یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب كيف كانت يمين النبى صلى الله عليه وسلم؟
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قسم کس طرح کھاتے تھے۔
حدیث نمبر: 6635
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ أَسْلَمُ، وَغِفَارُ، وَمُزَيْنَةُ، وَجُهَيْنَةُ، خَيْرًا مِنْ، تَمِيمٍ، وَعَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، وَغَطَفَانَ، وَأَسَدٍ، خَابُوا وَخَسِرُوا"، قَالُوا: نَعَمْ، فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ".
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابی یعقوب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بھلا بتلاؤ اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ کے قبائل اگر تمیم، عامر بن صعصعہ، غطفان اور اسد والوں سے بہتر ہوں تو یہ تمیم اور عامر اور غطفان اور اسد والے گھاٹے میں پڑے اور نقصان میں رہے یا نہیں۔ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں بیشک۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر پھر فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے (وہ پہلے جن قبائل کا ذکر ہوا) ان (تمیم وغیرہ) سے بہتر ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 6635]
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بتاؤ اگر اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ کے قبائل، تمیم، عامر بن صعصعہ، غطفان اور اسد والوں سے بہتر ہوں تو کیا یہ تمیم، عامر، غطفان اور اسد والے گھاٹے میں پڑے اور نقصان میں رہے یا نہیں؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”جی ہاں! یہ لوگ خسارے میں رہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ» ”مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! (پہلے قبائل) ان (دوسروں) سے بہتر ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 6635]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3515
| أسلم غفار مزينة جهينة خيرا من بني تميم |
صحيح البخاري |
6635
| أسلم غفار مزينة جهينة خيرا من تميم عامر بن صعصعة |
صحيح مسلم |
6448
| أسلم غفار مزينة جهينة خير من بني تميم من بني عامر والحليفين بني أسد غطفان |
صحيح مسلم |
6446
| أسلم غفار مزينة جهينة خيرا من بني تميم بني عامر أسد |
جامع الترمذي |
3952
| أسلم غفار مزينة خير من تميم أسد غطفان بني عامر بن صعصعة |
المعجم الصغير للطبراني |
911
| أسلم غفار مزينة جهينة خير عند الله من بني أسد غطفان بني عامر بن صعصعة |
المعجم الصغير للطبراني |
841
| أرأيتم إن كان جهينة ، ومزينة ، وأسلم ، وغفار خيرا عند الله من أسد ، وغطفان ومن بني عامر بن صعصعة ، هل خابوا وخسروا ؟ ، قالوا : نعم ، فإن جهينة ، ومزينة ، وأسلم ، وغفارا خير من أسد ، وغطفان ، ومن بني عامر بن صعصعة |
Sahih Bukhari Hadith 6635 in Urdu
عبد الرحمن بن أبي بكرة الثقفي ← نفيع بن مسروح الثقفي