صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. ( باب: )
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 7272
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ،" أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ يُبَايِعُهُ: وَأُقِرُّ لَكَ بِذَلِكَ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ عَلَى سُنَّةِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ فِيمَا اسْتَطَعْتُ".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عبدالملک بن مروان کو خط لکھا کہ وہ اس کی بیعت قبول کرتے ہیں اور یہ لکھا کہ میں تیرا حکم سنوں گا اور مانوں گا بشرطیکہ اللہ کی شریعت اور اس کے رسول کی سنت کے موافق ہو جہاں تک مجھ سے ممکن ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7272]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن دينار القرشي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن دينار القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← عبد الله بن دينار القرشي | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥إسماعيل بن أبي أويس الأصبحي، أبو عبد الله إسماعيل بن أبي أويس الأصبحي ← مالك بن أنس الأصبحي | صدوق يخطئ |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7272 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7272
حدیث حاشیہ:
یہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد کی بات ہے۔
جب عبد الملک بن مروان کی خلافت پر لوگوں کا اتفاق ہو گیا۔
یہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد کی بات ہے۔
جب عبد الملک بن مروان کی خلافت پر لوگوں کا اتفاق ہو گیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7272]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7272
حدیث حاشیہ:
1۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد عبدالملک بن مروان کی خلافت پرلوگوں کا اتفاق ہوگیا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں خط لکھا جو حسب ذیل مضمون پر مشتمل تھا:
”میں اللہ کےبندے امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ عبدالملک بن مروان کے لیے سمع واطاعت کا اقرار کرتا ہوں بشرط یہ کہ اس کے اوامر اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہوں۔
میں ان پر عمل پیرا رہوں گا جتنی میری طاقت ہوگی، اور میرے بیٹے بھی اس بات کا اقرار کرتے ہیں۔
“ (صحیح البخاري، الأحکام، حدیث: 7205)
2۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ گڑ بڑ کے دوران میں کسی کی بیعت نہیں کرتے تھے، غالباً اسی وجہ سے انھوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں سے کسی کی بیعت نہیں کی۔
جب یزید بن معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر لوگوں کا اتفاق ہوگیا تو اس کی بیعت کرلی۔
اسی طرح جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مروان بن حکم کا باہمی اختلاف تھا تو ان سے الگ تھلگ رہے۔
جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد عبدالملک بن مروان کی خلافت پراتفاق رائے ہوگیا تو آپ نے ان کی بیعت کی۔
اس میں کتاب وسنت پر عمل پیرا ہونے کی شرط ہے، اس لیے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ حدیث یہاں بیان کی ہے۔
واللہ أعلم۔
1۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد عبدالملک بن مروان کی خلافت پرلوگوں کا اتفاق ہوگیا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں خط لکھا جو حسب ذیل مضمون پر مشتمل تھا:
”میں اللہ کےبندے امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ عبدالملک بن مروان کے لیے سمع واطاعت کا اقرار کرتا ہوں بشرط یہ کہ اس کے اوامر اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہوں۔
میں ان پر عمل پیرا رہوں گا جتنی میری طاقت ہوگی، اور میرے بیٹے بھی اس بات کا اقرار کرتے ہیں۔
“ (صحیح البخاري، الأحکام، حدیث: 7205)
2۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ گڑ بڑ کے دوران میں کسی کی بیعت نہیں کرتے تھے، غالباً اسی وجہ سے انھوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں سے کسی کی بیعت نہیں کی۔
جب یزید بن معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر لوگوں کا اتفاق ہوگیا تو اس کی بیعت کرلی۔
اسی طرح جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مروان بن حکم کا باہمی اختلاف تھا تو ان سے الگ تھلگ رہے۔
جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد عبدالملک بن مروان کی خلافت پراتفاق رائے ہوگیا تو آپ نے ان کی بیعت کی۔
اس میں کتاب وسنت پر عمل پیرا ہونے کی شرط ہے، اس لیے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ حدیث یہاں بیان کی ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7272]
عبد الله بن دينار القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي