🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب علامات النبوة فى الإسلام:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں یعنی نبوت کی نشانیوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3624
فَقَالَتْ: مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهَا، فَقَالَتْ: أَسَرَّ إِلَيَّ إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُنِي الْقُرْآنَ كُلَّ سَنَةٍ مَرَّةً وَإِنَّهُ عَارَضَنِي الْعَامَ مَرَّتَيْنِ وَلَا أُرَاهُ إِلَّا حَضَرَ أَجَلِي وَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتِي لَحَاقًا بِي فَبَكَيْتُ، فَقَالَ: أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَوْ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ فَضَحِكْتُ لِذَلِكَ".
‏‏‏‏ تو انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کان میں کہا تھا کہ جبرائیل علیہ السلام ہر سال قرآن مجید کا ایک دور کیا کرتے تھے، لیکن اس سال انہوں نے دو مرتبہ دور کیا ہے، مجھے یقین ہے کہ اب میری موت قریب ہے اور میرے گھرانے میں سب سے پہلے مجھ سے آ ملنے والی تم ہو گی۔ میں (آپ کی اس خبر پر) رونے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس پر راضی نہیں کہ جنت کی عورتوں کی سردار بنو گی یا (آپ نے فرمایا کہ) مومنہ عورتوں کی، تو اس پر میں ہنسی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3624]
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوشیدہ گفتگو یہ کی تھی: حضرت جبریل علیہ السلام ہر سال میرے ساتھ ایک مرتبہ قرآن مجید کا دور کرتے تھے، البتہ اس سال دو مرتبہ دور کیا ہے۔ میرے خیال کے مطابق میری موت قریب آچکی ہے۔ اور یقیناً تم میرے گھر والوں میں سے سب سے پہلے میرے ساتھ ملاقات کرو گی۔ تو میں رونے لگی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں پسند نہیں کہ تم جنت کی عورتوں یا اہل ایمان عورتوں کی سردار ہو؟ اس وجہ سے میں ہنس پڑی۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3624]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6285
جبريل كان يعارضه بالقرآن كل سنة مرة وإنه قد عارضني به العام مرتين ولا أرى الأجل إلا قد اقترب فاتقي الله واصبري فإني نعم السلف أنا لك قالت فبكيت بكائي الذي رأيت فلما رأى جزعي سارني الثانية يا فاطمة ألا ترضين أن تكوني سيدة نساء المؤمنين أو سيدة نساء
صحيح البخاري
3624
جبريل كان يعارضني القرآن كل سنة مرة
صحيح مسلم
6314
جبريل كان يعارضه بالقرآن كل عام مرة وإنه عارضه به في العام مرتين ولا أراني إلا قد حضر أجلي وإنك أول أهلي لحوقا بي ونعم السلف أنا لك ألا ترضين أن تكوني سيدة نساء المؤمنين
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3624 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3624
حدیث حاشیہ:
دوسری روایتوں میں یوں ہے کہ پہلے آپ نے یہ فرمایا کہ میری وفات نزدیک ہے تو حضرت فاطمہ ؓ رونے لگیں پھر یہ فرمایا کہ تم سب سے پہلے مجھ سے ملوگی تو وہ ہنسنے لگیں، اس حدیث سے حضرت فاطمہ الزہراء ؓ کی بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
فی الواقع آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر، نور نظر ہیں اس لیے ہرفضیلت کی اولین حقدار ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3624]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6285
6285. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات آپ کے پاس تھیں ہم میں ایک بھی غائب نہ تھی۔ اس دوران میں سیدہ فاطمہ ؓ چلتی ہوئیں آئیں اللہ کی قسم! ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال سے الگ نہ تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا: میری لخت جگر! خوش آمدید پھر انہیں اپنی دائیں یا بائیں بٹھایا، اس کے بعد ان سے آہستہ کچھ کہا تو وہ بہت روئیں۔ جب رسول اللہ نے ان کا حزن وملال دیکھا تو دوبارہ ان سے سرگوشی کی، اس پر وہ ہنسنے لگیں۔ تمام ازواج میں سے میں نے ان (سیدہ فاطمہ ؓ) سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے صرف آپ کو سرگوشی کی خصوصیت بخشی ہے پھر آپ رونے لگیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے تو میں نے ان سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے کان میں کیا فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز افشا نہیں کروں گی۔ پھر جب آپ کی وفات ہوگئی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:6285]
حدیث حاشیہ:
سرگوشی سے اس لئے منع فرمایا کہ کسی تیسرے آدمی کو سوء ظن نہ پیدا ہو اگر مجلس میں اس خطرے کا احتمال نہ ہو تو سرگوشی جائز بھی ہے جیسا کہ حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سرگوشی کرنا مذکور ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6285]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6285
6285. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات آپ کے پاس تھیں ہم میں ایک بھی غائب نہ تھی۔ اس دوران میں سیدہ فاطمہ ؓ چلتی ہوئیں آئیں اللہ کی قسم! ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال سے الگ نہ تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا: میری لخت جگر! خوش آمدید پھر انہیں اپنی دائیں یا بائیں بٹھایا، اس کے بعد ان سے آہستہ کچھ کہا تو وہ بہت روئیں۔ جب رسول اللہ نے ان کا حزن وملال دیکھا تو دوبارہ ان سے سرگوشی کی، اس پر وہ ہنسنے لگیں۔ تمام ازواج میں سے میں نے ان (سیدہ فاطمہ ؓ) سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے صرف آپ کو سرگوشی کی خصوصیت بخشی ہے پھر آپ رونے لگیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے تو میں نے ان سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے کان میں کیا فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز افشا نہیں کروں گی۔ پھر جب آپ کی وفات ہوگئی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:6285]
حدیث حاشیہ:
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دوسری مرتبہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے سرگوشی کی تو فرمایا:
میرے اہل بیت میں سے تم سب سے پہلے مجھے ملوگی۔
اس پر وہ ہنس پڑیں۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4433)
اس حدیث سے امام بخاری رحمہ اللہ نے عنوان کے دونوں جز ثابت کیے ہیں۔
ایک تو یہ ہے کہ جماعت کے سامنے سرگوشی کرنا جائز ہے، دوسرا یہ کہ زندگی تک تو راز کو پوشیدہ رکھنا چاہیے، جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے ظاہر کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
یہ دونوں باتیں اس حدیث سے ثابت ہوتی ہیں۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6285]

Sahih Bukhari Hadith 3624 in Urdu