🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. باب من ناجى بين يدي الناس، ومن لم يخبر بسر صاحبه، فإذا مات أخبر به:
باب: جس نے لوگوں کے سامنے سرگوشی کی اور جس نے اپنے ساتھی کا راز نہیں بتایا پھر جب وہ انتقال کر گیا تو بتایا یہ جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6285
حَدَّثَنَا مُوسَى، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا فِرَاسٌ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِيِنَ، قَالَتْ: إِنَّا كُنَّا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ جَمِيعًا لَمْ تُغَادَرْ مِنَّا وَاحِدَةٌ، فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام تَمْشِي لَا وَاللَّهِ مَا تَخْفَى مِشْيَتُهَا مِنْ مِشْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَآهَا رَحَّبَ، قَالَ: مَرْحَبًا بِابْنَتِي، ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ سَارَّهَا فَبَكَتْ بُكَاءً شَدِيدًا، فَلَمَّا رَأَى حُزْنَهَا سَارَّهَا الثَّانِيَةَ، فَإِذَا هِيَ تَضْحَكُ، فَقُلْتُ لَهَا: أَنَا مِنْ بَيْنِ نِسَائِهِ خَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسِّرِّ مِنْ بَيْنِنَا، ثُمَّ أَنْتِ تَبْكِينَ، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا عَمَّا سَارَّكِ، قَالَتْ: مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ قُلْتُ لَهَا: عَزَمْتُ عَلَيْكِ بِمَا لِي عَلَيْكِ مِنَ الْحَقِّ، لَمَّا أَخْبَرْتِنِي. قَالَتْ: أَمَّا الْآنَ فَنَعَمْ، فَأَخْبَرَتْنِي، قَالَتْ: أَمَّا حِينَ سَارَّنِي فِي الْأَمْرِ الْأَوَّلِ،" فَإِنَّهُ أَخْبَرَنِي أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ بِالْقُرْآنِ كُلَّ سَنَةٍ مَرَّةً، وَإِنَّهُ قَدْ عَارَضَنِي بِهِ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ، وَلَا أَرَى الْأَجَلَ إِلَّا قَدِ اقْتَرَبَ، فَاتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي، فَإِنِّي نِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ، قَالَتْ: فَبَكَيْتُ بُكَائِي الَّذِي رَأَيْتِ، فَلَمَّا رَأَى جَزَعِي سَارَّنِي الثَّانِيَةَ، قَالَ: يَا فَاطِمَةُ، أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ، أَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ وضاح نے، کہا ہم سے فراس بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عامر شعبی نے، ان سے مسروق نے کہ مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ تمام ازواج مطہرات (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں، کوئی وہاں سے نہیں ہٹا تھا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا چلتی ہوئی آئیں۔ اللہ کی قسم! ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال سے الگ نہیں تھی (بلکہ بہت ہی مشابہ تھی) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو خوش آمدید کہا۔ فرمایا بیٹی! مرحبا! پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دائیں طرف یا بائیں طرف انہیں بٹھایا۔ اس کے بعد آہستہ سے ان سے کچھ کہا اور فاطمہ رضی اللہ عنہا بہت زیادہ رونے لگیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا غم دیکھا تو دوبارہ ان سے سرگوشی کی اس پر وہ ہنسنے لگیں۔ تمام ازواج میں سے میں نے ان سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں صرف آپ کو سرگوشی کی خصوصیت بخشی۔ پھر آپ رونے لگیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے کان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا انہوں نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا راز نہیں کھول سکتی۔ پھر جب آپ کی وفات ہو گئی تو میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میرا جو حق آپ پر ہے اس کا واسطہ دیتی ہوں کہ آپ مجھے وہ بات بتا دیں۔ انہوں نے کہا کہ اب بتا سکتی ہوں چنانچہ انہوں نے مجھے بتایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پہلی سرگوشی کی تھی تو فرمایا تھا کہ جبرائیل علیہ السلام ہر سال مجھ سے سال میں ایک مرتبہ دور کیا کرتے تھے لیکن اس سال مجھ سے انہوں نے دو مرتبہ دور کیا اور میرا خیال ہے کہ میری وفات کا وقت قریب ہے، اللہ سے ڈرتی رہنا اور صبر کرنا کیونکہ میں تمہارے لیے ایک اچھا آگے جانے والا ہوں بیان کیا کہ اس وقت میرا رونا جو آپ نے دیکھا تھا اس کی وجہ یہی تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پریشانی دیکھی تو آپ نے دوبارہ مجھ سے سرگوشی کی، فرمایا فاطمہ بیٹی! کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جنت میں تم مومنوں کی عورتوں کی سردار ہو گی، یا (فرمایا کہ) اس امت کی عورتوں کی سردار ہو گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6285]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات آپ کے پاس تھیں، ہم میں سے ایک بھی غائب نہ تھی۔ اس دوران میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا چلتی ہوئی آئیں، اللہ کی قسم! ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال سے ذرا بھی الگ نہ تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا: میری لختِ جگر! خوش آمدید۔ پھر انہیں اپنی دائیں یا بائیں جانب بٹھایا، اس کے بعد ان سے آہستہ کچھ کہا تو وہ بہت روئیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حزن و ملال دیکھا تو دوبارہ ان سے سرگوشی کی، اس پر وہ ہنسنے لگیں۔ تمام ازواج میں سے میں نے ان (حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا) سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے صرف آپ کو سرگوشی کی خصوصیت بخشی ہے، پھر بھی آپ رونے لگیں؟ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے تو میں نے ان سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے کان میں کیا فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز افشا نہیں کروں گی۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میرا جو حق آپ پر ہے، میں اس کا واسطہ دیتی ہوں کہ آپ مجھے وہ بات بتا دیں۔ انہوں نے کہا: ہاں، اب بتا سکتی ہوں۔ چنانچہ انہوں نے مجھے بتایا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی مرتبہ مجھ سے سرگوشی کی تھی تو فرمایا تھا: جبرئیل علیہ السلام مجھ سے ہر سال ایک بار قرآن کا دور کرتے تھے، انہوں نے اس سال دو بار مجھ سے قرآن کا دور کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ میری وفات کا وقت قریب آ چکا ہے۔ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہو اور صبر سے کام لینا، میں تمہارے لیے بہترین میرِ سفر ہوں گا۔ حضرت رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اس وقت میرا رونا جو آپ نے دیکھا، اس کی وجہ یہی تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پریشانی دیکھی تو آپ نے دوبارہ مجھ سے سرگوشی کی اور فرمایا: فاطمہ بیٹی! کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ جنت میں تم تمام اہل ایمان خواتین کی سردار ہو گی یا اس امت کی خواتین کی سردار ہو گی؟ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6285]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥فاطمة بنت رسول الله، أم الحسن، أم أبيها، أم الحسينصحابية
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله
Newعائشة بنت أبي بكر الصديق ← فاطمة بنت رسول الله
صحابي
👤←👥مسروق بن الأجدع الهمداني، أبو عائشة
Newمسروق بن الأجدع الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← مسروق بن الأجدع الهمداني
ثقة
👤←👥فراس بن يحيى الهمداني، أبو يحيى
Newفراس بن يحيى الهمداني ← عامر الشعبي
ثقة
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة
Newالوضاح بن عبد الله اليشكري ← فراس بن يحيى الهمداني
ثقة ثبت
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← الوضاح بن عبد الله اليشكري
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6285
جبريل كان يعارضه بالقرآن كل سنة مرة وإنه قد عارضني به العام مرتين ولا أرى الأجل إلا قد اقترب فاتقي الله واصبري فإني نعم السلف أنا لك قالت فبكيت بكائي الذي رأيت فلما رأى جزعي سارني الثانية يا فاطمة ألا ترضين أن تكوني سيدة نساء المؤمنين أو سيدة نساء
صحيح البخاري
3624
جبريل كان يعارضني القرآن كل سنة مرة
صحيح مسلم
6314
جبريل كان يعارضه بالقرآن كل عام مرة وإنه عارضه به في العام مرتين ولا أراني إلا قد حضر أجلي وإنك أول أهلي لحوقا بي ونعم السلف أنا لك ألا ترضين أن تكوني سيدة نساء المؤمنين
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6285 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6285
حدیث حاشیہ:
سرگوشی سے اس لئے منع فرمایا کہ کسی تیسرے آدمی کو سوء ظن نہ پیدا ہو اگر مجلس میں اس خطرے کا احتمال نہ ہو تو سرگوشی جائز بھی ہے جیسا کہ حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سرگوشی کرنا مذکور ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6285]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6285
حدیث حاشیہ:
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دوسری مرتبہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے سرگوشی کی تو فرمایا:
میرے اہل بیت میں سے تم سب سے پہلے مجھے ملوگی۔
اس پر وہ ہنس پڑیں۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4433)
اس حدیث سے امام بخاری رحمہ اللہ نے عنوان کے دونوں جز ثابت کیے ہیں۔
ایک تو یہ ہے کہ جماعت کے سامنے سرگوشی کرنا جائز ہے، دوسرا یہ کہ زندگی تک تو راز کو پوشیدہ رکھنا چاہیے، جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے ظاہر کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
یہ دونوں باتیں اس حدیث سے ثابت ہوتی ہیں۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6285]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3624
3624. حضرت فاطمہ ؓنے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوشیدہ گفتگو یہ کی تھی: حضرت جبریل ؑ ہر سال میرے ساتھ ایک مرتبہ قرآن مجید کا دور کرتے تھے، البتہ اس سال دو مرتبہ دور کیا ہے۔ میرے خیال کے مطابق میری موت قریب آچکی ہے۔ اور یقیناً تم میرے گھر والوں میں سے سب سے پہلے میرے ساتھ ملاقات کرو گی۔ تو میں رونے لگی۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا تمھیں پسند نہیں کہ تم جنت کی عورتوں یا اہل ایمان عورتوں کی سردار ہو۔ اس وجہ سے میں ہنس پڑی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3624]
حدیث حاشیہ:
دوسری روایتوں میں یوں ہے کہ پہلے آپ نے یہ فرمایا کہ میری وفات نزدیک ہے تو حضرت فاطمہ ؓ رونے لگیں پھر یہ فرمایا کہ تم سب سے پہلے مجھ سے ملوگی تو وہ ہنسنے لگیں، اس حدیث سے حضرت فاطمہ الزہراء ؓ کی بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
فی الواقع آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر، نور نظر ہیں اس لیے ہرفضیلت کی اولین حقدار ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3624]

Sahih Bukhari Hadith 6285 in Urdu