگرچہ واقعی یہ حق ہے مگر ہماری مجلسوں میں آ کر اس کی وجہ سے ہمیں تکلیف نہ دیا کرو۔ جو تمہارے پاس جائے بس اس کو یہ قصے سنا دیا کرو۔ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ضرور، یا رسول اللہ! آپ ہماری مجلسوں میں بھی تشریف لایا کریں کیونکہ ہم اسے پسند کرتے ہیں۔ اس معاملہ پر مسلمانوں، مشرکوں اور یہودیوں کا جھگڑا ہو گیا اور قریب تھا کہ ایک دوسرے کے خلاف ہاتھ اٹھا دیں۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں خاموش کرتے رہے آخر جب سب لوگ خاموش ہو گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر بیٹھے اور روانہ ہوئے۔ جب سعد بن عبادہ کے یہاں پہنچے تو ان سے فرمایا کہ اے سعد! تم نے نہیں سنا آج ابوحباب نے کس طرح باتیں کی ہیں۔ آپ کا اشارہ عبداللہ بن ابی کی طرف تھا کہ اس نے یہ باتیں کہی ہیں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بولے، میرا باپ آپ پر صدقے ہو، یا رسول اللہ! آپ اسے معاف فرما دیں اور اس سے درگذر فرمائیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ پر کتاب نازل کی ہے اللہ نے آپ کو سچا کلام دے کر یہاں بھیجا جو آپ پر اتارا۔ آپ کے تشریف لانے سے پہلے اس شہر (مدینہ منورہ) کے باشندے اس پر متفق ہو گئے تھے کہ اسے (عبداللہ بن ابی کو) شاہی تاج پہنا دیں اور شاہی عمامہ باندھ دیں لیکن اللہ نے سچا کلام دے کر آپ کو یہاں بھیج دیا اور یہ تجویز موقوف رہی تو وہ اس کی وجہ سے چڑ گیا اور جو کچھ آپ نے آج ملاحظہ کیا، وہ اسی جلن کی وجہ سے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی کو معاف کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ، مشرکین اور اہل کتاب سے جیسا کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ درگزر کیا کرتے تھے اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں پر صبر کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ”تم ان لوگوں سے جنہیں کتاب دی گئی ہے (اذیت دہ باتیں) سنو گے۔“ دوسرے موقع پر ارشاد فرمایا ”بہت سے اہل کتاب خواہش رکھتے ہیں۔“ الخ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں معاف کرنے کے لیے اللہ کے حکم کے مطابق توجیہ کیا کرتے تھے۔ بالآخر آپ کو (جنگ کی) اجازت دی گئی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کیا اور اللہ کے حکم سے اس میں کفار کے بڑے بڑے بہادر اور قریش کے سردار قتل کئے گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ فتح مند اور غنیمت کا مال لیے ہوئے واپس ہوئے، ان کے ساتھ کفار قریش کے کتنے ہی بہادر سردار قید بھی کر کے لائے تو اس وقت عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے بت پرست مشرک ساتھی کہنے لگے کہ اب ان کا کام جم گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لو، اس وقت انہوں نے اسلام پر بیعت کی اور بظاہر مسلمان ہو گئے (مگر دل میں نفاق رہا)۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6207]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر فدک کی بنی ہوئی چادر بچھی تھی، جبکہ اسامہ رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سوار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ بنی حارث بن خزرج میں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت (بیمار پرسی) کے لیے تشریف لے جا رہے تھے، یہ واقعہ غزوہ بدر سے پہلے کا ہے۔ دونوں حضرات چلتے رہے یہاں تک کہ ایک مجلس کے پاس سے گزرے جس میں عبداللہ بن ابی بن سلول بھی تھا، جبکہ وہ ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا۔ اس مجلس میں کچھ مسلمان بھی تھے اور بتوں کی پرستش کرنے والے مشرک اور یہودی بھی تھے۔ مسلمانوں میں حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، جب مجلس پر سواری کا غبار اڑ کر پڑا تو عبداللہ بن ابی نے چادر سے اپنی ناک ڈھانپ لی اور کہنے لگا: ”ہم پر غبار نہ اڑاؤ۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مجلس کو سلام کیا۔ پھر وہاں ٹھہر گئے اور سواری سے اترے اور انہیں اللہ کے دین کی دعوت دی، نیز انہیں قرآن پڑھ کر سنایا۔ عبداللہ بن ابی نے کہا: ”اے بھلے آدمی! جو کچھ تم نے پڑھ کر سنایا ہے اس سے بہتر کوئی کلام نہیں ہو سکتا، اگرچہ یہ حق ہی ہے مگر ہماری مجالس میں آ کر اس کی وجہ سے ہمیں اذیت نہ دیا کرو، ہاں جو تمہارے پاس آئے اسے یہ قصے سنا دیا کرو۔“ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ہماری مجالس میں ضرور تشریف لایا کریں، ہم اسے پسند کرتے ہیں۔“ اس معاملے پر مسلمانوں، مشرکین اور یہودیوں کا باہمی جھگڑا ہو گیا۔ قریب تھا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی پر اتر آئیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں خاموش کراتے رہے۔ آخر جب تمام لوگ خاموش ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر بیٹھ کر (وہاں سے) تشریف لے گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے سعد! کیا تم نے نہیں سنا کہ آج ابو حباب نے کس طرح کی باتیں کی ہیں؟“ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ عبداللہ بن ابی کی طرف تھا) ”اس نے ایسا ایسا کہا ہے۔“ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ اسے معاف کر دیں اور اس سے درگزر فرمائیں۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے! اللہ تعالیٰ نے وہ حق آپ کو عطا فرما دیا ہے جو آپ پر اتارا ہے، آپ کے تشریف لانے سے پہلے اس بستی (مدینہ طیبہ) کے باشندے اس امر پر متفق ہو گئے تھے کہ اس کے سر پر تاج رکھیں اور اسے سرداروں کی سی پگڑی باندھیں، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس سچے کلام کے ذریعے آپ کو مبعوث فرمایا تو وہ اس بات سے چڑ گیا اور جو کچھ آپ نے آج ملاحظہ فرمایا ہے وہ اسی جلن کی وجہ سے ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (عبداللہ بن ابی کو) معاف کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اللہ کے حکم کے مطابق مشرکین اور اہل کتاب سے اسی طرح درگزر کیا کرتے تھے اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں پر صبر کیا کرتے تھے جس طرح انہیں اللہ نے حکم دیا تھا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا﴾ [سورة آل عمران: 186] ”تم یقیناً ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے (تکلیف دہ باتیں) ضرور سنو گے۔“ اور دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُم مِّن بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا﴾ [سورة البقرة: 109] ”اہل کتاب میں سے بہت سے یہ خواہش کرتے ہیں (کہ تم کو ایمان لانے کے بعد کافر بنا دیں)“، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں معاف کرنے کے متعلق اللہ کے حکم کے مطابق عمل کیا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ کو ان کے خلاف جہاد کرنے کی اجازت عطا فرمائی گئی۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کا معرکہ لڑا اور اللہ کے حکم سے اس میں کفار کے بڑے بڑے بہادر اور قریش کے سردار قتل کیے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ فتح مند ہو کر اور مال غنیمت لے کر لوٹے، ان کے ساتھ کافروں کے بڑے بڑے سرغنے اور قریش کے سردار قیدی بھی تھے۔ اس وقت عبداللہ بن ابی اور اس کے مشرک ساتھیوں اور دیگر بت پرستوں نے کہا: ”اب اسلام کا معاملہ غالب آ چکا ہے“، چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کر لی اور (بظاہر) مسلمان ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6207]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5663
| ركب على حمار على إكاف على قطيفة فدكية وأردف أسامة وراءه يعود سعد بن عبادة قبل وقعة بدر مر بمجلس فيه عبد الله بن أبي ابن سلول وذلك قبل أن يسلم عبد الله وفي المجلس أخلاط من المسلمين والمشركين عبدة الأوثان واليهود وفي المجلس عبد الله بن رواحة فلما غشيت المجل |
صحيح البخاري |
2987
| ركب على حمار على إكاف عليه قطيفة وأردف أسامة وراءه |
صحيح البخاري |
5964
| ركب على حمار على إكاف عليه قطيفة فدكية وأردف أسامة وراءه |
صحيح البخاري |
6207
| ركب على حمار عليه قطيفة فدكية وأسامة وراءه يعود سعد بن عبادة في بني حارث بن الخزرج قبل وقعة بدر مرا بمجلس فيه عبد الله بن أبي ابن سلول وذلك قبل أن يسلم عبد الله بن أبي فإذا في المجلس أخلاط من المسلمين والمشركين عبدة الأوثان واليهود وفي المسلمين عبد الله ب |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6207 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6207
حدیث حاشیہ:
سند میں عروہ بن زبیر فقہائے سبعہ مدینہ سے ہیں جن کے اسماء گرامی اس نظم میں ہیں۔
إذا قیل من في العلم سبعة أبحر روایتھم لیست عن العلم خارجة فقل ھم عبیداللہ عروة قاسم سعید أبو بکر سلیمان خارجة۔
یہ ساتوں بزرگ مدینہ طیبہ میں ایک ہی زمانے میں تھے۔
اکثر ان میں سے 94ھ میں فوت ہوئے تو اس سال کا نام ہی عام الفقہاء پڑ گیا آخر باری باری 106ھ یا 107ھ تک سب رخصت ہوگئے۔
رحمهم اللہ أجمعین۔
سند میں عروہ بن زبیر فقہائے سبعہ مدینہ سے ہیں جن کے اسماء گرامی اس نظم میں ہیں۔
إذا قیل من في العلم سبعة أبحر روایتھم لیست عن العلم خارجة فقل ھم عبیداللہ عروة قاسم سعید أبو بکر سلیمان خارجة۔
یہ ساتوں بزرگ مدینہ طیبہ میں ایک ہی زمانے میں تھے۔
اکثر ان میں سے 94ھ میں فوت ہوئے تو اس سال کا نام ہی عام الفقہاء پڑ گیا آخر باری باری 106ھ یا 107ھ تک سب رخصت ہوگئے۔
رحمهم اللہ أجمعین۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6207]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2987
2987. حضرت اسامہ بن زید ؓسے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر سوار ہوئے جس کی زین پر ایک دھاری دار چادر پڑی تھی اور آپ نے اسامہ ؓ کو اپنے پیچھے بٹھایا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2987]
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا کہ ایک گدھے پر دو آدمی سوار ہوسکتے ہیں‘ بشرطیکہ وہ طاقتور ہو لفظ إکاف گدھے کے پالان کے لئے اسی طرح مستعمل ہے جس طرح گھوڑے کے لئے لفظ سرج مستعمل ہے۔
معلوم ہوا کہ ایک گدھے پر دو آدمی سوار ہوسکتے ہیں‘ بشرطیکہ وہ طاقتور ہو لفظ إکاف گدھے کے پالان کے لئے اسی طرح مستعمل ہے جس طرح گھوڑے کے لئے لفظ سرج مستعمل ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2987]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5663
5663. حضرت اسامہ بن زیدسے روایت ہے انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ گدھے کے پالان (جھول یا کاٹھی) پر فدک کی چادر ڈال کر اس پر سوار ہوئے اور اسامہ بن زید ؓ کو اپنے پیچھے سوار کیا۔ آپ غزوہ بدر سے پہلے حضرت سعد بن عبادہ ؓ کی عیادت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے آپ چلتے رہے کہ ایک مجلس کے پاس سے گزرے جس میں عبداللہ بن ابی ابن سلول بھی تھا وہ ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا۔ اس مجلس میں ملے جلے لوگ مسلمان، مشرک یعنی بت پرست اور یہودی تھے۔ ان میں عبداللہ بن رواحہ ؓ بھی تھے۔ جب سواری کی گرد و غبار مجلس تک پہنچی تو عبداللہ بن ابی چادر سے اپنی ناک ڈھانپ لی اور کہنے لگا کہ ہم پر غبار نہ اُڑاؤ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا اور سواری روک کر وہاں اتر گئے۔ پھر آپ نے انہیں دعوت اسلام دی اور قرآن کریم پڑھ کر سنایا تو عبداللہ بن ابی نے کہا: تمہاری باتیں میری سمجھ میں نہیں آتیں اگر حق بھی ہیں تو ہماری۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:5663]
حدیث حاشیہ:
اس موقع پر آنحضرت گدھے پر سوار ہو کر مذکورہ صورت میں تشریف لے گئے تھے۔
باب اور حدیث میں یہی مطابقت ہے۔
اس میں عبداللہ بن ابی منافق کا ذکر ضمنی طور پر آیا ہے۔
یہ منافق آپ کے مدینہ آنے سے پہلے اپنی بادشاہی کا خواب دیکھ رہا تھا جو آپ کی تشریف آوری سے غلط ہو گیا، اسی لیے یہ بظاہر مسلمان ہو کر بھی آخر وقت تک اسلام کی بیخ کنی کے درپے رہا۔
اس موقع پر آنحضرت گدھے پر سوار ہو کر مذکورہ صورت میں تشریف لے گئے تھے۔
باب اور حدیث میں یہی مطابقت ہے۔
اس میں عبداللہ بن ابی منافق کا ذکر ضمنی طور پر آیا ہے۔
یہ منافق آپ کے مدینہ آنے سے پہلے اپنی بادشاہی کا خواب دیکھ رہا تھا جو آپ کی تشریف آوری سے غلط ہو گیا، اسی لیے یہ بظاہر مسلمان ہو کر بھی آخر وقت تک اسلام کی بیخ کنی کے درپے رہا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5663]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5964
5964. حضرت اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان تھا اور اس پر فدک کی بنی ہوئی چادر تھی آپ نے اسامہ کو اپنے پیچھے بٹھایا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5964]
حدیث حاشیہ:
اس میں اشارہ ہے کہ جب آدمی اپنے سواری پر بیٹھے تو گویا وہ سواری کا لباس بن جاتا ہے۔
اگر جانور طاقتور ہو تو دو یا تین تک ایک جانور پر سواری کر سکتے ہیں مگر کمزور پر نہیں۔
اس میں اشارہ ہے کہ جب آدمی اپنے سواری پر بیٹھے تو گویا وہ سواری کا لباس بن جاتا ہے۔
اگر جانور طاقتور ہو تو دو یا تین تک ایک جانور پر سواری کر سکتے ہیں مگر کمزور پر نہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5964]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5663
5663. حضرت اسامہ بن زیدسے روایت ہے انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ گدھے کے پالان (جھول یا کاٹھی) پر فدک کی چادر ڈال کر اس پر سوار ہوئے اور اسامہ بن زید ؓ کو اپنے پیچھے سوار کیا۔ آپ غزوہ بدر سے پہلے حضرت سعد بن عبادہ ؓ کی عیادت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے آپ چلتے رہے کہ ایک مجلس کے پاس سے گزرے جس میں عبداللہ بن ابی ابن سلول بھی تھا وہ ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا۔ اس مجلس میں ملے جلے لوگ مسلمان، مشرک یعنی بت پرست اور یہودی تھے۔ ان میں عبداللہ بن رواحہ ؓ بھی تھے۔ جب سواری کی گرد و غبار مجلس تک پہنچی تو عبداللہ بن ابی چادر سے اپنی ناک ڈھانپ لی اور کہنے لگا کہ ہم پر غبار نہ اُڑاؤ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا اور سواری روک کر وہاں اتر گئے۔ پھر آپ نے انہیں دعوت اسلام دی اور قرآن کریم پڑھ کر سنایا تو عبداللہ بن ابی نے کہا: تمہاری باتیں میری سمجھ میں نہیں آتیں اگر حق بھی ہیں تو ہماری۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:5663]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر سوار ہو کر اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا کر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی تیمارداری کے لیے تشریف لے گئے۔
