علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب كيف كانت يمين النبى صلى الله عليه وسلم؟
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قسم کس طرح کھاتے تھے۔
حدیث نمبر: 6629
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ، فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ كِسْرَى، فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے عبدالملک نے، ان سے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب قیصر ہلاک ہو جائے گا تو پھر اس کے بعد کوئی قیصر نہیں پیدا ہو گا اور جب کسریٰ ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں پیدا ہو گا اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ان کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 6629]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3121
| إذا هلك كسرى فلا كسرى بعده وإذا هلك قيصر فلا قيصر بعده لتنفقن كنوزهما في سبيل الله |
صحيح البخاري |
6629
| إذا هلك قيصر فلا قيصر بعده وإذا هلك كسرى فلا كسرى بعده لتنفقن كنوزهما في سبيل الله |
صحيح البخاري |
3619
| هلك كسرى فلا كسرى بعده وذكر لتنفقن كنوزهما في سبيل الله |
صحيح مسلم |
7331
| لتفتحن عصابة من المؤمنين كنز آل كسرى الذي في الأبيض |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6629 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6629
حدیث حاشیہ:
(فلا قيصر بعده)
بالشام قاله عليه الصلاة والسلام تطييبًا لقلوب أصحابه من قريش وتبشيرًا لهم بأن ملكهما يزول عن الإقليمين المذكورين لأنهم كانوا يأتون الشام والعراق تجارًا، فلما أسلموا خافوا انقطاع سفرهم إليهما لدخولهم في الإسلام فقال لهم -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- ذلك قاله إمامنا الأعظم الشافعي، وقد عاش قيصر إلى زمن عمر سنة عشرين على الصحيح وبقي ملكه، وإنما ارتفع من الشام (القسطلاني)
یعنی اس کے ہلاک ہونےکے بعد شام میں اب اور کوئی قیصر نہیں ہو سکے گا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اپنے اصحاب کرام کو بطور بشارت فرمایا تھا کہ عنقریب اب کسریٰ وقیصر کی حکومتیں ختم ہو جائیں گی۔
یہ قریشی صحابہ کرام قبل از اسلام ان ملکوں میں تجارتی سفرکیا کرتےتھے اسلام لانے کے بعد ان کو اس سفر میں خدشہ نظرآیا اس لیے آپ نے ان کو بشارت سنائی۔
کسریٰ نے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نامہ مبارک کو چاک چاک کیا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بددعا سےاس کا ملک چاک چاک ہو گیا اور ساری روئے زمین سے اس کا نام ونشان مٹ گیا۔
قیصر نے آپ کے نامہ مبارک کو باعزت واکرام رکھا تھا اس اس کے ملک کے باقی رہنے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی۔
پس اس کا ملک شام سےمنقطع ہو کر روم میں باقی رہ گیا ملک شام سے متعلق آپ کی ہر دو حکومتوں کے متعلق پیش گوئی حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئی ( صلی اللہ علیہ وسلم )
(فلا قيصر بعده)
بالشام قاله عليه الصلاة والسلام تطييبًا لقلوب أصحابه من قريش وتبشيرًا لهم بأن ملكهما يزول عن الإقليمين المذكورين لأنهم كانوا يأتون الشام والعراق تجارًا، فلما أسلموا خافوا انقطاع سفرهم إليهما لدخولهم في الإسلام فقال لهم -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- ذلك قاله إمامنا الأعظم الشافعي، وقد عاش قيصر إلى زمن عمر سنة عشرين على الصحيح وبقي ملكه، وإنما ارتفع من الشام (القسطلاني)
یعنی اس کے ہلاک ہونےکے بعد شام میں اب اور کوئی قیصر نہیں ہو سکے گا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اپنے اصحاب کرام کو بطور بشارت فرمایا تھا کہ عنقریب اب کسریٰ وقیصر کی حکومتیں ختم ہو جائیں گی۔
یہ قریشی صحابہ کرام قبل از اسلام ان ملکوں میں تجارتی سفرکیا کرتےتھے اسلام لانے کے بعد ان کو اس سفر میں خدشہ نظرآیا اس لیے آپ نے ان کو بشارت سنائی۔
کسریٰ نے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نامہ مبارک کو چاک چاک کیا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بددعا سےاس کا ملک چاک چاک ہو گیا اور ساری روئے زمین سے اس کا نام ونشان مٹ گیا۔
قیصر نے آپ کے نامہ مبارک کو باعزت واکرام رکھا تھا اس اس کے ملک کے باقی رہنے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی۔
پس اس کا ملک شام سےمنقطع ہو کر روم میں باقی رہ گیا ملک شام سے متعلق آپ کی ہر دو حکومتوں کے متعلق پیش گوئی حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئی ( صلی اللہ علیہ وسلم )
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6629]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3121
3121. حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسریٰ ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہوگا اور جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہوگا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!یقیناً تم لوگ ان دونوں (حکومتوں) کے خزانے (اللہ کے راستے میں) ضرور خرچ کروگے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3121]
حدیث حاشیہ:
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشن گوئی حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئی کہ عروج اسلام کے بعد قدیم ایرانی سلطنت کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوگیا‘ اور چودہ سو سال سے ایران اسلام ہی کے زیر نگیں ہے۔
یہی حال شام کا ہوا۔
ان کے خزانے جو ہزارہا سالوں سے جمع کردہ تھے۔
مسلمانوں کے ہاتھ آئے اور وہ مستحقین میں تقسیم کردیئے گئے۔
صدق رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشن گوئی حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئی کہ عروج اسلام کے بعد قدیم ایرانی سلطنت کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوگیا‘ اور چودہ سو سال سے ایران اسلام ہی کے زیر نگیں ہے۔
یہی حال شام کا ہوا۔
ان کے خزانے جو ہزارہا سالوں سے جمع کردہ تھے۔
مسلمانوں کے ہاتھ آئے اور وہ مستحقین میں تقسیم کردیئے گئے۔
صدق رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3121]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3121
3121. حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسریٰ ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہوگا اور جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہوگا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!یقیناً تم لوگ ان دونوں (حکومتوں) کے خزانے (اللہ کے راستے میں) ضرور خرچ کروگے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3121]
حدیث حاشیہ:
ان دونوں احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیش گوئی کا ذکر ہے جوحرف بہ حرف پوری ہوئی۔
وہ یہ کہ عروج اسلام کے بعد قدیم ایرانی سلطنت اور روم کی حکومت ختم ہوجائے گی، چنانچہ ایسا ہی ہوا، ایران کا آتش کدہ ہمیشہ کے لیے بجھ گیا اور رومی حکومت بھی نیست ونابود ہوگئی۔
ان دونوں حکومتوں کے خزانے مسلمانوں کے ہاتھ آئے اور حقداروں میں تقسیم ہوئے۔
اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے مجاہدین کے لیے ان حکومتوں کے خزانے حلال کردیے جو غنیمت کی شکل میں ان کے ہاتھ آئے۔
ان دونوں احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیش گوئی کا ذکر ہے جوحرف بہ حرف پوری ہوئی۔
وہ یہ کہ عروج اسلام کے بعد قدیم ایرانی سلطنت اور روم کی حکومت ختم ہوجائے گی، چنانچہ ایسا ہی ہوا، ایران کا آتش کدہ ہمیشہ کے لیے بجھ گیا اور رومی حکومت بھی نیست ونابود ہوگئی۔
ان دونوں حکومتوں کے خزانے مسلمانوں کے ہاتھ آئے اور حقداروں میں تقسیم ہوئے۔
اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے مجاہدین کے لیے ان حکومتوں کے خزانے حلال کردیے جو غنیمت کی شکل میں ان کے ہاتھ آئے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3121]
Sahih Bukhari Hadith 6629 in Urdu
عبد الملك بن عمير اللخمي ← جابر بن سمرة العامري