صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. باب القائلة بعد الجمعة:
باب: جمعہ کے بعد قیلولہ کرنا۔
حدیث نمبر: 6279
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:" كُنَّا نَقِيلُ وَنَتَغَدَّى بَعْدَ الْجُمُعَةِ".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم کھانا اور قیلولہ نماز جمعہ کے بعد کیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6279]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”ہم نماز جمعہ کے بعد دوپہر کا کھانا کھاتے اور قیلولہ کیا کرتے تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6279]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سهل بن سعد الساعدي، أبو العباس، أبو يحيى | صحابي | |
👤←👥سلمة بن دينار الأعرج، أبو حازم سلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← سلمة بن دينار الأعرج | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥محمد بن كثير العبدي، أبو عبد الله محمد بن كثير العبدي ← سفيان الثوري | ثقة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6279 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6279
حدیث حاشیہ:
(1)
دوپہر کے بعد کھانے کو غداء اور سونے کو قیلولہ کہتے ہیں۔
عربوں کی عادت تھی کہ وہ دوپہر کا کھانا کھا کر قیلولہ کرتے تھے۔
ایسا کرنا سے طبیعت ہشاش بشاش اور ہلکی ہو جاتی ہے۔
(2)
قیلولہ مسنون امر ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”تم قیلولہ کیا کرو کیونکہ شیاطین قیلولہ نہیں کرتے۔
“ اس روایت کی سند میں کلام ہے لیکن راجح بات یہی ہے کہ یہ حدیث قابل اعتبار ہے۔
(سلسلة الأحادیث الصحیحة للألباني، حدیث: 1647)
اسی طرح خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ کا قول صحیح سند سے منقول ہے کہ دن کے پہلے حصے میں سونا جلن کا باعث، دوپہر کو سونا صحت کا موجب اور آخری پہر سونا بے وقوفی کی علامت ہے۔
(فتح الباري: 84/11)
(1)
دوپہر کے بعد کھانے کو غداء اور سونے کو قیلولہ کہتے ہیں۔
عربوں کی عادت تھی کہ وہ دوپہر کا کھانا کھا کر قیلولہ کرتے تھے۔
ایسا کرنا سے طبیعت ہشاش بشاش اور ہلکی ہو جاتی ہے۔
(2)
قیلولہ مسنون امر ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”تم قیلولہ کیا کرو کیونکہ شیاطین قیلولہ نہیں کرتے۔
“ اس روایت کی سند میں کلام ہے لیکن راجح بات یہی ہے کہ یہ حدیث قابل اعتبار ہے۔
(سلسلة الأحادیث الصحیحة للألباني، حدیث: 1647)
اسی طرح خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ کا قول صحیح سند سے منقول ہے کہ دن کے پہلے حصے میں سونا جلن کا باعث، دوپہر کو سونا صحت کا موجب اور آخری پہر سونا بے وقوفی کی علامت ہے۔
(فتح الباري: 84/11)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6279]
Sahih Bukhari Hadith 6279 in Urdu
سلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي