🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب التعوذ من المأثم والمغرم:
باب: گناہ اور قرض سے اللہ کی پناہ مانگنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6368
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ، وَالْهَرَمِ، وَالْمَأْثَمِ، وَالْمَغْرَمِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ النَّارِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ عَنِّي خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا، كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ".
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم،‏‏‏‏ والمأثم والمغرم،‏‏‏‏ ومن فتنة القبر وعذاب القبر،‏‏‏‏ ومن فتنة النار وعذاب النار،‏‏‏‏ ومن شر فتنة الغنى،‏‏‏‏ وأعوذ بك من فتنة الفقر،‏‏‏‏ وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال،‏‏‏‏ اللهم اغسل عني خطاياى بماء الثلج والبرد،‏‏‏‏ ونق قلبي من الخطايا،‏‏‏‏ كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس،‏‏‏‏ وباعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب» اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی سے، بہت زیادہ بڑھاپے سے، گناہ سے، قرض سے اور قبر کی آزمائش سے اور قبر کے عذاب سے اور دوزخ کی آزمائش سے اور دوزخ کے عذاب سے اور مالداری کی آزمائش سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں محتاجی کی آزمائش سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کی آزمائش سے۔ اے اللہ! مجھ سے میرے گناہوں کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دے اور میرے دل کو خطاؤں سے اس طرح پاک و صاف کر دے جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل سے پاک صاف کر دیا اور مجھ میں اور میرے گناہوں میں اتنی دوری کر دے جتنی مشرق اور مغرب میں دوری ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6368]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥وهيب بن خالد الباهلي، أبو بكر
Newوهيب بن خالد الباهلي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥المعلى بن أسد العمي، أبو الهيثم
Newالمعلى بن أسد العمي ← وهيب بن خالد الباهلي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6375
اللهم إني أعوذ بك من الكسل الهرم المغرم المأثم اللهم إني أعوذ بك من عذاب النار فتنة النار فتنة القبر عذاب القبر شر فتنة الغنى شر فتنة الفقر من شر فتنة المسيح الدجال اللهم اغسل خطاياي بماء الثلج والبرد نق قلبي من الخطايا كما
صحيح البخاري
6368
اللهم إني أعوذ بك من الكسل الهرم المأثم المغرم من فتنة القبر عذاب القبر من فتنة النار عذاب النار من شر فتنة الغنى أعوذ بك من فتنة الفقر أعوذ بك من فتنة المسيح الدجال اللهم اغسل عني خطاياي بماء الثلج والبرد نق قلبي من الخطا
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6368 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6368
حدیث حاشیہ:
(1)
ہر وہ کام جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مبنی ہو ماثم کہلاتا ہے جسے ہم گناہ سے تعبیر کرتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پناہ طلب کرتے تھے اور اپنے عمل سے امت کو بھی اس سے بچنے کی تلقین کرتے تھے۔
اس کے علاوہ ایسا قرض جسے اتارنے کی انسان ہمت نہ رکھتا ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس قسم کے قرضے سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔
ایک روایت میں ہے کہ کسی نے پوچھا:
اللہ کے رسول! آپ اس قسم کے قرضے سے اکثر اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں، ایسا کیوں ہے؟ تو آپ نے فرمایا:
جب انسان قرض لیتا ہے تو بات بات پر جھوٹ بولتا ہے اور جب بھی وعدہ کرتا ہے تو اس کی خلاف ورز کرتا ہے۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 832) (2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ قرض کے متعلق سوال کرنے والی خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں جیسا کہ سنن نسائی کی روایت میں اس کی صراحت ہے۔
(سنن النسائي، الاستعاذة، حدیث: 5474، و فتح الباري: 211/11)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6368]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6375
6375. حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ! میں کاہلی، بڑھاپے، قرض اور گناہ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ! میں دوزخ کے عذاب، دوزخ کی آزمائش، قبر کی آزمائش اور عذاب قبر، نیز فتنۂ ثروت کے شر، فتنۂ فقر کے شر اور مسیح دجال کی بری آزمائش سے تیری پناه مانگتا ہوں۔ اے اللہ میرے گناہوں کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دے۔ میرے دل کو گناہوں سے اس طرح پاک کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کر دیا جاتا ہے۔ میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنا فاصلہ کر دے جتنا مشرق و مغرب میں ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6375]
حدیث حاشیہ:
اس دعا میں عذاب جہنم کے ساتھ فتنۂ جہنم سے اور عذاب قبر کے ساتھ فتنۂ قبر سے بھی پناہ مانگی گئی ہے۔
ہمارے رجحان کے مطابق عذاب جہنم سے مراد دوزخ کا ہر وہ عذاب ہے جو ان لوگوں کو ہو گا جو کفروشرک جیسے سنگین جرائم کی وجہ سے جہنم میں ڈالے جائیں گے۔
اسی طرح عذاب قبر سے مراد وہ عذاب ہے جو اس طرح کے بڑے بڑے مجرموں کو قبر میں ہو گا لیکن ان سے کم درجے کے جو مجرم ہوں گے، انہیں اگرچہ اہل جہنم کی طرح دوزخ میں نہیں ڈالا جائے گا اور قبر میں بھی ان پر درجۂ اول کے مجرموں کی طرح سخت عذاب مسلط نہیں کیا جائے گا، تاہم دوزخ اور قبر کی تکالیف سے انہیں بھی گزرنا ہوگا، یہی سزا ان کے لیے کافی ہو گی۔
فتنۂ جہنم اور فتنۂ قبر سے مراد یہی سزا ہے، تاہم رسول اللہ نے عذاب جہنم اور عذاب قبر کے ساتھ فتنۂ جہنم اور فتنۂ قبر سے بھی پناہ مانگی ہے اور اپنے اس عمل سے ہمیں بھی اس کی تلقین کی ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6375]