صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب من جلس فى المسجد ينتظر الصلاة، وفضل المساجد:
باب: جو شخص مسجد میں نماز کے انتظار میں بیٹھے اس کا بیان اور مساجد کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 659
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ، لَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْقَلِبَ إِلَى أَهْلِهِ إِلَّا الصَّلَاةُ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا امام مالک سے، انہوں نے ابوالزناد سے، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ملائکہ تم میں سے اس نمازی کے لیے اس وقت تک یوں دعا کرتے رہتے ہیں۔ جب تک (نماز پڑھنے کے بعد) وہ اپنے مصلے پر بیٹھا رہے «اللهم اغفر له، اللهم ارحمه» کہ اے اللہ! اس کی مغفرت کر۔ اے اللہ! اس پر رحم کر۔ تم میں سے وہ شخص جو صرف نماز کی وجہ سے رکا ہوا ہے۔ گھر جانے سے سوا نماز کے اور کوئی چیز اس کے لیے مانع نہیں، تو اس کا (یہ سارا وقت) نماز ہی میں شمار ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 659]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت عالم | |
👤←👥عبد الله بن ذكوان القرشي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن ذكوان القرشي ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج | إمام ثقة ثبت | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← عبد الله بن ذكوان القرشي | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥عبد الله بن مسلمة الحارثي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن مسلمة الحارثي ← مالك بن أنس الأصبحي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
659
| الملائكة تصلي على أحدكم ما دام في مصلاه ما لم يحدث اللهم اغفر له اللهم ارحمه لا يزال أحدكم في صلاة ما دامت الصلاة تحبسه لا يمنعه أن ينقلب إلى أهله إلا الصلاة |
صحيح البخاري |
176
| لا يزال العبد في صلاة ما كان في المسجد ينتظر الصلاة ما لم يحدث |
صحيح مسلم |
1509
| لا يزال العبد في صلاة ما كان في مصلاه ينتظر الصلاة تقول الملائكة اللهم اغفر له اللهم ارحمه حتى ينصرف أو يحدث |
صحيح مسلم |
1510
| لا يزال أحدكم في صلاة ما دامت الصلاة تحبسه لا يمنعه أن ينقلب إلى أهله إلا الصلاة |
جامع الترمذي |
330
| لا يزال أحدكم في صلاة ما دام ينتظرها لا تزال الملائكة تصلي على أحدكم ما دام في المسجد اللهم اغفر له اللهم ارحمه ما لم يحدث قال فساء أو ضراط |
سنن أبي داود |
471
| لا يزال العبد في صلاة ما كان في مصلاه ينتظر الصلاة تقول الملائكة اللهم اغفر له اللهم ارحمه حتى ينصرف أو يحدث |
سنن أبي داود |
470
| لا يزال أحدكم في صلاة ما كانت الصلاة تحبسه لا يمنعه أن ينقلب إلى أهله إلا الصلاة |
سنن النسائى الصغرى |
0
| من صلى وجلس ينتظر الصلاة لم يزل في صلاته حتى تأتيه الصلاة التي تلاقيها |
صحيح ابن خزيمة |
26
| لا يزال العبد في الصلاة ما كانت الصلاة تحبسه ما لم يحدث |
موطا امام مالك رواية ابن القاسم |
103
| لا يزال احدكم فى صلاة ما دامت الصلاة تحبسه لا يمنعه ان ينقلب إلى اهله إلا الصلاة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 659 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:659
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒ نے اس عنوان میں دووچیزیں بیان کی ہیں:
٭مساجد کا شرف٭نماز کے انتظار میں بیٹھنے کی فضیلت۔
