🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب كيف كانت يمين النبى صلى الله عليه وسلم؟
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قسم کس طرح کھاتے تھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6636
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ عَامِلًا، فَجَاءَهُ الْعَامِلُ حِينَ فَرَغَ مِنْ عَمَلِهِ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ: هَذَا لَكُمْ، وَهَذَا أُهْدِيَ لِي، فَقَالَ لَهُ:" أَفَلَا قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ، فَنَظَرْتَ أَيُهْدَى لَكَ أَمْ لَا"، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَتَشَهَّدَ وَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ الْعَامِلِ نَسْتَعْمِلُهُ، فَيَأْتِينَا فَيَقُولُ: هَذَا مِنْ عَمَلِكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي، أَفَلَا قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ، فَنَظَرَ هَلْ يُهْدَى لَهُ أَمْ لَا، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ، بِيَدِهِ لَا يَغُلُّ أَحَدُكُمْ مِنْهَا شَيْئًا، إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِهِ، إِنْ كَانَ بَعِيرًا جَاءَ بِهِ لَهُ رُغَاءٌ، وَإِنْ كَانَتْ بَقَرَةً جَاءَ بِهَا لَهَا خُوَارٌ، وَإِنْ كَانَتْ شَاةً جَاءَ بِهَا تَيْعَرُ، فَقَدْ بَلَّغْتُ"، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ حَتَّى إِنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى عُفْرَةِ إِبْطَيْهِ، قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: وَقَدْ سَمِعَ ذَلِكَ مَعِي: زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلُوهُ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے عروہ ثقفی نے خبر دی، نہیں ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عامل مقرر کیا۔ عامل اپنے کام پورے کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ مال آپ کا ہے اور یہ مال مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم اپنے ماں باپ کے گھر ہی میں کیوں نہیں بیٹھے رہے اور پھر دیکھتے کہ تمہیں کوئی تحفہ دیتا ہے یا نہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے، رات کی نماز کے بعد اور کلمہ شہادت اور اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق ثنا کے بعد فرمایا امابعد! ایسے عامل کو کیا ہو گیا ہے کہ ہم اسے عامل بناتے ہیں۔ (جزیہ اور دوسرے ٹیکس وصول کرنے کے لیے) اور وہ پھر ہمارے پاس آ کر کہتا ہے کہ یہ تو آپ کا ٹیکس ہے اور مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ پھر وہ اپنے ماں باپ کے گھر کیوں نہیں بیٹھا اور دیکھتا کہ اسے تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی بھی اس مال میں سے کچھ بھی خیانت کرے گا تو قیامت کے دن اسے اپنی گردن پر اٹھائے گا۔ اگر اونٹ کی اس نے خیانت کی ہو گی تو اس حال میں لے کر آئے گا کہ آواز نکل رہی ہو گی۔ اگر گائے کی خیانت کی ہو گی تو اس حال میں اسے لے کر آئے گا کہ گائے کی آواز آ رہی ہو گی۔ اگر بکری کی خیانت کی ہو گی تو اس حال میں آئے گا کہ بکری کی آواز آ رہی ہو گی۔ بس میں نے تم تک پہنچا دیا۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اتنی اوپر اٹھایا کہ ہم آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھنے لگے۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے ساتھ یہ حدیث زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، تم لوگ ان سے بھی پوچھ لو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 6636]
حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عامل مقرر فرمایا؛ جب وہ اپنے کام سے فارغ ہو کر واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اللہ کے رسول! یہ آپ کا مال ہے اور یہ مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم اپنے والدین کے گھر کیوں نہیں بیٹھے رہے، پھر تم دیکھتے کہ تمہیں کوئی تحفہ دیتا ہے یا نہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے بعد کھڑے ہوئے، خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی شایانِ شان تعریف کی، پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ» حمد و ثنا کے بعد! اس عامل کا کیا حال ہے؟ ہم اسے کسی کام کے لیے تعینات کرتے ہیں، وہ ہمارے پاس آ کر کہتا ہے کہ یہ تو آپ کا وصول کردہ مال ہے اور یہ مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ وہ اپنے والدین کے گھر کیوں نہ بیٹھا رہا، پھر وہ دیکھتا کہ اسے تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اگر تم میں سے کوئی اس مال میں سے کچھ خیانت کرے گا تو قیامت کے دن وہ اسے اپنی گردن پر اٹھائے لائے گا۔ اگر وہ اونٹ ہو گا تو وہ اس حال میں اسے لائے گا کہ وہ بلبلا رہا ہو گا۔ اگر وہ گائے ہو گی تو وہ اسے لائے گا اور اس کے ڈکارنے کی آواز آ رہی ہو گی، اگر بکری کی خیانت کی ہو گی تو وہ اسے اس حال میں لائے گا کہ وہ ممیاتی ہو گی۔ الغرض میں نے تمہیں اللہ کا حکم پہنچا دیا ہے۔ حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک اس قدر اوپر اٹھایا کہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی۔ حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا: میرے ساتھ یہ حدیث حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، تم لوگ ان سے بھی پوچھ سکتے ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 6636]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الرحمن بن سعد الساعدي، أبو حميدصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عبد الرحمن بن سعد الساعدي
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر
Newشعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ متقن
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان
Newالحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
7174
ما بال العامل نبعثه فيأتي يقول هذا لك وهذا لي فهلا جلس في بيت أبيه وأمه فينظر أيهدى له أم لا والذي نفسي بيده لا يأتي بشيء إلا جاء به يوم القيامة يحمله على رقبته إن كان بعيرا له رغاء أو بقرة لها خوار أو شاة تيعر ثم رفع يديه حتى رأينا عفرتي إبطيه ألا هل بلغ
صحيح البخاري
7197
هلا جلس في بيت أبيه وبيت أمه حتى تأتيه هديته إن كان صادقا فوالله لا يأخذ أحدكم منها شيئا قال هشام بغير حقه إلا جاء الله يحمله يوم القيامة ألا فلأعرفن ما جاء الله رجل ب
صحيح البخاري
6636
ما بال العامل نستعمله فيأتينا فيقول هذا من عملكم وهذا أهدي لي أفلا قعد في بيت أبيه وأمه فنظر هل يهدى له أم لا فوالذي نفس محمد بيده لا يغل أحدكم منها شيئا إلا جاء به يوم القيامة يحمله على عنقه إن كان بعيرا جاء به له رغاء وإن كانت بقرة جاء بها لها خوار وإن
صحيح البخاري
6979
هلا جلست في بيت أبيك وأمك حتى تأتيك هديتك إن كنت صادقا ثم خطبنا فحمد الله وأثنى عليه ثم قال أما بعد فإني أستعمل الرجل منكم على العمل مما ولاني الله فيأتي فيقول هذا مالكم وهذا هدية أهديت لي أفلا جلس في بيت أبيه وأمه حتى تأتيه هديته والله لا يأخذ أحد منكم ش
صحيح البخاري
2597
هلا جلس في بيت أبيه أو بيت أمه فينظر يهدى له أم لا والذي نفسي بيده لا يأخذ أحد منه شيئا إلا جاء به يوم القيامة يحمله على رقبته إن كان بعيرا له رغاء أو بقرة لها خوار أو شاة تيعر ثم رفع بيده حتى رأينا عفرة إبطيه اللهم هل بلغت اللهم هل بلغت ثلاثا
صحيح البخاري
1500
استعمل رسول الله رجلا من الأسد على صدقات بني سليم يدعى ابن اللتبية فلما جاء حاسبه
صحيح مسلم
4740
هلا جلست في بيت أبيك وأمك حتى تأتيك هديتك إن كنت صادقا ثم خطبنا فحمد الله وأثنى عليه ثم قال أما بعد فإني أستعمل الرجل منكم على العمل مما ولاني الله فيأتي فيقول هذا مالكم وهذا هدية أهديت لي أفلا جلس في بيت أبيه وأمه حتى تأتيه هديته إن كان صادقا والله لا يأ
صحيح مسلم
4738
ما بال عامل أبعثه فيقول هذا لكم وهذا أهدي لي أفلا قعد في بيت أبيه أو في بيت أمه حتى ينظر أيهدى إليه أم لا والذي نفس محمد بيده لا ينال أحد منكم منها شيئا إلا جاء به يوم القيامة يحمله على عنقه بعير له رغاء أو بقرة لها خوار أو شاة تيعر ثم رفع يديه حتى رأينا
سنن أبي داود
2946
ما بال العامل نبعثه فيجيء فيقول هذا لكم وهذا أهدي لي ألا جلس في بيت أمه أو أبيه فينظر أيهدى له أم لا لا يأتي أحد منكم بشيء من ذلك إلا جاء به يوم القيامة إن كان بعيرا فله رغاء أو بقرة فلها خوار أو شاة تيعر ثم رفع يديه حتى رأينا عفرة إبطيه ثم قال اللهم هل ب
المعجم الصغير للطبراني
414
هلا جلس في بيت أبيه وأمه فينظر ما يهدى إليه من عمل منكم عملا فليأتنا بقليله وكثيره وليحذر أحدكم أن يأتي يوم القيامة ببعير يحمله على رقبته له رغاء أو بقرة لها خوار أو شاة تي
مسندالحميدي
863
Sahih Bukhari Hadith 6636 in Urdu