امام بخاری رحمہ اللہ کا یہ حدیث پیش کرنے سے یہی مقصد ہے۔
(2)
حدیث میں عبداللہ بن ابی کا ذکر ضمنی طور پر آ گیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ طیبہ آمد سے پہلے یہ منافق اپنی سرداری کے خواب دیکھ رہا تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے خاک میں مل گئے، اس لیے یہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر آخر وقت تک اسلام کو ختم کرنے کے درپے رہا، پھر غم کے گھونٹ بھرتے بھرتے اسے موت نے آ لیا۔
اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ وہی معاملہ کرے جس کے وہ لائق ہے۔
(1)
اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر سوار ہو کر اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا کر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی تیمارداری کے لیے تشریف لے گئے۔
امام بخاری رحمہ اللہ کا یہ حدیث پیش کرنے سے یہی مقصد ہے۔
(2)
حدیث میں عبداللہ بن ابی کا ذکر ضمنی طور پر آ گیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ طیبہ آمد سے پہلے یہ منافق اپنی سرداری کے خواب دیکھ رہا تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے خاک میں مل گئے، اس لیے یہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر آخر وقت تک اسلام کو ختم کرنے کے درپے رہا، پھر غم کے گھونٹ بھرتے بھرتے اسے موت نے آ لیا۔
اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ وہی معاملہ کرے جس کے وہ لائق ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5663]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5964
5964. حضرت اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان تھا اور اس پر فدک کی بنی ہوئی چادر تھی آپ نے اسامہ کو اپنے پیچھے بٹھایا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5964]
حدیث حاشیہ:
(1)
سواری کی زینت یہ ہے کہ اس پر پالان رکھا جائے، پھر اس پر بہترین چادر بچھائی جائے اس طرح وہ سواری انسان کے لیے بھی باعث زینت ہے جس کی طرف قرآن کریم نے اشارہ کیا ہے۔
ایسے حالات میں انسان کو چاہیے کہ وہ اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کسی ضرورت مند کو سواری پر اپنے پیچھے بٹھا لے، اس سے وہ زینت قطعاً متاثر نہیں ہو گی۔
(2)
دور حاضر میں لمبی لمبی کاریں اس مقصد کے لیے کام میں لائی جاتی ہیں جو انسان کے لیے زینت کا کام بھی دیتی ہیں، اس لیے اگر کار میں جگہ ہو اور پردہ داری متاثر نہ ہوتا ہو تو کسی مسافر کو ساتھ بٹھا لینا باعث اجروثواب ہے۔
واللہ أعلم
(1)
سواری کی زینت یہ ہے کہ اس پر پالان رکھا جائے، پھر اس پر بہترین چادر بچھائی جائے اس طرح وہ سواری انسان کے لیے بھی باعث زینت ہے جس کی طرف قرآن کریم نے اشارہ کیا ہے۔
ایسے حالات میں انسان کو چاہیے کہ وہ اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کسی ضرورت مند کو سواری پر اپنے پیچھے بٹھا لے، اس سے وہ زینت قطعاً متاثر نہیں ہو گی۔
(2)
دور حاضر میں لمبی لمبی کاریں اس مقصد کے لیے کام میں لائی جاتی ہیں جو انسان کے لیے زینت کا کام بھی دیتی ہیں، اس لیے اگر کار میں جگہ ہو اور پردہ داری متاثر نہ ہوتا ہو تو کسی مسافر کو ساتھ بٹھا لینا باعث اجروثواب ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5964]
Sahih Bukhari Hadith 6207 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← أسامة بن زيد الكلبي