🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. باب الاحتباء باليد وهو القرفصاء:
باب: ہاتھ سے «احتباء» کرنا اور اس کو «قرفصاء» کہتے ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6272
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي غَالِبٍ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ مُحْتَبِيًا بِيَدِهِ هَكَذَا".
ہم سے محمد بن ابی غالب نے بیان کیا، کہا ہم کو ابراہیم بن المنذر حزامی نے خبر دی، کہا ہم سے محمد بن فلیح نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحن کعبہ میں دیکھا کہ آپ سرین پر بیٹھے ہوئے دونوں رانیں شکم مبارک سے ملائے ہوئے ہاتھوں سے پنڈلی پکڑے ہوئے بیٹھے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6272]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥فليح بن سليمان الأسلمي، أبو يحيى
Newفليح بن سليمان الأسلمي ← نافع مولى ابن عمر
صدوق كثير الخطأ
👤←👥محمد بن فليح الأسلمي، أبو عبد الله
Newمحمد بن فليح الأسلمي ← فليح بن سليمان الأسلمي
صدوق يهم
👤←👥إبراهيم بن المنذر الحزامي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن المنذر الحزامي ← محمد بن فليح الأسلمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن أبي غالب القومسي، أبو عبد الله
Newمحمد بن أبي غالب القومسي ← إبراهيم بن المنذر الحزامي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6272
رأيت رسول الله بفناء الكعبة محتبيا بيده
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6272 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6272
حدیث حاشیہ:
(1)
احتباء اور قرفصاء دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔
یہ بیٹھنے کا ایک انداز ہے۔
اس میں تواضع وانکسار اور خشوع وعاجزی کا اظہار ہوتا ہے۔
حضرت قیلہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خشوع اور انکسار کی اس کیفیت میں دیکھا تو خوف سے کانپ اٹھی۔
(سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 4847)
ان کی یہ کیفیت اس وجہ سے تھی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی عظیم ہستی کا ظاہری بیٹھنا اس قدر خشوع اور انکسار کا مظہر ہے تو باطنی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا کیفیت ہوگی لیکن ہم لوگ اس نعمت سے کس قدر محروم ہیں۔
(2)
لیکن خطبۂ جمعہ میں اس طرح بیٹھنا ممنوع ہے۔
(سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 1110)
کیونکہ اس طرح بیٹھنا بے پروائی اور عدم توجہ کی علامت خیال کی جاتی ہے، نیز اس سے نیند بھی آنا شروع ہوجاتی ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6272]