🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
121. بَابُ التَّكْبِيرِ وَالتَّسْبِيحِ عِنْدَ التَّعَجُّبِ:
باب: تعجب کے وقت اللہ اکبر اور سبحان اللہ کہنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6218
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَتْنِي هِنْدُ بِنْتُ الْحَارِثِ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ مَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْخَزَائِنِ، وَمَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْفِتَنِ، مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجَرِ يُرِيدُ بِهِ أَزْوَاجَهُ حَتَّى يُصَلِّينَ، رُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٌ فِي الْآخِرَةِ"، وَقَالَ ابْنُ أَبِي ثَوْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: طَلَّقْتَ نِسَاءَكَ. قَالَ:" لَا". قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، ان سے ہند بن حارث نے بیان کیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (رات میں) بیدار ہوئے اور فرمایا ”سبحان اللہ! اللہ کی رحمت کے کتنے خزانے آج نازل کئے گئے ہیں اور کس طرح کے فتنے بھی اتارے گئے ہیں۔ کون ہے! جو ان حجرہ والیوں کو جگائے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ازواج مطہرات سے تھی تاکہ وہ نماز پڑھ لیں کیونکہ بہت سی دنیا میں کپڑے پہننے والیاں آخرت میں ننگی ہوں گی۔ اور ابن ابی ثور نے بیان کیا، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اور ان سے عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، کیا آپ نے ازواج مطہرات کو طلاق دے دی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے کہا اللہ اکبر!۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6218]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات بیدار ہوئے تو فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“! اللہ کی رحمت کے کتنے خزانے آج رات نازل کیے گئے ہیں؟ اور کس قدر فتنوں کا نزول ہوا ہے؟ کون ہے جو ان حجروں میں سوئی ہوئی عورتوں کو بیدار کرے؟“ اس سے آپ کی مراد ازواج مطہرات تھیں تاکہ وہ نماز پڑھیں۔ ”دنیا میں بہت سی لباس پہننے والی خواتین آخرت میں ننگی ہوں گی۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: ”کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے کہا: ” «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6218]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
11319 14623

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي
👤←👥عبيد الله بن عبد الله القرشي
Newعبيد الله بن عبد الله القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمة
Newأم سلمة زوج النبي ← عبيد الله بن عبد الله القرشي
صحابية
👤←👥هند بنت الحارث الفراسية
Newهند بنت الحارث الفراسية ← أم سلمة زوج النبي
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← هند بنت الحارث الفراسية
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر
Newشعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ متقن
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان
Newالحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6218
سبحان الله ماذا أنزل من الخزائن وماذا أنزل من الفتن من يوقظ صواحب الحجر يريد به أزواجه حتى يصلين رب كاسية في الدنيا عارية في الآخرة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6218 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6218
حدیث حاشیہ:
عمر رضی اللہ عنہ نے اس انصاری کی خبر پر تعجب کیا جس نے کہا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔
غفر اللہ لہ (آمین)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6218]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6218
حدیث حاشیہ:
(1)
اللہ اکبر سے مراد اللہ تعالیٰ کی تعظیم و کبریائی بجا لانا اور سبحان اللہ سے مراد اس ذات کو ہر قسم کے عیوب سے پاک قرار دینا ہے۔
کسی بڑے کام کے وقوع پر اللہ اکبر یا سبحان اللہ کہنا اس کام کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے اور ایسے مواقع پر سبحان اللہ یا اللہ اکبر کہنا مسنون امر ہے۔
(2)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک دوسرے مقام پر متصل سند سے بیان کیا ہے۔
(صحیح البخاري، العلم، حدیث: 89)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6218]

Sahih Bukhari Hadith 6218 in Urdu