🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب القصد والمداومة على العمل:
باب: نیک عمل پر ہمیشگی کرنا اور درمیانی چال چلنا (نہ کمی ہو نہ زیادتی)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6467
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" سَدِّدُوا، وَقَارِبُوا، وَأَبْشِرُوا، فَإِنَّهُ لَا يُدْخِلُ أَحَدًا الْجَنَّةَ عَمَلُهُ"، قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِمَغْفِرَةٍ وَرَحْمَةٍ"، قَالَ أَظُنُّهُ عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَقَالَ عَفَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا"، قَالَ مُجَاهِدٌ: قَوْلًا سَدِيدًا وَسَدَادًا صِدْقًا.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن زبرقان نے، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو جو نیک کام کرو ٹھیک طور سے کرو اور حد سے نہ بڑھ جاؤ بلکہ اس کے قریب رہو (میانہ روی اختیار کرو) اور خوش رہو اور یاد رکھو کہ کوئی بھی اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں نہیں جائے گا۔ صحابہ نے عرض کیا: اور آپ بھی نہیں یا رسول اللہ! فرمایا اور میں بھی نہیں۔ سوا اس کے کہ اللہ اپنی مغفرت و رحمت کے سایہ میں مجھے ڈھانک لے۔ مدینی نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ موسیٰ بن عقبہ نے یہ حدیث ابوسلمہ سے ابوالنصر کے واسطے سے سنی ہے، ابوسلمہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے۔ اور عفان بن مسلم نے بیان کیا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا درستی کے ساتھ عمل کرو اور خوش رہو۔ اور مجاہد نے بیان کیا کہ «سدادا سديدا» ہر دو کے معنیٰ صدق کے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6467]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیک عمل کرتے وقت حد سے نہ بڑھو بلکہ قریب قریب رہو، یعنی میانہ روی اختیار کرو۔ تمہیں خوشی ہونی چاہیے کہ کوئی بھی اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں نہیں جائے گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے بھی نہیں؟ فرمایا: میں بھی، مگر اس وقت جب اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت اور مغفرت کے سائے میں ڈھانپ لے۔ ایک دوسری روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میانہ روی اختیار کرو اور خوش رہو۔ امام مجاہد رحمہ اللہ نے ﴿قَوْلًا سَدِيدًا﴾ [سورة الأحزاب: 70] کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: «سَدِيد» اور «سَدَاد» کے معنیٰ سچائی ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6467]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة إمام مكثر
👤←👥موسى بن عقبة القرشي، أبو محمد
Newموسى بن عقبة القرشي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة فقيه إمام في المغازي
👤←👥وهيب بن خالد الباهلي، أبو بكر
Newوهيب بن خالد الباهلي ← موسى بن عقبة القرشي
ثقة ثبت
👤←👥عفان بن مسلم الباهلي، أبو عثمان
Newعفان بن مسلم الباهلي ← وهيب بن خالد الباهلي
ثقة ثبت
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله
Newعائشة بنت أبي بكر الصديق ← عفان بن مسلم الباهلي
صحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة إمام مكثر
👤←👥سالم بن أبي أمية القرشي، أبو النضر
Newسالم بن أبي أمية القرشي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة ثبت
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله
Newعائشة بنت أبي بكر الصديق ← سالم بن أبي أمية القرشي
صحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة إمام مكثر
👤←👥موسى بن عقبة القرشي، أبو محمد
Newموسى بن عقبة القرشي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة فقيه إمام في المغازي
👤←👥محمد بن الزبرقان الأهوازي، أبو همام
Newمحمد بن الزبرقان الأهوازي ← موسى بن عقبة القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن
Newعلي بن المديني ← محمد بن الزبرقان الأهوازي
ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6464
سددوا وقاربوا اعلموا أن لن يدخل أحدكم عمله الجنة أحب الأعمال إلى الله أدومها وإن قل
صحيح البخاري
6467
سددوا وقاربوا وأبشروا لا يدخل أحدا الجنة عمله
صحيح مسلم
7122
سددوا وقاربوا وأبشروا لن يدخل الجنة أحدا عمله قالوا ولا أنت يا رسول الله قال ولا أنا إلا أن يتغمدني الله منه برحمة أحب العمل إلى الله أدومه وإن قل
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6467 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6467
حدیث حاشیہ:
یعنی سچائی کو ہر حال میں اختیار کرو تم اعمال خیر کروگے تم کو جنت کی بلکہ دنیا میں بھی کامیابی کی بشارت ہے۔
قرآن کی آیت ﴿قُولُوا قولا سَدِیدا﴾ (الأعراف: 43)
کی طرف اشارہ ہے۔
عفان بن مسلم حضرت اما م بخاری کے استاد ہیں اس سند کو لا کر امام بخاری نے علی بن عبد اللہ مدینی کا گمان رفع کیا کہ اگلی روایت منقطع ہے کیونکہ اس میں موسیٰ کے سماع کی ابو سلمہ سے صراحت ہے حدیث میں سدودا کا لفظ آیا تھا سدیداسدادا کا بھی وہی مادہ ہے اس مناسبت سے امام بخاری نے اس کی تفسیر یہاں بیان کر دی۔
قرآن شریف میں جو ہے ﴿تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ﴾ (الاعراف: 43)
اس کے معارض نہیں ہے کیونکہ عمل صالح بھی منجملہ اسباب دخول جنت ایک سبب ہے لیکن اصلی سبب رحمت اور عنایت الٰہی ہے بعض نے کہا آیت میں ترقی درجات مراد ہے نہ محض دخول جنت اور ترقی اعمال صالحہ کے لحاظ سے ہوگی اس حدیث سے معتزلہ کا رد ہوتا ہے جو کہتے ہیں اعمال صالحہ کرنے والے کو بہشت میں لے جانا اللہ پر واجب ہے۔
معاذاللہ منه۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6467]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6467
حدیث حاشیہ:
(1)
ان احادیث میں کسی کام کو میانہ روی کے ساتھ ہمیشہ کرنے کی اہمیت و افادیت بیان کی گئی ہے۔
اس عنوان کے دو اجزاء نہیں بلکہ ایک ہی جز کے دو رخ ہیں کیونکہ اسی کام کو ہمیشہ کیا جا سکتا ہے جو میانہ روی اور اعتدال کے ساتھ کیا جائے اور اس میں افراط یا تفریط سے اس کی افادیت اور اہمیت مجروح ہو جاتی ہے قرآن کریم میں بیشمار مقامات پر اعتدال قائم رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔
ہم صرف تین آیات پیش کرتے ہیں:
٭ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
آپ اپنی نماز کو نہ زیادہ بلند آواز سے پڑھیں اور نہ بالکل پست آواز سے بلکہ ان کے درمیان اعتدال کا لہجہ اختیار کریں۔
(بني إسرائیل: 110)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ نماز میں قرآن اتنی بلند آواز سے نہ پڑھیں کہ مشرک قرآن کو برا بھلا کہیں اور نہ اتنی آہستہ پڑھیں کہ آپ کے صحابہ بھی نہ سن سکیں بلکہ درمیانی راہ اختیار کریں۔
دوسرے مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے:
نہ تم اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھو اور نہ اسے پوری طرح کھلا ہی چھوڑ دو ورنہ تم خود ملامت زدہ اور درماندہ بن کر رہ جاؤ گے۔
(بنی اسرائیل: 17/29)
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ خرچ کرتے وقت نہ تو بخل سے کام لیا جائے اور نہ اتنا زیادہ ہی خرچ کیا جائے کہ اپنی ضرورت کے لیے بھی کچھ نہ رہے بلکہ میانہ روی کو اختیار کرنا چاہیے۔
خرچ کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی ہدایت یہ ہے:
اور جو لوگ خرچ کرتے ہیں وہ تو اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل سے کام لیتے ہیں بلکہ ان کا خرچ دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر ہوتا ہے۔
(الفرقان: 67)
مطلب یہ ہے کہ ضرورت کے کاموں میں حد سے زیادہ خرچ کرنا معیوب ہے، اسی طرح ضرورت کے وقت پیسہ خرچ نہ کرنا بلکہ اسے جوڑ کر رکھنا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں بلکہ اعتدال کی پالیسی کو اختیار کرنا چاہیے۔
(2)
اسراف اور بخل کے درمیان صفت کو اقتصاد یا قصد کہتے ہیں۔
اسی صفت کو اسلام نے پسند کیا ہے۔
اقتصاد یہ ہے کہ انسان اپنی ضرورت پر اتنا ہی خرچ کرے جتنا ضروری ہو، نہ کم ہو نہ زیادہ۔
امام بخاری رحمہ اللہ کے عنوان اور پیش کردہ احادیث کا یہی مقصد ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6467]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6464
6464. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: درستی کا قصد کرو، افراط تفریط کے درمیان اعتدال کرو اور یقین کرو کہ تم میں سے کسی کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ اللہ تعالٰی کے ہاں زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے خواہ وہ کم ہو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6464]
حدیث حاشیہ:
فرائض الٰہی میں کمی بیشی کا سوال ہی نہیں ہے۔
یہ جملہ نفل عبادتوں کا ذکر ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6464]

Sahih Bukhari Hadith 6467 in Urdu