نماز کے انتظار میں بیٹھنے والا اسی اجر و ثواب کا حق دار ہوتا ہے جو نماز ادا کرنے سے ملتا ہے لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ بے وضو نہ ہو اور کسی کو تکلیف نہ دے، نیز نماز کے علاوہ اور کوئی چیز اسے گھر واپس جانے سے مانع نہ ہو۔
اگر مسجد میں نماز کے علاوہ کسی اور مقصد کےلیے ٹھہرا یا نماز کے انتظار کی نیت میں کسی اور مقصد کو بھی شامل کرلیا تو مذکورہ ثواب کا حق دار نہیں ہوگا۔
(2)
اگر کوئی مسجد سے نکل جاتا ہے لیکن دوبارہ لوٹ کر مسجد میں ہی دوسری نماز ادا کرنے کی فکر میں رہتا ہے تو اسے بھی مذکورہ ثواب نہیں ملے گا، ہاں!اس قسم کے آدمی کو اور نوعیت کا ثواب حاصل ہوگا جسے آئندہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔
غالباً امام بخاری ؒ نے اسی مقصد کے پیش نظر اس حدیث کو یہاں بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 186/2)
(1)
امام بخاری ؒ نے اس عنوان میں دووچیزیں بیان کی ہیں:
٭مساجد کا شرف٭نماز کے انتظار میں بیٹھنے کی فضیلت۔
نماز کے انتظار میں بیٹھنے والا اسی اجر و ثواب کا حق دار ہوتا ہے جو نماز ادا کرنے سے ملتا ہے لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ بے وضو نہ ہو اور کسی کو تکلیف نہ دے، نیز نماز کے علاوہ اور کوئی چیز اسے گھر واپس جانے سے مانع نہ ہو۔
اگر مسجد میں نماز کے علاوہ کسی اور مقصد کےلیے ٹھہرا یا نماز کے انتظار کی نیت میں کسی اور مقصد کو بھی شامل کرلیا تو مذکورہ ثواب کا حق دار نہیں ہوگا۔
(2)
اگر کوئی مسجد سے نکل جاتا ہے لیکن دوبارہ لوٹ کر مسجد میں ہی دوسری نماز ادا کرنے کی فکر میں رہتا ہے تو اسے بھی مذکورہ ثواب نہیں ملے گا، ہاں!اس قسم کے آدمی کو اور نوعیت کا ثواب حاصل ہوگا جسے آئندہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔
غالباً امام بخاری ؒ نے اسی مقصد کے پیش نظر اس حدیث کو یہاں بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 186/2)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 659]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 103
نماز کے انتظار میں رہنا بہت عظیم عمل ہے
«. . . 329- مالك وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم: قال: ”لا يزال أحدكم فى صلاة ما دامت الصلاة تحبسه لا يمنعه أن ينقلب إلى أهله إلا الصلاة.“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر آدمی اس وقت تک نماز میں رہتا ہے جب تک نماز اسے (اپنے انتظار میں) روکے رکھتی ہے۔ وہ نماز کی وجہ سے اپنے گھر واپس نہیں جاتا۔“ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 103]
«. . . 329- مالك وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم: قال: ”لا يزال أحدكم فى صلاة ما دامت الصلاة تحبسه لا يمنعه أن ينقلب إلى أهله إلا الصلاة.“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر آدمی اس وقت تک نماز میں رہتا ہے جب تک نماز اسے (اپنے انتظار میں) روکے رکھتی ہے۔ وہ نماز کی وجہ سے اپنے گھر واپس نہیں جاتا۔“ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 103]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 659، ومسلم 275/649 بعد ح661، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ نماز کا انتظار کرنا بڑے ثواب اور فضیلت کا کام ہے۔
➋ فرض نماز مسجد میں پڑھنی چاہئے۔
➌ نیز دیکھئے آنے والی الموطأ حدیث: 330، اور حدیث سابق: 134
➍ ابوبکر بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے تھے: جو شخص صبح یا شام کو مسجد صرف اس لئے جاتا ہے کہ علم سیکھے یا بھلائی حاصل کرے پھر وہ گھر واپس جاتا ہے تو اس کی مثال اس مجاہد جیسی ہے جو مالِ غنیمت لے کر گھر واپس آتا ہے۔ [الموطأ 1/161 ح383، وسنده صحيح]
[وأخرجه البخاري 659، ومسلم 275/649 بعد ح661، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ نماز کا انتظار کرنا بڑے ثواب اور فضیلت کا کام ہے۔
➋ فرض نماز مسجد میں پڑھنی چاہئے۔
➌ نیز دیکھئے آنے والی الموطأ حدیث: 330، اور حدیث سابق: 134
➍ ابوبکر بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے تھے: جو شخص صبح یا شام کو مسجد صرف اس لئے جاتا ہے کہ علم سیکھے یا بھلائی حاصل کرے پھر وہ گھر واپس جاتا ہے تو اس کی مثال اس مجاہد جیسی ہے جو مالِ غنیمت لے کر گھر واپس آتا ہے۔ [الموطأ 1/161 ح383، وسنده صحيح]
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 329]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 470
مسجد میں بیٹھے رہنے کی فضیلت کا بیان۔
اسی سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک شخص برابر نماز ہی میں رہتا ہے جب تک نماز اس کو روکے رہے یعنی اپنے گھر والوں کے پاس واپس جانے سے اسے نماز کے علاوہ کوئی اور چیز نہ روکے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 470]
اسی سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک شخص برابر نماز ہی میں رہتا ہے جب تک نماز اس کو روکے رہے یعنی اپنے گھر والوں کے پاس واپس جانے سے اسے نماز کے علاوہ کوئی اور چیز نہ روکے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 470]
470. اردو حاشیہ:
یعنی مسجد میں رکنا صرف نماز اور اذکار کے لئے ہو نہ کہ کسی اور غرض سے۔
یعنی مسجد میں رکنا صرف نماز اور اذکار کے لئے ہو نہ کہ کسی اور غرض سے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 470]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 471
مسجد میں بیٹھے رہنے کی فضیلت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ برابر نماز ہی میں رہتا ہے، جب تک اپنے مصلی میں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرتا رہے، فرشتے کہتے ہیں: اے اللہ! تو اسے بخش دے، اے اللہ! تو اس پر رحم فرما، جب تک کہ وہ نماز سے فارغ ہو کر گھر نہ لوٹ جائے، یا حدث نہ کرے۔“ عرض کیا گیا: حدث سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(حدث یہ ہے کہ وہ) بغیر آواز کے یا آواز کے ساتھ ہوا خارج کرے (یعنی وضو توڑ دے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 471]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ برابر نماز ہی میں رہتا ہے، جب تک اپنے مصلی میں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرتا رہے، فرشتے کہتے ہیں: اے اللہ! تو اسے بخش دے، اے اللہ! تو اس پر رحم فرما، جب تک کہ وہ نماز سے فارغ ہو کر گھر نہ لوٹ جائے، یا حدث نہ کرے۔“ عرض کیا گیا: حدث سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(حدث یہ ہے کہ وہ) بغیر آواز کے یا آواز کے ساتھ ہوا خارج کرے (یعنی وضو توڑ دے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 471]
471۔ اردو حاشیہ:
➊ نماز کے بعد بیٹھنے کی احادیث اور ان کی فضیلت کو عموم پر محول کیا جاتا ہے۔ کہ انسان سنتوں کے بعد فرضوں کا انتظار کر رہا ہو، یا فرضوں کے بعد سنتوں کے لئے بیٹھا ہو، یا دوسری نماز کا انتظار کر رہا ہو۔ یا ذکر اذکار میں مشغول ہو۔ ان شاء اللہ اس فضیلت سے محروم نہیں ہو گا۔ چاہیے کہ مسلمان لا یعنی اور بےفائدہ مجالس و مشاغل کو چھوڑ کر مسجد کی مجلس اختیار کرے۔
➋ «فساء» ”بغیر آواز کے ہوا خارج ہونا ہے“ اور «ضراط» کہتے ہیں ”آواز کے ساتھ ہوا کے خارج ہونے کو“ اردو میں اسے پھسکی اور گوز یا پاد مارنا کہتے ہیں۔
➊ نماز کے بعد بیٹھنے کی احادیث اور ان کی فضیلت کو عموم پر محول کیا جاتا ہے۔ کہ انسان سنتوں کے بعد فرضوں کا انتظار کر رہا ہو، یا فرضوں کے بعد سنتوں کے لئے بیٹھا ہو، یا دوسری نماز کا انتظار کر رہا ہو۔ یا ذکر اذکار میں مشغول ہو۔ ان شاء اللہ اس فضیلت سے محروم نہیں ہو گا۔ چاہیے کہ مسلمان لا یعنی اور بےفائدہ مجالس و مشاغل کو چھوڑ کر مسجد کی مجلس اختیار کرے۔
➋ «فساء» ”بغیر آواز کے ہوا خارج ہونا ہے“ اور «ضراط» کہتے ہیں ”آواز کے ساتھ ہوا کے خارج ہونے کو“ اردو میں اسے پھسکی اور گوز یا پاد مارنا کہتے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 471]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 330
مسجد میں بیٹھنے اور نماز کے انتظار کی فضیلت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی برابر نماز ہی میں رہتا ہے جب تک وہ اس کا انتظار کرتا ہے اور فرشتے اس کے لیے برابر دعا کرتے رہتے ہیں جب تک وہ مسجد میں رہتا ہے، کہتے ہیں «اللهم اغفر له» ”اللہ! اسے بخش دے“ «اللهم ارحمه» ”اے اللہ! اس پر رحم فرما“ جب تک وہ «حدث» نہیں کرتا“، تو حضر موت کے ایک شخص نے پوچھا: «حدث» کیا ہے ابوہریرہ؟ تو ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: آہستہ سے یا زور سے ہوا خارج کرنا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 330]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی برابر نماز ہی میں رہتا ہے جب تک وہ اس کا انتظار کرتا ہے اور فرشتے اس کے لیے برابر دعا کرتے رہتے ہیں جب تک وہ مسجد میں رہتا ہے، کہتے ہیں «اللهم اغفر له» ”اللہ! اسے بخش دے“ «اللهم ارحمه» ”اے اللہ! اس پر رحم فرما“ جب تک وہ «حدث» نہیں کرتا“، تو حضر موت کے ایک شخص نے پوچھا: «حدث» کیا ہے ابوہریرہ؟ تو ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: آہستہ سے یا زور سے ہوا خارج کرنا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 330]
اردو حاشہ:
1؎:
اس حدیث سے مسجد میں بیٹھ کر نماز کے انتظار کرنے کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے،
نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسجد میں حدث کرنا فرشتوں کے استغفار سے محرومی کا باعث ہے۔
1؎:
اس حدیث سے مسجد میں بیٹھ کر نماز کے انتظار کرنے کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے،
نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسجد میں حدث کرنا فرشتوں کے استغفار سے محرومی کا باعث ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 330]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:176
176. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ اس وقت تک نماز میں رہتا ہے جب تک وہ مسجد میں نماز کا انتظار کرتا ہے، بشرطیکہ اسے حدث لاحق نہ ہو۔“ ایک عجمی شخص نے سوال کیا: ابوہریرہ! حدث کیا ہے؟ فرمایا: حدث آواز، یعنی گوذ کو کہتے ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:176]
حدیث حاشیہ:
1۔
اس روایت میں صرف آواز کے ساتھ اخراج ریح کو حدث قرار دیا گیا ہے۔
معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث مختصر ہے۔
