🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب إذا اجتهد العامل أو الحاكم فأخطأ خلاف الرسول من غير علم، فحكمه مردود:
باب: جب کوئی عامل یا حاکم اجتہاد کرے اور لاعلمی میں رسول کے حکم کے خلاف کر جائے تو اس کا فیصلہ نافذ نہیں ہو گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q7350
لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ.
‏‏‏‏ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جس نے کوئی ایسا کام کیا جس کے بارے میں ہمارا کوئی فیصلہ نہیں تھا تو وہ رد ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: Q7350]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7350
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَأَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَاهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بَعَثَ أَخَا بَنِي عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيَّ وَاسْتَعْمَلَهُ عَلَى خَيْبَرَ، فَقَدِمَ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا؟، قَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَشْتَرِي الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ مِنَ الْجَمْعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَفْعَلُوا وَلَكِنْ مِثْلًا بِمِثْلٍ، أَوْ بِيعُوا هَذَا، وَاشْتَرُوا بِثَمَنِهِ مِنْ هَذَا، وَكَذَلِكَ الْمِيزَانُ".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، ان سے ان کے بھائی ابوبکر نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے عبدالمجید بن سہیل بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بیان کیا، انہوں نے سعید بن مسیب سے سنا، وہ ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عدی الانصاری کے ایک صاحب سودا بن عزیہ کو خیبر کا عامل بنا کر بھیجا تو وہ عمدہ قسم کی کھجور وصول کر کے لائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا خیبر کی تمام کھجوریں ایسی ہی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! ہم ایسی ایک صاع کھجور دو صاع (خراب) کھجور کے بدلے خرید لیتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کیا کرو بلکہ (جنس کو جنس کے بدلے) برابر برابر میں خریدو، یا یوں کرو کہ ردی کھجور نقدی بیچ ڈالو پھر یہ کھجور اس کے بدلے خرید لو، اسی طرح ہر چیز کو جو تول کر بکتی ہے اس کا حکم ان ہی چیزوں کا ہے جو ناپ کر بکتی ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7350]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد
Newأبو سعيد الخدري ← أبو هريرة الدوسي
صحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← أبو سعيد الخدري
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥عبد المجيد بن سهيل الزهري، أبو محمد، أبو عبد الرحمن، أبو وهب
Newعبد المجيد بن سهيل الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي
ثقة
👤←👥سليمان بن بلال القرشي، أبو محمد، أبو أيوب
Newسليمان بن بلال القرشي ← عبد المجيد بن سهيل الزهري
ثقة
👤←👥عبد الحميد بن أبي أويس الأصبحي، أبو بكر
Newعبد الحميد بن أبي أويس الأصبحي ← سليمان بن بلال القرشي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي أويس الأصبحي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي أويس الأصبحي ← عبد الحميد بن أبي أويس الأصبحي
صدوق يخطئ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7350 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7350
حدیث حاشیہ:

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الاحکام میں اس عنوان سے ملتا جلتا عنوان ان الفاظ میں قائم کیا ہے:
(باب إِذَا قَضَى الْحَاكِمُ بِجَوْرٍ أَوْ خِلاَفِ أَهْلِ الْعِلْمِ فَهْوَ رَدٌّ)
جب کوئی حاکم اہل علم کےخلاف یا ظلم پر مبنی فیصلہ کرےتو وہ مردود ہے۔
(صحیح البخاري، الأحکام، باب:
نمبر35)
یہ تکرار نہیں بلکہ پہلا عنوان اجماع کے خلاف اور مذکورہ عنوان سنت کے خلاف فیصلے کورد کرنے سے متعلق ہے۔

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد یہ ہے کہ اگر کسی نے سنت کے خلاف فیصلہ کیا ہے خواہ وہ جہالت یا غلطی کی وجہ سے ہو تو حق واضح ہونے کے بعد اس سے رجوع ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو فرض قرار دیا ہے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے کتنے فیصلے ایسے ہیں کہ حق معلوم ہونے کے بعد انھوں نے رجوع کیا اور اپنے غلط موقف کو چھوڑ دیا۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں:
اس حدیث کے عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ صحابی نے اجتہاد کیا اور ردی کھجوریں دے کر مقدار میں کم،عمدہ کھجوریں لے لیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے فعل کو غلط قرار دیا اگرچہ اجتہاد کی وجہ سے اسے معذور خیال کیا۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اوہ یہ توعین سود ہے۔
اس طرح مت کرو۔
ایسا کام آئندہ مت کرنا، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کام کو برقرار نہیں رکھا بلکہ اسے غلط کہہ کر مسترد کر دیا۔
(صحیح البخاري، الوکالة، حدیث: 2312 و فتح الباري: 389/13)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7350]