🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. باب ترجمة الحكام، وهل يجوز ترجمان واحد:
باب: حاکم کے سامنے مترجم کا رہنا اور کیا ایک ہی شخص ترجمانی کے لیے کافی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7196
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ أَخْبَرَهُ،" أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي رَكْبٍ مِنْ قُرَيْشٍ، ثُمّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ: قُلْ لَهُمْ إِنِّي سَائِلٌ هَذَا فَإِنْ كَذَبَنِي فَكَذِّبُوهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ لِلتُّرْجُمَانِ: قُلْ لَهُ: إِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا فَسَيَمْلِكُ مَوْضِعَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہیں زہری نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ ابوسفیان بن حرب نے انہیں خبر دی کہ ہرقل نے انہیں قریش کی ایک جماعت کے ساتھ بلا بھیجا، پھر اپنے ترجمان سے کہا، ان سے کہو کہ میں ان کے بارے میں پوچھوں گا۔ اگر یہ مجھ سے جھوٹ بات کہے تو اسے جھٹلا دیں۔ پھر پوری حدیث بیان کی اس سے کہو کہ اگر تمہاری باتیں صحیح ہیں تو وہ شخص اس ملک کا بھی ہو جائے گا جو اس وقت میرے قدموں کے نیچے ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7196]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہیں ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ہرقل نے انہیں قریش کی جماعت کے ہمراہ اپنے ہاں بلا بھیجا۔ پھر اس نے اپنے ترجمان سے کہا: ان سے کہو: میں اس شخص (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) کے متعلق پوچھنے والا ہوں، اگر یہ مجھ سے جھوٹ کہے تو آپ اسے جھٹلا دیں۔ پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی۔ آخر میں اس نے ترجمان سے کہا: اس سے کہو؛ اگر تمہاری باتیں مبنی بر حقیقت ہیں تو وہ شخص اس ملک کا سربراہ ہوگا جو اس وقت میرے قدموں کے نیچے ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7196]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سفيان بن حرب القرشي، أبو سفيان، أبو حنظلةصحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← أبو سفيان بن حرب القرشي
صحابي
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله
Newعبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة فقيه ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر
Newشعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ متقن
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان
Newالحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي
ثقة ثبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7196 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7196
حدیث حاشیہ:
یہاں یہ اعتراض ہوا ہے کہ ہرقل کا فعل کیا حجت ہے وہ تو کافر تھا۔
نصرانیوں نے اس کا جواب یوں دیا ہے کہ گو ہرقل کافر ہے مگر اگلے پیغمبروں کی کتابوں اور ان کے حالات سے خوب واقف تھا تو گویا پہلی شریعتوں میں بھی ایک ہی مترجم کا ترجمہ کرنا کافی سمجھا جاتا تھا۔
بعضوں نے کہا کہ ہرقل کے فعل سے غرض نہیں بلکہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جو اس امت کے عالم تھے اس قصے کو نقل کیا اور اس پر یہ اعتراض نہ کیا کہ ایک شخص کا ترجمہ غیر کافی تھا تو معلوم ہوا کہ وہ ایک شخص کی مترجمی کافی سمجھتے تھے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7196]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7196
حدیث حاشیہ:

ہر قل اگرچہ کافرتھا لیکن پہلے انبیاء علیہم السلام کی کتابوں اور ان کے حالات سے کوب واقف تھا۔
اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ پہلی شریعتوں میں بھی یہی ہے کہ شاہی دربار میں ایک ترجمان ہوتا تھا جو غیر ملکی لوگوں کی ترجمانی کر کے بادشاہ کو بتاتا تھا۔

بہر حال امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ ترجمانی کے لیے ایک ہی مترجم کافی ہے وہ مترجمین کی شرط لگانا محض تکلف ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس حدیث کے راوی ہیں۔
اگر یہ موقف غلط ہوتا تو کم ازکم وہ اس کی ضرور اصلاح کرتے۔
ان کا خاموش رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ ترجمانی کے لیے ایک ہی مترجم کافی ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7196]

Sahih Bukhari Hadith 7196 in Urdu