یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
142. باب من استوى قاعدا فى وتر من صلاته ثم نهض:
باب: اس شخص کے بارے میں جو شخص نماز کی طاق رکعت (پہلی اور تیسری) میں تھوڑی دیر بیٹھے اور پھر اٹھ جائے۔
حدیث نمبر: 823
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ اللَّيْثِيُّ،" أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَإِذَا كَانَ فِي وِتْرٍ مِنْ صَلَاتِهِ لَمْ يَنْهَضْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا".
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ہشیم نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں خالد حذاء نے خبر دی، ابوقلابہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے مالک بن حویرث لیثی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک نہ اٹھتے جب تک تھوڑی دیر بیٹھ نہ لیتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 823]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥مالك بن الحويرث الليثي، أبو سليمان | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن زيد الجرمي، أبو كلابة، أبو قلابة عبد الله بن زيد الجرمي ← مالك بن الحويرث الليثي | ثقة | |
👤←👥خالد الحذاء، أبو المنازل، أبو عبد الله خالد الحذاء ← عبد الله بن زيد الجرمي | ثقة | |
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية هشيم بن بشير السلمي ← خالد الحذاء | ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي | |
👤←👥محمد بن الصباح الدولابي، أبو جعفر محمد بن الصباح الدولابي ← هشيم بن بشير السلمي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
823
| إذا كان في وتر من صلاته لم ينهض حتى يستوي قاعدا |
صحيح البخاري |
802
| رفع رأسه من السجدة الآخرة استوى قاعدا ثم نهض |
جامع الترمذي |
287
| إذا كان في وتر من صلاته لم ينهض حتى يستوي جالسا |
سنن أبي داود |
844
| إذا كان في وتر من صلاته لم ينهض حتى يستوي قاعدا |
سنن النسائى الصغرى |
1154
| رفع رأسه من السجدة الثانية في أول الركعة استوى قاعدا ثم قام فاعتمد على الأرض |
سنن النسائى الصغرى |
1153
| إذا كان في وتر من صلاته لم ينهض حتى يستوي جالسا |
بلوغ المرام |
240
| إذا كان في وتر من صلاته لم ينهض حتى يستوي قاعدا |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 823 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 823
حدیث حاشیہ:
طاق رکعتوں کے بعد یعنی پہلی اور تیسری رکعت کے دوسرے سجدے سے جب اٹھے تو تھوڑی دیر بیٹھ کر پھر اٹھنا، اس کو جلسہ استراحت کہتے ہیں جو سنت صحیحہ سے ثابت ہے۔
طاق رکعتوں کے بعد یعنی پہلی اور تیسری رکعت کے دوسرے سجدے سے جب اٹھے تو تھوڑی دیر بیٹھ کر پھر اٹھنا، اس کو جلسہ استراحت کہتے ہیں جو سنت صحیحہ سے ثابت ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 823]
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله،صحیح بخاری 823
جلسه استراحت سنت و مستحب ہے
جلسہ استراحت پہلی رکعت کے بعد دوسری رکعت کے لیے اور تیسری رکعت کے بعد چوتھی رکعت کے لیے اٹھنے سے پہلے (دوسرے سجدے کے بعد) کچھ دیر اطمینان سے بیٹھنے کو کہتے ہیں اور یہ مسنون ہے جیسا کہ حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ادا فرماتے دیکھا:
«فإذا كان فى وتـر مـن صــلاتــه لـم ينهض حتى يستوى قاعدا»
”جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کی طاق رکعت پڑھتے تو کچھ دیر بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوتے۔“
[بخارى: 823، كتاب الأذان: باب من استوى قاعدا فى وتر من صلاته ثم نهض، أبو داود: 823، ترمذي: 276، نسائي: 234/2، بيهقي: 123/2، ابن خزيمة: 342/1، ابن حبان: 302/3، شرح السنة: 267/2، أحمد: 53/5]
(شافعیؒ) جلسہ استراحت مشروع و مسنون ہے۔
(احمدؒ، ابو حنیفہؒ، مالکؒ) یہ مسنون نہیں ہے۔
[شرح المهذب: 419/3، حلية العلماء فى معرفة مذاهب الفقهاء: 123/1، روضة الطالبين: 365/1، المبسوط: 23/1، كشاف القناع: 355/1]
(ابن بازؒ) جلسہ استراحت واجب نہیں ہے۔ [الفتاوى الإسلامية: 247/1]
جلسہ استراحت کو غیر مسنون کہنے والوں کے دلائل حسب ذیل ہیں:
➊ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
«كان النبى صلى الله عليه وسلم ينهض فى الصلاة على صدور قدميه»
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اپنے دونوں قدموں کے پنجوں پر کھڑے ہوتے تھے۔
[ضعيف: ضعيف ترمذى: 47، كتاب الصلاة: باب كيف النهوض من السجود، إرواء الغليل: 362، ترمذى: 288] امام ترمذيؒ فرماتے ہيں كہ (اس حديث كي سند ميں) خالد بن الياس راوي كہ جسے خالد بن اياس بھی كہا جاتا ہے اہلحديث كے نزديك ضعيف هے۔ عبدالرحمٰن مباركپوريؒ كہتے ہيں كہ خالد بن اياس متروك هے۔ [تحفة الأحوذي: 181/2] حافظ ابن حجرؒ بھی اسے متروك الحديث قرار ديتے هيں۔ [تقريب التهذيب: 211/1] امام ذهبيؒ رقمطراز هيں كه امام بخاريؒ اس راوي كو كچه حيثيت نهيں ديتے اور امام احمدؒ اور امام نسائيؒ اسے متروك كهتے هيں۔ [ميزان الاعتدال: 407/2]
➋ ایک روایت میں ہے کہ «انه صلى الله عليه وسلم كان يقوم كأنه السهم» ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیر کی مانند کھڑے ہو جاتے تھے۔“ [مجمع الزوائد: 138/2، اس كي سند ميں خطيب بن جحدر راوي كذاب هے]
➌ صاحب ہدایہ نے جلسہ استراحت کو بڑھاپے پر محمول کیا ہے (یعنی بڑھاپے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اطمینان سے بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے)۔ [كما فى تحفة الأحوزى: 178/2]
اس کے جواب میں حافظ ابن حجرؒ رقمطراز ہیں کہ ”یہ تاویل کسی دلیل کی محتاج ہے۔“ [الدراية: 147/1]
بلا شبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے جدا ہوتے وقت فرمایا تھا: «صلوا كما رأيتموني أصلى» ”تم اسی طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پرھتے دیکھا ہے“ اور وہی صحابی جلسہ استراحت کا اثبات بیان کر رہے ہیں (خود راوی حدیث نے جب اسے بڑھاپے پر محمول نہیں کیا تو کسی اور کا ایسا کرنا نا قابل اعتبار ہے) لٰہذا حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کی حدیث اس مسئلہ میں حجت ہے۔
(راجع) جلسه استراحت سنت و مستحب ہے اور جن احادیث میں اس کا ذکر نہیں ہے وہ اس کے عدم جواز کی نہیں بلکہ عدم وجوب کی دلیل ہیں۔ تفصيل كے ليے ديكهيے: [فتح الباري: 564/2، نيل الأوطار: 101/2، تحفة الأحوذى: 182/2، سبل السلام: 430/1]
جلسہ استراحت پہلی رکعت کے بعد دوسری رکعت کے لیے اور تیسری رکعت کے بعد چوتھی رکعت کے لیے اٹھنے سے پہلے (دوسرے سجدے کے بعد) کچھ دیر اطمینان سے بیٹھنے کو کہتے ہیں اور یہ مسنون ہے جیسا کہ حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ادا فرماتے دیکھا:
«فإذا كان فى وتـر مـن صــلاتــه لـم ينهض حتى يستوى قاعدا»
”جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کی طاق رکعت پڑھتے تو کچھ دیر بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوتے۔“
[بخارى: 823، كتاب الأذان: باب من استوى قاعدا فى وتر من صلاته ثم نهض، أبو داود: 823، ترمذي: 276، نسائي: 234/2، بيهقي: 123/2، ابن خزيمة: 342/1، ابن حبان: 302/3، شرح السنة: 267/2، أحمد: 53/5]
(شافعیؒ) جلسہ استراحت مشروع و مسنون ہے۔
(احمدؒ، ابو حنیفہؒ، مالکؒ) یہ مسنون نہیں ہے۔
