صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب قوله تعالى: {وكان الإنسان أكثر شيء جدلا} :
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الکہف میں) ارشاد ”اور انسان سب سے زیادہ جھگڑالو ہے“۔
حدیث نمبر: 7348
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ، فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى جِئْنَا بَيْتَ الْمِدْرَاسِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَادَاهُمْ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ يَهُودَ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا، فَقَالُوا قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَلِكَ أُرِيدُ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا، فَقَالُوا: قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَلِكَ أُرِيدُ، ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: اعْلَمُوا أَنَّمَا الْأَرْضُ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَرْضِ فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ، وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّمَا الْأَرْضُ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے، ان سے ان کے والد ابوسعید کیسان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم مسجد نبوی میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ یہودیوں کے پاس چلو۔ چنانچہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے۔ جب ہم ان کے مدرسہ تک پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر انہیں آواز دی اور فرمایا، اے یہودیو! اسلام لاؤ تو تم سلامت رہو گے۔ اس پر یہودیوں نے کہا کہ ابوالقاسم! آپ نے اللہ کا حکم پہنچا دیا۔ راوی نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ ان سے فرمایا کہ یہی میرا مقصد ہے، اسلام لاؤ تو تم سلامت رہو گے۔ انہوں نے کہا ابوالقاسم! آپ نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بات تیسری بار کہی اور فرمایا، جان لو کہ ساری زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ تمہیں اس جگہ سے باہر کر دوں۔ پس تم میں سے جو کوئی اپنی جائیداد کے بدلے میں کوئی قیمت پاتا ہو تو اسے بیچ لے ورنہ جان لو کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے (تم کو یہ شہر چھوڑنا ہو گا)۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7348]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥كيسان المقبري، أبو سعيد كيسان المقبري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت | |
👤←👥سعيد بن أبي سعيد المقبري، أبو سعيد، أبو سعد سعيد بن أبي سعيد المقبري ← كيسان المقبري | ثقة | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← سعيد بن أبي سعيد المقبري | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء قتيبة بن سعيد الثقفي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
7348
| اعلموا أنما الأرض لله ورسوله وأني أريد أن أجليكم من هذه الأرض فمن وجد منكم بماله شيئا فليبعه وإلا فاعلموا أنما الأرض لله ورسوله |
صحيح البخاري |
3167
| اعلموا أن الأرض لله ورسوله وإني أريد أن أجليكم من هذه الأرض فمن يجد منكم بماله شيئا فليبعه وإلا فاعلموا أن الأرض لله ورسوله |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7348 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7348
حدیث حاشیہ:
1۔
بیت المدارس یہودیوں کا دارالعلوم تھا جہاں وہ تورات پڑھا پڑھایا کرتے تھے۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے قائم کردہ عنوان کے دونوں اجزاء سے اس کی مطابقت کی ہے اور وہ اس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو تبلیغ فرمائی اور انھیں بار بار اسلام کی دعوت دی۔
انھوں نے صرف یہ جواب دیا کہ آپ نے اپنا پیغام پہنچا دیا ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ مانی۔
اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر یقین نہ کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بار بار انھیں دعوت دینا، اچھا مجادلہ ہے جس کا اس آیت کریمہ میں ذکر ہے۔
بالآخر جب وہ ہٹ دھرمی پر اترآئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حکم نامہ جاری کر دیا اور وہاں سے انھیں جلاوطن کردینے کا حکم دیا کیونکہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اچھے مجادلے کا جواب بُرے طریقے سے دیا تھا۔
واللہ أعلم۔
1۔
بیت المدارس یہودیوں کا دارالعلوم تھا جہاں وہ تورات پڑھا پڑھایا کرتے تھے۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے قائم کردہ عنوان کے دونوں اجزاء سے اس کی مطابقت کی ہے اور وہ اس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو تبلیغ فرمائی اور انھیں بار بار اسلام کی دعوت دی۔
انھوں نے صرف یہ جواب دیا کہ آپ نے اپنا پیغام پہنچا دیا ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ مانی۔
اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر یقین نہ کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بار بار انھیں دعوت دینا، اچھا مجادلہ ہے جس کا اس آیت کریمہ میں ذکر ہے۔
بالآخر جب وہ ہٹ دھرمی پر اترآئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حکم نامہ جاری کر دیا اور وہاں سے انھیں جلاوطن کردینے کا حکم دیا کیونکہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اچھے مجادلے کا جواب بُرے طریقے سے دیا تھا۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7348]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3167
3167. حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: ایک دفعہ ہم مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”یہودیوں کے پاس چلیں۔“ چنانچہ ہم روانہ ہوئے حتیٰ کہ بیت المدراس میں آئے تو آپ نے (ان سے) فرمایا: ”مسلمان ہوجاؤ تو سلامتی کے ساتھ رہو گے۔ خوب جان لو! زمین اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے اور میرا ارادہ ہے کہ تمھیں اس زمین سے جلاوطن کردوں، لہذا تم میں سے کوئی کچھ مال واسباب پائے تو اسے فروخت کردے بصورت دیگر تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ زمین تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3167]
حدیث حاشیہ:
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ ہی میں یہودیوں کے اخراج کی نیت کرلی تھی، مگر آپ کی وفات ہوگئی۔
حضرت عمر ؓنے اپنی خلافت میں ان کی مسلسل غداریوں اور سازشوں کی بناپر ان کو وہاں سے نکال دیا۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ ہی میں یہودیوں کے اخراج کی نیت کرلی تھی، مگر آپ کی وفات ہوگئی۔
حضرت عمر ؓنے اپنی خلافت میں ان کی مسلسل غداریوں اور سازشوں کی بناپر ان کو وہاں سے نکال دیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3167]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3167
3167. حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: ایک دفعہ ہم مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”یہودیوں کے پاس چلیں۔“ چنانچہ ہم روانہ ہوئے حتیٰ کہ بیت المدراس میں آئے تو آپ نے (ان سے) فرمایا: ”مسلمان ہوجاؤ تو سلامتی کے ساتھ رہو گے۔ خوب جان لو! زمین اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے اور میرا ارادہ ہے کہ تمھیں اس زمین سے جلاوطن کردوں، لہذا تم میں سے کوئی کچھ مال واسباب پائے تو اسے فروخت کردے بصورت دیگر تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ زمین تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3167]
حدیث حاشیہ:
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سرزمین عرب میں غیر مسلم کا وجود اچھا نہیں سمجھتے تھے، اس لیے آپ نے یہودیوں کو نکالنے کا ارادہ فرمایا کیونکہ آپ نے بنونضیر کو آزمالیا تھا جبکہ انھوں نے آپ سے دھوکا کیا اور آپ پر پتھر گرا کر آپ کو ختم کرنا چاہا۔
دوسرے یہودی ابھی خیبر میں مقیم تھے کہ عین وفات کے وقت وحی آئی تو آپ نے فرمایا:
”سرزمین عرب میں دودین باقی نہ رہنے دیں۔
“ (السنن الکبریٰ للبیھقي: 115/6)
چنانچہ حضرت عمر ؓنے اپنے دور حکومت میں یہودیوں سے کہا:
جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد وپیمان ہے وہ میرے پاس آئے بصورت دیگر میں تمھیں یہاں سے جلاوطن کرنے والا ہوں، چنانچہ انھیں جزیرہ عرب سے نکال دیا گیا۔
2۔
حدیث کے یہ معنی ہیں کہ اگر تمہارے پاس ایسا سامان ہے جسے تم ساتھ نہیں لے جاسکتے تو اسے فروخت کردو۔
اگر تم میری بات کی طرف توجہ نہیں کرتے تو یقین کرو کہ زمین اللہ کی ہے اور اللہ چاہتا ہے کہ اس زمین کا وارث مسلمانوں کو بناے، لہذا تم یہ علاقے چھوڑ کر کہیں اور چلے جاؤ۔
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سرزمین عرب میں غیر مسلم کا وجود اچھا نہیں سمجھتے تھے، اس لیے آپ نے یہودیوں کو نکالنے کا ارادہ فرمایا کیونکہ آپ نے بنونضیر کو آزمالیا تھا جبکہ انھوں نے آپ سے دھوکا کیا اور آپ پر پتھر گرا کر آپ کو ختم کرنا چاہا۔
دوسرے یہودی ابھی خیبر میں مقیم تھے کہ عین وفات کے وقت وحی آئی تو آپ نے فرمایا:
”سرزمین عرب میں دودین باقی نہ رہنے دیں۔
“ (السنن الکبریٰ للبیھقي: 115/6)
چنانچہ حضرت عمر ؓنے اپنے دور حکومت میں یہودیوں سے کہا:
جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد وپیمان ہے وہ میرے پاس آئے بصورت دیگر میں تمھیں یہاں سے جلاوطن کرنے والا ہوں، چنانچہ انھیں جزیرہ عرب سے نکال دیا گیا۔
2۔
حدیث کے یہ معنی ہیں کہ اگر تمہارے پاس ایسا سامان ہے جسے تم ساتھ نہیں لے جاسکتے تو اسے فروخت کردو۔
اگر تم میری بات کی طرف توجہ نہیں کرتے تو یقین کرو کہ زمین اللہ کی ہے اور اللہ چاہتا ہے کہ اس زمین کا وارث مسلمانوں کو بناے، لہذا تم یہ علاقے چھوڑ کر کہیں اور چلے جاؤ۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3167]
كيسان المقبري ← أبو هريرة الدوسي