اس سے پہلے حدیث نمبر: 135 میں وضاحت ہے کہ حدث دونوں صورتوں میں ہو سکتا ہے۔
آواز کے ساتھ بھی اور بغیر آواز کے بھی۔
چونکہ نماز اور مسجد کا ذکر ہو رہا تھا اور نماز میں اکثر وبیشتر یہی حدث لاحق ہوتا ہے، اس لیے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صرف اسی چیز کا ذکر کیا جو اس حالت میں زیادہ پیش آنے والی تھی۔
قبل ازیں ظاہری نجاست کا ذکر تھا، اب نجاست باطنی کو بیان کیا جارہا ہے، چونکہ سوال مسجد میں انتظار نماز سے متعلق تھا، اس لیے جواب بھی خاص دیا گیا اور جس ناقض وضو کا احتمال وقوعی ہوسکتا تھا اسے ذکر کردیا گیا، احتمال عقلی سے تعرض نہیں کیا گیا۔
(فتح الباري: 370/1)
2۔
اس حدیث کے دیگرطرق سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے شخص کے لیے فرشتے رحمت ومغفرت کی دعا کرتے رہتے ہیں جب تک وہ مسجد میں کسی دوسرے کی اذیت کا باعث نہیں بنتا۔
(صحیح البخاري، الصلاة، حدیث: 477)
اس حدیث سے مندرجہ ذیل فوائد کا استنباط ہوتا ہے:
(الف)
۔
انتظار نماز کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، کیونکہ عبادت کاانتظار بھی عبادت ہی شمارہوتا ہے۔
(ب)
۔
جو نماز کے اسباب میں منہمک ہوتا ہے وہ بھی نمازی شمارہوتا ہے۔
(ج)
یہ فضیلت اس شخص کے لیے ہے جو بے وضو نہ ہو، خواہ اس کا نقض وضو کسی سبب بھی ہو۔
(د)
انتظار نماز، نماز ہی سے ہے، اس کامطلب یہ ہے کہ اسے نماز کا ثواب ملتا ہے، کیونکہ نماز میں رہنے والے کو دوسرے سے بات چیت کرنا منع ہے، جبکہ انتظار کرنے والے پر بات چیت کرنے کی کوئی پابندی نہیں ہے۔
(عمدة القاري: 507/2)
1۔
اس روایت میں صرف آواز کے ساتھ اخراج ریح کو حدث قرار دیا گیا ہے۔
معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث مختصر ہے۔
اس سے پہلے حدیث نمبر: 135 میں وضاحت ہے کہ حدث دونوں صورتوں میں ہو سکتا ہے۔
آواز کے ساتھ بھی اور بغیر آواز کے بھی۔
چونکہ نماز اور مسجد کا ذکر ہو رہا تھا اور نماز میں اکثر وبیشتر یہی حدث لاحق ہوتا ہے، اس لیے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صرف اسی چیز کا ذکر کیا جو اس حالت میں زیادہ پیش آنے والی تھی۔
قبل ازیں ظاہری نجاست کا ذکر تھا، اب نجاست باطنی کو بیان کیا جارہا ہے، چونکہ سوال مسجد میں انتظار نماز سے متعلق تھا، اس لیے جواب بھی خاص دیا گیا اور جس ناقض وضو کا احتمال وقوعی ہوسکتا تھا اسے ذکر کردیا گیا، احتمال عقلی سے تعرض نہیں کیا گیا۔
(فتح الباري: 370/1)
2۔
اس حدیث کے دیگرطرق سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے شخص کے لیے فرشتے رحمت ومغفرت کی دعا کرتے رہتے ہیں جب تک وہ مسجد میں کسی دوسرے کی اذیت کا باعث نہیں بنتا۔
(صحیح البخاري، الصلاة، حدیث: 477)
اس حدیث سے مندرجہ ذیل فوائد کا استنباط ہوتا ہے:
(الف)
۔
انتظار نماز کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، کیونکہ عبادت کاانتظار بھی عبادت ہی شمارہوتا ہے۔
(ب)
۔
جو نماز کے اسباب میں منہمک ہوتا ہے وہ بھی نمازی شمارہوتا ہے۔
(ج)
یہ فضیلت اس شخص کے لیے ہے جو بے وضو نہ ہو، خواہ اس کا نقض وضو کسی سبب بھی ہو۔
(د)
انتظار نماز، نماز ہی سے ہے، اس کامطلب یہ ہے کہ اسے نماز کا ثواب ملتا ہے، کیونکہ نماز میں رہنے والے کو دوسرے سے بات چیت کرنا منع ہے، جبکہ انتظار کرنے والے پر بات چیت کرنے کی کوئی پابندی نہیں ہے۔
(عمدة القاري: 507/2)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 176]
عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي