🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب رجم المحصن:
باب: محصن (شادی شدہ کو زنا کی علت میں) سنگسار کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6813
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ" سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى هَلْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: قَبْلَ سُورَةِ النُّورِ أَمْ بَعْدُ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي".
مجھ سے اسحاق واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد طحان نے بیان کیا، ان سے شیبانی نے کہا میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو رجم کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں میں نے پوچھا: سورۃ النور سے پہلے یا اس کے بعد کہا کہ یہ مجھے معلوم نہیں (امر نامعلوم کے لیے اظہار لاعلمی کر دینا بھی امر محمود ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6813]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي، أبو محمد، أبو إبراهيم، أبو معاويةصحابي
👤←👥سليمان بن فيروز الشيباني، أبو إسحاق
Newسليمان بن فيروز الشيباني ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي
ثقة
👤←👥خالد بن عبد الله الطحان، أبو محمد، أبو الهيثم
Newخالد بن عبد الله الطحان ← سليمان بن فيروز الشيباني
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن شاهين الواسطي، أبو بشر
Newإسحاق بن شاهين الواسطي ← خالد بن عبد الله الطحان
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6813 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6813
حدیث حاشیہ:
یعنی قانون رجم طریقہ محمدی ہے جو اس برائی کو ختم کرنے کے لیے تیر بہدف ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6813]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6813
حدیث حاشیہ:
(1)
سورۂ نور سے مراد اس کی درج ذیل آیت کریمہ ہے:
زانی عورت یا مرد ان میں سے ہر ایک کو سو، سوکوڑے لگاؤ۔
(النور24: 2)
اس کے متعلق سوال کرنے کا فائدہ یہ تھا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے نازل ہونے سے پہلے رجم کیا ہے تو ممکن ہے کہ آیت کریمہ سے وہ رجم منسوخ ہوگیا ہو کیونکہ اس آیت میں کوڑے لگانے کا ذکر ہے اور اگر بعد میں اس کا نزول ہوا ہے تو ممکن ہے کہ شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا اس آیت سے مخصوص ہو، لیکن صحابی نے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا کہ وہ مجھے معلوم نہیں۔
(2)
حقیقت یہ ہے کہ ان آیات کا نزول سزائے رجم سے پہلے ہے کیونکہ یہ سورت 6 ہجری میں نازل ہوئی ہے اور رجم کے راوی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں جو فتح خیبر کے موقع پر سات ہجری میں مسلمان ہوئے تھے۔
اس طرح رجم سے متعلقہ واقعے کی روایت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔
(صحیح البخاري، الحدود، حدیث: 6824)
اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنی والدہ کے ہمراہ نو ہجری میں مدینہ طیبہ تشریف لائے تھے۔
(فتح الباري: 147/12)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6813]

Sahih Bukhari Hadith 6813 in Urdu