علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. باب صفة الجنة والنار:
باب: جنت و جہنم کا بیان۔
حدیث نمبر: 6551
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا الْفُضَيْلُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا بَيْنَ مَنْكِبَيِ الْكَافِرِ مَسِيرَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ للرَّاكِبِ الْمُسْرِعِ".
ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم کو فصل بن موسیٰ نے خبر دی، کہا ہم کو فصیل نے خبر دی، انہیں حازم نے، انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کافر کے دونوں شانوں کے درمیان تیز چلنے والے کے لیے تین دن کی مسافت کا فاصلہ ہو گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6551]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6551
| ما بين منكبي الكافر مسيرة ثلاثة أيام للراكب المسرع |
صحيح مسلم |
7186
| ما بين منكبي الكافر في النار مسيرة ثلاثة أيام للراكب المسرع |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6551 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6551
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ کافر کا جسم، جہنم میں اتنا بڑا کر دیا جائے گا کہ اس کے کانوں سے کندھوں کا فاصلہ ستر سال کی مسافت جتنا ہو گا۔
(مسند أحمد: 117/6) (2)
کفار کی اذیت و تکلیف میں اضافے کے لیے ان کے جسم بڑھا دیے جائیں گے لیکن جب انہیں اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا تو چیونٹیوں کی طرح ذلیل و خوار ہوں گے جیسا کہ ایک روایت میں ہے:
”قیامت کے دن متکبرین کو چیونٹیوں کی طرح مردوں کی صورت میں اٹھایا جائے گا، پھر انہیں دوزخ میں ایک جیل میں بھیجا جائے گا جس کا نام بولس ہے۔
“ (جامع الترمذي، صفة القیامة، حدیث: 2492)
جب دوزخ میں پہنچ جائیں گے تو ان کے جسم حسب عذاب بڑھا دیے جائیں گے تاکہ انہیں عذاب کی شدت بھرپور طریقے سے محسوس ہو۔
(3)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دوزخ میں کفار کے عذاب میں کمی بیشی ہو گی، عام کفار کے مقابلے میں معاندین اور ضدی کافروں کو سخت عذاب دیا جائے گا۔
(فتح الباري: 516/11)
(1)
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ کافر کا جسم، جہنم میں اتنا بڑا کر دیا جائے گا کہ اس کے کانوں سے کندھوں کا فاصلہ ستر سال کی مسافت جتنا ہو گا۔
(مسند أحمد: 117/6) (2)
کفار کی اذیت و تکلیف میں اضافے کے لیے ان کے جسم بڑھا دیے جائیں گے لیکن جب انہیں اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا تو چیونٹیوں کی طرح ذلیل و خوار ہوں گے جیسا کہ ایک روایت میں ہے:
”قیامت کے دن متکبرین کو چیونٹیوں کی طرح مردوں کی صورت میں اٹھایا جائے گا، پھر انہیں دوزخ میں ایک جیل میں بھیجا جائے گا جس کا نام بولس ہے۔
“ (جامع الترمذي، صفة القیامة، حدیث: 2492)
جب دوزخ میں پہنچ جائیں گے تو ان کے جسم حسب عذاب بڑھا دیے جائیں گے تاکہ انہیں عذاب کی شدت بھرپور طریقے سے محسوس ہو۔
(3)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دوزخ میں کفار کے عذاب میں کمی بیشی ہو گی، عام کفار کے مقابلے میں معاندین اور ضدی کافروں کو سخت عذاب دیا جائے گا۔
(فتح الباري: 516/11)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6551]
Sahih Bukhari Hadith 6551 in Urdu
سلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي