🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
60. باب إذا طول الإمام وكان للرجل حاجة فخرج فصلى:
باب: اگر امام لمبی سورۃ شروع کر دے اور کسی کو کام ہو وہ اکیلے نماز پڑھ کر چل دے تو یہ کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 701
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ، فَصَلَّى الْعِشَاءَ فَقَرَأَ بِالْبَقَرَةِ فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ، فَكَأَنَّ مُعَاذًا تَنَاوَلَ مِنْهُ فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: فَتَّانٌ، فَتَّانٌ، فَتَّانٌ، ثَلَاثَ مِرَارٍ، أَوْ قَالَ: فَاتِنًا، فَاتِنًا، فَاتِنًا، وَأَمَرَهُ بِسُورَتَيْنِ مِنْ أَوْسَطِ الْمُفَصَّلِ"، قَالَ عَمْرٌو: لَا أَحْفَظُهُمَا.
(دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے عمرو سے بیان کیا، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری سے سنا، آپ نے فرمایا کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (فرض) نماز پڑھتے پھر واپس جا کر اپنی قوم کے لوگوں کو (وہی) نماز پڑھایا کرتے تھے۔ ایک بار عشاء میں انہوں نے سورۃ البقرہ شروع کی۔ (مقتدیوں میں سے) ایک شخص نماز توڑ کر چل دیا۔ معاذ رضی اللہ عنہ اس کو برا کہنے لگے۔ یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی (اس شخص نے جا کر معاذ کی شکایت کی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو فرمایا تو بلا میں ڈالنے والا ہے، بلا میں ڈالنے والا، بلا میں ڈالنے والا تین بار فرمایا۔ یا یوں فرمایا کہ تو فسادی ہے، فسادی، فسادی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو حکم فرمایا کہ مفصل کے بیچ کی دو سورتیں پڑھا کرے۔ عمرو بن دینار نے کہا کہ مجھے یاد نہ رہیں (کہ کون سی سورتوں کا آپ نے نام لیا۔) [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 701]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 701 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 701
حدیث حاشیہ:
اس سے امام شافعی اور امام احمد اور اہل حدیث کا مذہب ثابت ہوا کہ فرض پڑھنے والے کی اقتداء نفل پڑھنے والے کے پیچھے درست ہے۔
حنفیہ نے یہاں بھی دورازکار تاویلات کی ہیں۔
جو سب محض تعصب مسلک کا نتیجہ ہے، مثلاً حضرت معاذ کے اوپر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خفگی کے بارے میں لکھا ہے کہ ممکن ہے اس وجہ سے آپ خفا ہو ئے ہوں کہ دوبارہ کیوں جا کر پڑھائی (دیکھو تفہیم البخاری پ: 3 ص: 97)
یہ ایسی تاویل ہے جس کا اس واقعہ سے دور تک بھی تعلق نہیں۔
قیاس کن زگلستان من بہار مرا
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 701]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:701
حدیث حاشیہ:
(1)
اگر کسی کو امام کی طویل قراءت سے تکلیف ہو تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ امام کی اقتدا چھوڑ کر اکیلا نماز پڑھ لے کیونکہ حدیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امام کی اقتدا ختم کرنے والے کو ملامت نہیں کی بلکہ امام کو تنبیہ فرمائی ہے، لیکن امام بخاری ؒ اس حدیث سے ایک فقہی مسئلہ ثابت کرنا چاہتے ہیں وہ یہ کہ ایک شخص امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہے اگر اس نے اقتدا چھوڑ دی تو کیا اس پر بنا کر کے نماز پڑھے یا مکمل نماز کا اعادہ کرے۔
امام شافعی ؒ کے نزدیک جہاں سے امام کی اقتدا چھوڑی ہے وہیں سے بنا کرسکتا ہے، مکمل نماز دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں جبکہ جمہور کے نزدیک اس صورت میں بنا نہیں کرسکتا بلکہ پوری نماز دوبارہ پڑھے گا۔
امام بخاری ؒ کا میلان جمہور کی طرف ہے جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت ہے کہ اس نے سلام پھیر کر نماز ختم کردی، پھر ایک گوشے میں اکیلے نے نماز پڑھی۔
(صحیح مسلم، الصلاة، حدیث: 1040 (465)
(2)
سورۂ حجرات سے آخر قرآن تک تمام سورتیں مفصل کہلاتی ہیں، پھر ﴿عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ ﴿١﴾)
تک طوال، ﴿وَالضُّحَىٰ ﴿١﴾)
تک اوساط اور (الناس)
تک قصار کے نام سے پہچانی جاتی ہیں۔
عام طور پر سورۂ بروج تک طوال ﴿لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ تک اوساط اور (الناس)
تک قصار کا نام دیا جاتا ہے۔
راوئ حدیث حضرت عمرو بن دینار نے کہا کہ میں وہ دو سورتیں بھول گیا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھنے کی تلقین فرمائی تھی لیکن یہ اس وقت کی بات ہے جب انھوں نے اپنے شاگرد حضرت شعبہ کو حدیث بیان کی، اس کے برعکس جب سلیمان بن حیان سے حدیث بیان کی تو وضاحت سے کہا کہ وہ دو سورتیں﴿وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا ﴿١﴾ اور ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ﴿١﴾ تھیں۔
بعض روایات میں ان کے ساتھ ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ ﴿١﴾ اور ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ﴿١﴾ کا ذکر بھی ہے۔
(فتح الباري: 253/2) (3)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی شرعی سبب کی وجہ سے ایک نماز کو ایک ہی دن میں دومرتبہ پڑھا جاسکتا ہے، البتہ بطور فرض ایک نماز کو دو دفعہ پڑھنا صحیح نہیں۔
کیونکہ حدیث میں اس کی ممانعت ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ایک نماز کو ایک ہی دن میں دو مرتبہ مت پڑھو۔
امام بیہقی ؒ نے اس کی تطبیقی صورت یہ بیان کی ہے کہ پہلی کو فرض اور دوسری کو نفل قرار دے دیا جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا کرنا ثابت ہے۔
آپ نے فرمایا کہ اگر تم گھر میں نماز پڑھ لو پھر جماعت میں شمولیت کا بھی موقع مل جائے تو اسی نماز کو دوبارہ باجماعت پڑھ لینا چاہیے۔
دوسری نماز نفل ہوگی، نیز اگر ظالم حکمران نماز تاخیر سے پڑھیں تو اس وقت بھی یہی حکم ہے کہ گھر میں بروقت نماز پڑھ لی جائے پھر فتنے سے بچتے ہوئے ان کے ساتھ جماعت میں شمولیت کر لی جائے اور اسے نفل کا درجہ دیا جائے۔
(فتح الباري: 255/2)
اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض پڑھے جاسکتے ہیں جیسا کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے متعلق بعض طرق میں صراحت ہے کہ دوسری مرتبہ ادا کہ ہوئی نماز ان کے لیے نفل اور لوگوں کے لیے فرض ہوتی تھی۔
(فتح الباري: 254/2)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 701]