🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب ما يجوز من اللو:
باب: لفظ ”اگر مگر“ کے استعمال کا جواز۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7241
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَال:" وَاصَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرَ الشَّهْرِ، وَوَاصَلَ أُنَاسٌ مِنَ النَّاسِ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَوْ مُدَّ بِيَ الشَّهْرُ لَوَاصَلْتُ وِصَالًا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ"، تَابَعَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ مُغِيرَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے عیاش بن الولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے حمید طویل نے، ان سے ثابت نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے آخری دنوں میں صوم وصال رکھا تو بعض صحابہ نے بھی صوم وصال رکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس مہینے کے دن اور بڑھ جاتے تو میں اتنے دن متواتر وصال کرتا کہ ہوس کرنے والے اپنی ہوس چھوڑ دیتے، میں تم لوگوں جیسا نہیں ہوں۔ میں اس طرح دن گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔ اس روایت کی متابعت سلیمان بن مغیرہ نے کی، ان سے ثابت نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا جو اوپر مذکور ہوا۔ [صحيح البخاري/كتاب التمني/حدیث: 7241]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے آخری دنوں میں وصال کے روزے رکھے تو کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی روزوں میں وصال کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اطلاع پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس مہینے کے دن مزید بڑھ جاتے تو میں اتنے دنوں تک وصال کے روزے رکھتا کہ ہوس کرنے والے اپنی ہوس چھوڑ دیتے۔ میں تم لوگوں جیسا نہیں ہوں۔ میں اس طرح دن گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔ سلیمان بن مغیرہ نے حضرت ثابت رحمہ اللہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرنے میں حضرت حمید رحمہ اللہ کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب التمني/حدیث: 7241]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥سليمان بن المغيرة القيسي، أبو سعيد
Newسليمان بن المغيرة القيسي ← ثابت بن أسلم البناني
ثقة ثقة
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر
Newأنس بن مالك الأنصاري ← سليمان بن المغيرة القيسي
صحابي
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥حميد بن أبي حميد الطويل، أبو عبيدة
Newحميد بن أبي حميد الطويل ← ثابت بن أسلم البناني
ثقة مدلس
👤←👥عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي، أبو محمد
Newعبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي ← حميد بن أبي حميد الطويل
ثقة
👤←👥عياش بن الوليد الرقام، أبو الوليد
Newعياش بن الوليد الرقام ← عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
7241
إني لست مثلكم إني أظل يطعمني ربي ويسقين
صحيح البخاري
1961
لا تواصلوا لست كأحد منكم إني أطعم وأسقى أو إني أبيت أطعم وأسقى
صحيح مسلم
2571
إني لست مثلكم إني أظل يطعمني ربي ويسقيني
صحيح مسلم
2570
إنكم لستم مثلي أما والله لو تماد لي الشهر لواصلت وصالا يدع المتعمقون تعمقهم
جامع الترمذي
778
إني لست كأحدكم إن ربي يطعمني ويسقيني
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7241 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7241
حدیث حاشیہ:
یعنی حقیقت میں جنت کا کھانا پانی اس صورت میں آپ کا وصالی روزہ ظاہری ہوگا نہ کی حقیقت میں۔
مگر بعض نے کہا کہ کھانے پینے سے مجازی معنی مراد ہے کہ وہ مجھ کو قوت دیتا رہتا ہے جو تم کو کھانے پینے سے حاصل ہوتی ہے۔
صوم ومال اس روزے کو کہتے ہیں جس میں افطار وسحر کے وقت میں بھی نہیں کھایا جاتا اور روزے کو مسلسل جاری رکھا جاتا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7241]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 778
افطار کیے بغیر مسلسل روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صوم وصال ۱؎ مت رکھو، لوگوں نے عرض کیا: آپ تو رکھتے ہیں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 778]
اردو حاشہ:
1؎:
صوم وصال یہ ہے کہ آدمی قصداً دو یا دو سے زیادہ دن تک افطار نہ کرے،
مسلسل روزے رکھے نہ رات میں کچھ کھائے پیئے اور نہ سحری ہی کے وقت،
صوم وصال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جائز تھا لیکن امت کے لیے جائز نہیں۔

2؎:
میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے اسے جمہور نے مجازاً قوت پر محمول کیا ہے کہ کھانے پینے سے جو قوت حاصل ہوتی ہے اللہ تعالیٰ وہ قوت مجھے یوں ہی بغیر کھائے پیے دے دیتا ہے،
اور بعض نے اسے حقیقت پر محمول کرتے ہوے کھانے پینے سے جنت کا کھانا پینا مراد لیا ہے،
حافظ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے معارف کی ایسی غذا کھلاتا ہے جس سے آپ کے دل پر لذت سرگوشی ومناجات کا فیضان ہوتا ہے،
اللہ کے قرب سے آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈک ملتی ہے اور اللہ کی محبت کی نعمت سے آپ کو سرشاری نصیب ہوتی ہے اور اس کی جناب کی طرف شوق میں افزونی ہوتی ہے،
یہ ہے وہ غذا جو آپ کو اللہ کی جانب سے عطا ہوتی ہے،
یہ روحانی غذا ایسی ہے جو آپ کو دنیوی غذا سے کئی کئی دنوں تک کے لیے بے نیاز کر دیتی تھی۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 778]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2571
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کے شروع میں وصال کیا تو کچھ مسلمانوں نے بھی وصال کرنا شروع کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک بھی اطلاع پہنچ گئی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ہمارا ماہ طویل کر دیا جاتا تو ہم اس اندازسے وصال کرتے کہ انتہا پسند اپنی انتہا پسندی سے رک جائے، تم میرے جیسے نہیں ہو، یا فرمایا: میں تمھارے مثل نہیں ہوں کیونکہ میں دن اس حال میں گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2571]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
التَعَمِّقُ:
عمق و گہرائی میں اترنا،
معاملہ میں مبالغہ،
شدت اور انتہا پسندی اختیار کرنا۔
حد سے تجاوز کرنا۔
اول شهر رمضان راوی کا وہم ہے کیونکہ یہ بعد والے الفاظ سے مناسبت اور مطابقت نہیں رکھتا،
اور مذکورہ بالا روایت کے بھی مخالف ہے۔
اس لیے یہاں بھی في آخر شهر رمضان ہونا چاہیے،
جیسا کہ بعض نسخوں میں ہے۔
(2)
أَظَلُّ:
میں دن گزارتا ہوں۔
ابيت:
میں رات گزارتا ہوں۔
(3)
تمادلنا:
مدلنا:
لمبا ہو جاتا دن بڑھ جاتے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2571]

Sahih Bukhari Hadith 7241 in Urdu