🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. باب يدخل الجنة سبعون ألفا بغير حساب:
باب: جنت میں ستر ہزار آدمی بلاحساب داخل ہوں گے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6543
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا أَوْ سَبْعُ مِائَةِ أَلْفٍ شَكَّ فِي أَحَدِهِمَا مُتَمَاسِكِينَ آخِذٌ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ، حَتَّى يَدْخُلَ أَوَّلُهُمْ وَآخِرُهُمُ الْجَنَّةَ، وَوُجُوهُهُمْ عَلَى ضَوْءِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ".
ہم سے سعید بن ابومریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں میری امت کے ستر ہزار یا سات لاکھ (راوی کو ان میں سے کسی ایک تعداد میں شک تھا) آدمی اس طرح داخل ہوں گے کہ بعض بعض کو پکڑے ہوئے ہوں گے اور اس طرح ان میں کے اگلے پچھلے سب جنت میں داخل ہو جائیں گے اور ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6543]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سهل بن سعد الساعدي، أبو العباس، أبو يحيىصحابي
👤←👥سلمة بن دينار الأعرج، أبو حازم
Newسلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي
ثقة
👤←👥محمد بن مطرف الليثي، أبو غسان
Newمحمد بن مطرف الليثي ← سلمة بن دينار الأعرج
ثقة
👤←👥سعيد بن أبي مريم الجمحي، أبو محمد
Newسعيد بن أبي مريم الجمحي ← محمد بن مطرف الليثي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6543
ليدخلن الجنة من أمتي سبعون ألفا متماسكين آخذ بعضهم ببعض حتى يدخل أولهم وآخرهم الجنة وجوههم على ضوء القمر ليلة البدر
صحيح البخاري
6554
ليدخلن الجنة من أمتي سبعون ألفا أو سبع مائة ألف متماسكون آخذ بعضهم بعضا لا يدخل أولهم حتى يدخل آخرهم وجوههم على صورة القمر ليلة البدر
صحيح البخاري
3247
ليدخلن من أمتي سبعون ألفا أو سبع مائة ألف لا يدخل أولهم حتى يدخل آخرهم وجوههم على صورة القمر ليلة البدر
صحيح مسلم
526
ليدخلن الجنة من أمتي سبعون ألفا أو سبعمائة ألف متماسكون آخذ بعضهم بعضا لا يدخل أولهم حتى يدخل آخرهم وجوههم على صورة القمر ليلة البدر
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6543 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6543
حدیث حاشیہ:
(1)
یہ خوش قسمت حضرات ایک ہی صف میں ایک ہی دفعہ جنت میں داخل ہوں گے۔
حدیث میں اولیت اور آخریت پل صراط سے گزرنے کے اعتبار سے ہے۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جنت کا دروازہ بہت وسیع ہو گا۔
(2)
بعض اہل علم نے مُتَمَاسِكِين کے یہ معنی کیے ہیں کہ وہ باوقار طریقے سے جنت میں داخل ہوں گے۔
ان میں سے کوئی ایک دوسرے سے مسابقت نہیں کرے گا۔
(فتح الباري: 503/11) (3)
ایک حدیث میں ہے کہ ہر بندہ اپنے قدموں کے بل کھڑا رہے گا حتی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں چار سوالوں کا جواب نہ دے لے۔
(جامع الترمذي، صفة القیامة، حدیث: 2416)
جنت میں بغیر حساب کتاب جانے والے اس آزمائش سے مستثنیٰ ہوں گے۔
اسی طرح بعض اہل جہنم پہلی فرصت میں دوزخ میں داخل کر دیے جائیں گے، ان کے حساب کتاب کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6543]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6554
6554. حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت سے ستر ہزار۔ یا سات لاکھ (راوی حدیث) ابو حازم کو یاد نہیں رہا کہ (استاد) سہل نے کون سا لفظ بولا تھا۔ آدمی جنت میں اس طرح داخل ہوں گے۔ ان میں سے پہلا شخص جنت میں داخل نہ ہوگا یہاں تک آخری شخص بھی اس کے ساتھ داخل ہوگا۔ ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح چکمتے ہوں گے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6554]
حدیث حاشیہ:
راوی حدیث حصرت سہل بن سعد ساعدی انصاری ہیں۔
وفات نبوی کے وقت یہ 15 سال کے تھے۔
یہ مدینہ میں آخری صحابہ ہیں جو 91 ھ میں فوت ہوئے۔
رضي اللہ عنه و أرضاہ آمین۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6554]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3247
3247. حضرت سہل بن سعد ؓسے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: یقیناً میری امت میں سے ستر ہزار یا سات لاکھ آدمی ایک ساتھ جنت میں داخل ہوں گے۔ ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح (پرنور) ہوں گے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3247]
حدیث حاشیہ:
ایک حدیث میں ان خوش قسمت حضرات کے یہ وصف بیان ہوئے ہیں۔
وہ دم جھاڑ کا کسی سے مطالبہ نہیں کریں گے۔
آگ سے داغنے کو ذریعہ علاج نہیں بنائیں گے بد شگونی نہیں لیں گے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں گے۔
(صحیح البخاري، الرقاق، حدیث: 6541)
جامع ترمذی کی روایت میں ہے۔
ایک ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے۔
(جامع الترمذي، صفة القیامة، حدیث: 2437)
اس طرح بلا حساب جنت میں داخل ہونے والوں کی تعداد انچاس لاکھ بنتی ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ ان ستر ہزار میں سے ہر ایک کے ساتھ مزید ستر، سترہزارہوں گے۔
(مسند أحمد: 6/1 و سلسلة الأحادیث الصحیحة، حدیث: 1484)
اس حساب سے یہ تعداد 4 ارب نوے کروڑ نبتی ہے۔
اس تعداد پر اللہ کی طرف سے مزید اضافہ بھی ہوگا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3247]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6554
6554. حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت سے ستر ہزار۔ یا سات لاکھ (راوی حدیث) ابو حازم کو یاد نہیں رہا کہ (استاد) سہل نے کون سا لفظ بولا تھا۔ آدمی جنت میں اس طرح داخل ہوں گے۔ ان میں سے پہلا شخص جنت میں داخل نہ ہوگا یہاں تک آخری شخص بھی اس کے ساتھ داخل ہوگا۔ ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح چکمتے ہوں گے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6554]
حدیث حاشیہ:
(1)
یہ وہی خوش قسمت حضرات ہوں گے جنہیں حساب کتاب کے بغیر جنت میں داخلہ ملے گا اور وہ وصف واحد میں بیک وقت داخل ہوں گے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ چار لاکھ آدمی آپ کی امت سے بلا حساب جنت میں جائیں گے۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی:
اللہ کے رسول! اس سے زیادہ ہوں تو؟ آپ نے دونوں ہاتھ جمع کر کے اشارہ فرمایا، پھر دوسری مرتبہ بھی دونوں ہاتھوں کو جمع کر کے اشارہ فرمایا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی:
کافی ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ایک ہی ہتھیلی سے ساری مخلوق کو جنت میں داخل کر دے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عمر نے سچ کہا ہے۔
(مسند أحمد: 165/3) (2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کی سند عمدہ ہے لیکن راوئ حدیث قتادہ کے متعلق بہت اختلاف ہے۔
انہوں نے لکھا ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حساب لگایا تو ان کی تعداد اُنچاس لاکھ بنتی ہے۔
(فتح الباري: 500/11)
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6554]

Sahih Bukhari Hadith 6543 in Urdu