🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. باب الختان بعد الكبر ونتف الإبط:
باب: بوڑھا ہونے پر ختنہ کرنا اور بغل کے بال نوچنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6298
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ بَعْدَ ثَمَانِينَ سَنَةً، وَاخْتَتَنَ بِالْقَدُومِ مُخَفَّفَةً"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، وَقَالَ: بِالْقَدُّومِ وَهُوَ مَوْضِعٌ مُشَدَّدٌ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب بن ابی حمزہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابراہیم علیہ السلام نے اسی (80) سال کی عمر میں ختنہ کرایا اور آپ نے «قدوم‏"‏‏.‏» (تخفیف کے ساتھ) (کلہاڑی) سے ختنہ کیا۔ ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے مغیرہ نے بیان کیا اور ان سے ابوالزناد نے «بالقدوم‏‏.‏» (تشدید کے ساتھ بیان کیا)۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6298]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن ذكوان القرشي، أبو عبد الرحمنإمام ثقة ثبت
👤←👥المغيرة بن عبد الرحمن الحزامي
Newالمغيرة بن عبد الرحمن الحزامي ← عبد الله بن ذكوان القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← المغيرة بن عبد الرحمن الحزامي
ثقة ثبت
👤←👥أبو هريرة الدوسي
Newأبو هريرة الدوسي ← قتيبة بن سعيد الثقفي
صحابي
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود
Newعبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت عالم
👤←👥عبد الله بن ذكوان القرشي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن ذكوان القرشي ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج
إمام ثقة ثبت
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر
Newشعيب بن أبي حمزة الأموي ← عبد الله بن ذكوان القرشي
ثقة حافظ متقن
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان
Newالحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6298
اختتن إبراهيم بعد ثمانين سنة واختتن بالقدوم
صحيح البخاري
3356
اختتن إبراهيم وهو ابن ثمانين سنة بالقدوم
صحيح مسلم
6141
اختتن إبراهيم النبي وهو ابن ثمانين سنة بالقدوم
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6298 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6298
حدیث حاشیہ:
امام بخاری رحمہ اللہ کے عنوان سے معلوم ہوتا ہے کہ ختنہ کرنا واجب ہے کیونکہ عمر کے اعتبار سے بڑا ہونے کے بعد بھی یہ حکم ساقط نہیں ہوتا، چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسّی (80)
سال کی عمر میں ختنہ کیا، حالانکہ اس عمر میں ختنہ کرنے سے تکلیف ہوتی ہے۔
اگرچہ یہ واجب نہ ہوتا تو عمر کے اسے حصے میں وہ ختنے کی تکلیف گوارا نہ کرتے، اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور اسلام قبول کیا، آپ نے اسے فرمایا:
کفر کے بال اتار پھینکو اور اپنا ختنہ کراؤ۔
(سنن أبي داود، الطھارة، حدیث: 356)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اس کے وجوب کو بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 106/11)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6298]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6141
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی (80) سال کی عمر میں تیشہ سے اپنے ختنے کیے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6141]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
اگر انسان کسی سبب یا نادانی کی بنا پر،
بچپن میں ختنے نہ کروا سکے تو پھر اسے جب بھی موقعہ ملے تو ختنے کروا لینے چاہئیں،
الا یہ کہ کوئی شرعی یا طبعی روکاوٹ ہو اور بہتر یہ ہے کہ ساتویں دن بچے کے ختنے کر دئیے جائیں،
دوسرا معنی اس حدیث کا یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے قدوم نامی جگہ پر اپنے ختنے کیے تھے۔
(قاموس)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6141]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3356
3356. حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت ابراہیم ؑ نے اپنا ختنہ خود ایک بسولے سے کیا تھا جبکہ آپ اسی(80) برس کے تھے۔ ایک روایت میں قدوم کا لفظ دال کی تخفیف کے ساتھ آیا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3356]
حدیث حاشیہ:
اسی عمر میں ان کو ختنے کاحکم آیا، استرہ پاس نہ تھا اس لیے حکم الٰہی کی تعمیل میں خود ہی بسولے سے ختنہ کرلیا۔
ابویعلیٰ کی روایت میں اتنی صراحت ہے۔
بعض منکرین حدیث نے اس حدیث پر بھی اعتراض کیا ہے جو ان کی حماقت کی دلیل ہے۔
جب ایک انسان خود کشی کرسکتا ہے۔
خود اپنے ہاتھ سے اپنی گردن کاٹ سکتا ہے تو حضرت ابراہیم کا خود بسولے سے ختنہ کرلینا کون سا موجب تعجب ہے۔
اور اسی سال کی عمر میں ختنے پر اعتراض کرنا بھی حماقت ہے جب حکم الٰہی ہوا، اس کی تعمیل کی گئی۔
منکرین حدیث محض عقل سے کورے ہیں۔
تشریح:
حضرت ابراہیم ؑ کو اسی عمر میں ختنے کا حکم آیا، اس وقت استرہ ان کے پاس نہ تھا۔
تاخیر مناسب نہیں سمجھی اور اسی صورت میں حکم الٰہی ادا کیا، ابویعلیٰ کی روایت میں اس کی صراحت موجو دہے۔
عبدالرحمن بن اسحاق کی روایت کو مسدد نے اپنی مسند میں اور عجلان کی روایت کو امام احمد نے اور محمد بن عمرو کی روایت کو ابویعلیٰ نے وصل کیا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3356]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3356
3356. حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت ابراہیم ؑ نے اپنا ختنہ خود ایک بسولے سے کیا تھا جبکہ آپ اسی(80) برس کے تھے۔ ایک روایت میں قدوم کا لفظ دال کی تخفیف کے ساتھ آیا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3356]
حدیث حاشیہ:

امام بخاری ؒنے خود وضاحت کی ہے کہ قدوم دال کی تشدید کے ساتھ ایک جگہ کا نام ہے۔
(صحیح البخاري، الاستئذان، حدیث: 6298)
البتہ صحیح مسلم کی تمام روایات میں یہ لفظ تخفیف کے ساتھ مروی ہے۔
(صحیح مسلم، الفضائل، حدیث: 6141(2370)
جس کے معنی ہیں:
بسولا۔
ان دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ ممکن ہے حضرت ابراہیم ؑ اس حکم کے وقت مقام قدوم میں ہوں اور وہیں آپ نے بسولے کے ساتھ تعمیل حکم کی ہو۔

مقام غور ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اسی برس کے ہیں، اوراپنے گھر میں نہیں بلکہ کسی دوسرے مقام پر اپنا ختنہ کرنے کا انھیں حکم ملتا ہے، پھر ختنہ کے لیے وہاں کوئی استرا وغیرہ موجود نہیں، تعمیل حکم کے لیے بسولے کے ساتھ خود ہی نازک عضو کے کچھ حصے کو کاٹ دیتے ہیں جس کی ٹیس دیر تک محسوس ہوتی رہتی ہے۔
لیکن منکرین حدیث اس کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟ جب انسان خود کشی کرسکتا ہے خود اپنے ہاتھ سے اپنی گردن کاٹ سکتا ہے تو حضرت ابراہیم ؑ نے اگر اس عمر میں ختنہ کرلیا تو کون سی عزیمت ہے؟ بہرحال حضرت ابراہیم ؑ کے اس عمل کو خود کشی سے تشبیہ دینا حماقت سے کم نہیں۔
ایک روایت میں ہے:
ختنہ کرنے سے جب حضرت ابراہیم ؑ کو تکلیف ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کہ آپ نے جلدی کی ہے۔
عرض کی:
الٰہی! تیرے حکم میں تاخیر کرنا مجھے گوارا نہ تھا، اس لیے تعمیل حکم میں جلدی کی ہے۔
(السنن الکبری للبیهقي: 326/8)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3356]