[شرح المهذب: 419/3، حلية العلماء فى معرفة مذاهب الفقهاء: 123/1، روضة الطالبين: 365/1، المبسوط: 23/1، كشاف القناع: 355/1]
(ابن بازؒ) جلسہ استراحت واجب نہیں ہے۔ [الفتاوى الإسلامية: 247/1]
جلسہ استراحت کو غیر مسنون کہنے والوں کے دلائل حسب ذیل ہیں:
➊ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
«كان النبى صلى الله عليه وسلم ينهض فى الصلاة على صدور قدميه»
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اپنے دونوں قدموں کے پنجوں پر کھڑے ہوتے تھے۔
[ضعيف: ضعيف ترمذى: 47، كتاب الصلاة: باب كيف النهوض من السجود، إرواء الغليل: 362، ترمذى: 288] امام ترمذيؒ فرماتے ہيں كہ (اس حديث كي سند ميں) خالد بن الياس راوي كہ جسے خالد بن اياس بھی كہا جاتا ہے اہلحديث كے نزديك ضعيف هے۔ عبدالرحمٰن مباركپوريؒ كہتے ہيں كہ خالد بن اياس متروك هے۔ [تحفة الأحوذي: 181/2] حافظ ابن حجرؒ بھی اسے متروك الحديث قرار ديتے هيں۔ [تقريب التهذيب: 211/1] امام ذهبيؒ رقمطراز هيں كه امام بخاريؒ اس راوي كو كچه حيثيت نهيں ديتے اور امام احمدؒ اور امام نسائيؒ اسے متروك كهتے هيں۔ [ميزان الاعتدال: 407/2]
➋ ایک روایت میں ہے کہ «انه صلى الله عليه وسلم كان يقوم كأنه السهم» ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیر کی مانند کھڑے ہو جاتے تھے۔“ [مجمع الزوائد: 138/2، اس كي سند ميں خطيب بن جحدر راوي كذاب هے]
➌ صاحب ہدایہ نے جلسہ استراحت کو بڑھاپے پر محمول کیا ہے (یعنی بڑھاپے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اطمینان سے بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے)۔ [كما فى تحفة الأحوزى: 178/2]
اس کے جواب میں حافظ ابن حجرؒ رقمطراز ہیں کہ ”یہ تاویل کسی دلیل کی محتاج ہے۔“ [الدراية: 147/1]
بلا شبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے جدا ہوتے وقت فرمایا تھا: «صلوا كما رأيتموني أصلى» ”تم اسی طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پرھتے دیکھا ہے“ اور وہی صحابی جلسہ استراحت کا اثبات بیان کر رہے ہیں (خود راوی حدیث نے جب اسے بڑھاپے پر محمول نہیں کیا تو کسی اور کا ایسا کرنا نا قابل اعتبار ہے) لٰہذا حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کی حدیث اس مسئلہ میں حجت ہے۔
(راجع) جلسه استراحت سنت و مستحب ہے اور جن احادیث میں اس کا ذکر نہیں ہے وہ اس کے عدم جواز کی نہیں بلکہ عدم وجوب کی دلیل ہیں۔ تفصيل كے ليے ديكهيے: [فتح الباري: 564/2، نيل الأوطار: 101/2، تحفة الأحوذى: 182/2، سبل السلام: 430/1]
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 381]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:823
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے جلسۂ استراحت کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے جس کی صورت ایک طریق میں ان الفاظ کے ساتھ بیان ہوئی ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ أکبر کہتے ہوئے (دوسرے سجدے سے)
اٹھتے اور اپنا بایاں پاؤں موڑتے ہوئے اس پر بیٹھتے پھر (دوسری رکعت کے لیے)
کھڑے ہوتے۔
(سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 730) (2)
جلسۂ استراحت سے اٹھتے وقت دونوں ہاتھ زمین پر ٹیک کر اٹھنا چاہیے جیسا کہ اگلی حدیث میں وضاحت ہے۔
(3)
بعض حضرات جلسۂ استراحت کو واجب کہتے ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیئ الصلاة کو اس کا حکم دیا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے۔
(صحیح البخاري، الاستئذان، حدیث: 6251)
مذکورہ حدیث کے راوی حضرت مالک بن حویرث ؓ کو اعمال صلاۃ بتانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر میں فرمایا تھا:
”نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
“ (صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 631) (4)
امام ترمذی ؒ نے دوسرے سجدے سے فراغت کے بعد اٹھنے کا طریقہ بتانے کے لیے ایک مستقل عنوان قائم کیا ہے۔
اس کے لیے انہوں نے حضرت مالک بن حویرث ؓ سے مروی مذکورہ حدیث صحیح بخاری ذکر کی، پھر فرمایا کہ اسی پر بعض اہل علم، امام اسحاق بن راہویہ اور ہمارے اصحاب کا عمل ہے۔
(جامع الترمذي، الصلاة، حدیث: 287)
پھر امام ترمذی ؒ نے ایک دوسرا باب قائم کیا ہے اور حدیث ابو ہریرہ ؓ بیان کی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے سجدے سے فراغت کے بعد جلسۂ استراحت کیے بغیر اپنے پاؤں کے پنجوں پر کھڑے ہوتے تھے اور اس پر لکھا ہے کہ اس پر بھی بعض اہل علم کا عمل ہے لیکن اس حدیث کے متعلق فرمایا کہ اس میں ایک راوی خالد بن ایاس ہے جو محدثین کے ہاں ضعیف ہے۔
(جامع الترمذي، الصلاة، حدیث: 288)
علامہ البانی ؒ نے بھی اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔
(إرواءالغلیل، حدیث: 362) (5)
بعض حضرات جلسۂ استراحت کی بابت اختلاف کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت ہمیشہ جلسۂ استراحت کرنے کی ہوتی تو ہر شخص اسے بیان کرتا جو طریقۂ نماز بیان کرتا ہے۔
اس کا جواب حافظ ابن حجر ؒ نے بایں الفاظ دیا ہے کہ متفق علیہ سنتوں کو ہر ایک نے مکمل طور پر بیان نہیں کیا بلکہ ان کے مجموعے کو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے لیا گیا ہے، اس لیے اس اعتراض کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
(فتح الباري: 391/2)
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ نماز میں سجدۂ تلاوت سے اٹھ کر امام اور مقتدی جلسۂ استراحت کے لیے نہیں بیٹھتے بلکہ سجدے سے سیدھے قیام کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں، حالانکہ اس مسئلے کے متعلق وارد احادیث کے عموم کا یہی تقاضا ہے کہ سجدۂ تلاوت کرنے کے بعد بھی جلسۂ استراحت کیا جائے۔
واللہ أعلم۔
(6)
مخالفینِ جلسۂ استراحت صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے کچھ آثار بھی پیش کرتے ہیں لیکن مرفوع احادیث کے مقابلے میں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔
واللہ أعلم۔
(7)
اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کمزوری یا بیماری کی وجہ سے جلسۂ استراحت کیا تھا۔
اسی طرح یہ قیاس بھی درست نہیں کہ نماز کا موضوع استراحت نہیں۔
یہ قیاس نص کے مقابلے میں ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
(1)
اس حدیث سے جلسۂ استراحت کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے جس کی صورت ایک طریق میں ان الفاظ کے ساتھ بیان ہوئی ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ أکبر کہتے ہوئے (دوسرے سجدے سے)
اٹھتے اور اپنا بایاں پاؤں موڑتے ہوئے اس پر بیٹھتے پھر (دوسری رکعت کے لیے)
کھڑے ہوتے۔
(سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 730) (2)
جلسۂ استراحت سے اٹھتے وقت دونوں ہاتھ زمین پر ٹیک کر اٹھنا چاہیے جیسا کہ اگلی حدیث میں وضاحت ہے۔
(3)
بعض حضرات جلسۂ استراحت کو واجب کہتے ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیئ الصلاة کو اس کا حکم دیا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے۔
(صحیح البخاري، الاستئذان، حدیث: 6251)
مذکورہ حدیث کے راوی حضرت مالک بن حویرث ؓ کو اعمال صلاۃ بتانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر میں فرمایا تھا:
”نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
“ (صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 631) (4)
امام ترمذی ؒ نے دوسرے سجدے سے فراغت کے بعد اٹھنے کا طریقہ بتانے کے لیے ایک مستقل عنوان قائم کیا ہے۔
اس کے لیے انہوں نے حضرت مالک بن حویرث ؓ سے مروی مذکورہ حدیث صحیح بخاری ذکر کی، پھر فرمایا کہ اسی پر بعض اہل علم، امام اسحاق بن راہویہ اور ہمارے اصحاب کا عمل ہے۔
(جامع الترمذي، الصلاة، حدیث: 287)
پھر امام ترمذی ؒ نے ایک دوسرا باب قائم کیا ہے اور حدیث ابو ہریرہ ؓ بیان کی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے سجدے سے فراغت کے بعد جلسۂ استراحت کیے بغیر اپنے پاؤں کے پنجوں پر کھڑے ہوتے تھے اور اس پر لکھا ہے کہ اس پر بھی بعض اہل علم کا عمل ہے لیکن اس حدیث کے متعلق فرمایا کہ اس میں ایک راوی خالد بن ایاس ہے جو محدثین کے ہاں ضعیف ہے۔
(جامع الترمذي، الصلاة، حدیث: 288)
علامہ البانی ؒ نے بھی اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔
(إرواءالغلیل، حدیث: 362) (5)
بعض حضرات جلسۂ استراحت کی بابت اختلاف کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت ہمیشہ جلسۂ استراحت کرنے کی ہوتی تو ہر شخص اسے بیان کرتا جو طریقۂ نماز بیان کرتا ہے۔
اس کا جواب حافظ ابن حجر ؒ نے بایں الفاظ دیا ہے کہ متفق علیہ سنتوں کو ہر ایک نے مکمل طور پر بیان نہیں کیا بلکہ ان کے مجموعے کو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے لیا گیا ہے، اس لیے اس اعتراض کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
(فتح الباري: 391/2)
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ نماز میں سجدۂ تلاوت سے اٹھ کر امام اور مقتدی جلسۂ استراحت کے لیے نہیں بیٹھتے بلکہ سجدے سے سیدھے قیام کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں، حالانکہ اس مسئلے کے متعلق وارد احادیث کے عموم کا یہی تقاضا ہے کہ سجدۂ تلاوت کرنے کے بعد بھی جلسۂ استراحت کیا جائے۔
واللہ أعلم۔
(6)
مخالفینِ جلسۂ استراحت صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے کچھ آثار بھی پیش کرتے ہیں لیکن مرفوع احادیث کے مقابلے میں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔
واللہ أعلم۔
(7)
اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کمزوری یا بیماری کی وجہ سے جلسۂ استراحت کیا تھا۔
اسی طرح یہ قیاس بھی درست نہیں کہ نماز کا موضوع استراحت نہیں۔
یہ قیاس نص کے مقابلے میں ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 823]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 844
پہلی اور تیسری رکعت سے اٹھنے کی کیفیت کا بیان۔
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ اپنی نماز کی طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوتے جب تک سیدھے بیٹھ نہ جاتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 844]
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ اپنی نماز کی طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوتے جب تک سیدھے بیٹھ نہ جاتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 844]
844۔ اردو حاشیہ:
➊ ان احادیث سے ثابت ہوا کہ پہلی اور تیسری رکعت میں جلسہ استراحت مسنون اور مستحب ہے۔
➋ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین تعیم نماز کے بالخصوص بہت ہی حریص تھے۔ انہوں نے اس کی جزیات تک محفوظ رکھا اور امت تک پہنچایا۔
➊ ان احادیث سے ثابت ہوا کہ پہلی اور تیسری رکعت میں جلسہ استراحت مسنون اور مستحب ہے۔
➋ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین تعیم نماز کے بالخصوص بہت ہی حریص تھے۔ انہوں نے اس کی جزیات تک محفوظ رکھا اور امت تک پہنچایا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 844]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1153
دونوں سجدوں سے اٹھتے وقت بیٹھنے کے لیے سیدھا ہونے کا بیان۔
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا، جب آپ اپنی نماز کی طاق رکعتوں میں ہوتے تو جب تک بیٹھ کر سیدھے نہیں ہو جاتے نہیں اٹھتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1153]
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا، جب آپ اپنی نماز کی طاق رکعتوں میں ہوتے تو جب تک بیٹھ کر سیدھے نہیں ہو جاتے نہیں اٹھتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1153]
1153۔ اردو حاشیہ: طاق رکعت کے بعد اگلی رکعت کے لیے کھڑے ہونے سے قبل سیدھا بیٹھنا جلسۂ استراحت کہلاتا ہے اور یہ ضروری ہے۔ اس حدیث کے علاوہ اور بھی کئی احادیث میں اس کا صراحتاً ذکر ہے۔ قولاً بھی اور فعلاً بھی۔ بعض حضرات جو اس کے قائل نہیں وہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑھاپے پر محمول کرتے ہیں کہ بڑھاپے کی وجہ سے آپ کو بیٹھنا پڑتا تھا، نماز کی سنت کے طور پر نہیں۔ مگر ان کے پاس اس تاویل کی کوئی دلیل نہیں جب کہ آنکھوں سے دیکھنے والے صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم تو اسے بڑھاپے کی بنا پر نہیں سمجھتے تھے جیسا کہ حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ کا دس صحابہ کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بیان میں اس امر کا ذکر کرنا اور ان صحابہ کا خاموش رہنا واضح دلیل ہے۔ مسیی الصلاۃ والی قولی روایت بھی صریح ہے۔ اگر کسی روایت میں اس کا ذکر نہیں ہے تو وہ اختصار کے پیش نظر ہے۔ کسی چیز کا حکم مجموعی طور پر احادیث سے اخذ کرنا چاہیے، لہٰذا کسی حدیث میں اس کا عدم ذکر اس کے وجوب کے خلاف نہیں۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم کا خیال بعد والوں کے خیال سے یقیناًً زیادہ معتبر ہے۔ ویسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بڑھاپے مں بھی اتنے کمزور نہیں ہوئے تھے کہ ایک مسلمہ مسئلے کو چھوڑنا یا تبدیل کرنا پڑ گیا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1153]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1154
اٹھتے وقت زمین پر ہاتھ ٹیکنے کا بیان۔
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آتے تو کہتے: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں نہ بتاؤں؟ تو وہ بغیر وقت کے نماز پڑھتے، جب وہ پہلی رکعت میں دوسرے سجدے سے اپنا سر اٹھاتے تو بیٹھ کر سیدھے ہو جاتے، پھر کھڑے ہوتے تو زمین پر اپنا ہاتھ ٹیکتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1154]
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آتے تو کہتے: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں نہ بتاؤں؟ تو وہ بغیر وقت کے نماز پڑھتے، جب وہ پہلی رکعت میں دوسرے سجدے سے اپنا سر اٹھاتے تو بیٹھ کر سیدھے ہو جاتے، پھر کھڑے ہوتے تو زمین پر اپنا ہاتھ ٹیکتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1154]
1154۔ اردو حاشیہ:
➊ حدیث نمبر 1092 میں ذکر ہو چکا ہے کہ ہاتھ انسان کو سہارے کا کام دیتے ہیں اور ہاتھوں کے سہارے کے بغیر اٹھنا یا بیٹھنا اونٹ بلکہ عام جانوروں کی مشابہت سے جو مناسب نہیں۔ سنن ابوداود کی ایک روایت میں سہارے سے منع کیا گیا ہے۔ اسے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے منکر قرار دیا ہے۔ دیکھیے، [ضعیف سنن ابن داود، رقم: 992]
➋ بالتبع یہ بھی معلوم ہوا کہ اٹھتے وقت گھٹنے پہلے اٹھائے جائیں گے اور ہاتھ بعد میں کیونکہ سہارا بعد میں ہٹایا جاتا ہے اور اسی میں سہولت ہے۔ بوڑھے بھی آسانی سے اٹھ سکیں گے۔
➊ حدیث نمبر 1092 میں ذکر ہو چکا ہے کہ ہاتھ انسان کو سہارے کا کام دیتے ہیں اور ہاتھوں کے سہارے کے بغیر اٹھنا یا بیٹھنا اونٹ بلکہ عام جانوروں کی مشابہت سے جو مناسب نہیں۔ سنن ابوداود کی ایک روایت میں سہارے سے منع کیا گیا ہے۔ اسے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے منکر قرار دیا ہے۔ دیکھیے، [ضعیف سنن ابن داود، رقم: 992]
➋ بالتبع یہ بھی معلوم ہوا کہ اٹھتے وقت گھٹنے پہلے اٹھائے جائیں گے اور ہاتھ بعد میں کیونکہ سہارا بعد میں ہٹایا جاتا ہے اور اسی میں سہولت ہے۔ بوڑھے بھی آسانی سے اٹھ سکیں گے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1154]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 287
سجدے سے کیسے اٹھا جائے؟
ابواسحاق مالک بن حویرث لیثی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا، آپ کی نماز اس طرح سے تھی کہ جب آپ طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک نہیں اٹھتے جب تک کہ آپ اچھی طرح بیٹھ نہ جاتے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 287]
ابواسحاق مالک بن حویرث لیثی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا، آپ کی نماز اس طرح سے تھی کہ جب آپ طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک نہیں اٹھتے جب تک کہ آپ اچھی طرح بیٹھ نہ جاتے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 287]
اردو حاشہ:
1؎:
اس بیٹھک کا نام جلسئہ استراحت ہے،
یہ حدیث جلسئہ استراحت کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہے،
جو لوگ جلسئہ استراحت کی سنت کے قائل نہیں ہیں انہوں نے اس حدیث کی مختلف تاویلیں کی ہیں،
لیکن یہ ایسی تاویلات ہیں جو قطعاً لائقِ التفات نہیں،
نیز قدموں کے سہارے بغیر بیٹھے اٹھنے کی حدیث ضعیف ہے جو آگے آ رہی ہے۔
1؎:
اس بیٹھک کا نام جلسئہ استراحت ہے،
یہ حدیث جلسئہ استراحت کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہے،
جو لوگ جلسئہ استراحت کی سنت کے قائل نہیں ہیں انہوں نے اس حدیث کی مختلف تاویلیں کی ہیں،
لیکن یہ ایسی تاویلات ہیں جو قطعاً لائقِ التفات نہیں،
نیز قدموں کے سہارے بغیر بیٹھے اٹھنے کی حدیث ضعیف ہے جو آگے آ رہی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 287]
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل،صحیح بخاری 802
رکوع کے بعد قیام میں ہاتھ باندھنا
رکوع کے بعد قیام میں ہاتھ باندھنے چاہئیں یا نہیں اس مسئلے میں صراحت سے کچھ بھی ثابت نہیں ہے، لہٰذا دونوں طرح عمل جائز ہے مگر بہتر یہی ہے کہ قیام میں ہاتھ نہ باندھے جائیں۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے پوچھا: گیا کہ رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے چاہئیں یا چھوڑ دینے چاہئیں تو انہوں نے فرمایا: «أرجو أن لا يضيق ذلك إن شاء الله» [مسائل احمد رواية صالح بن احمد بن حنبل: 615]
”مجھے امید ہے کہ ان شاء اللہ اس میں کوئی تنگی نہیں ہے۔“
رکوع کے بعد قیام میں ہاتھ باندھنے چاہئیں یا نہیں اس مسئلے میں صراحت سے کچھ بھی ثابت نہیں ہے، لہٰذا دونوں طرح عمل جائز ہے مگر بہتر یہی ہے کہ قیام میں ہاتھ نہ باندھے جائیں۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے پوچھا: گیا کہ رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے چاہئیں یا چھوڑ دینے چاہئیں تو انہوں نے فرمایا: «أرجو أن لا يضيق ذلك إن شاء الله» [مسائل احمد رواية صالح بن احمد بن حنبل: 615]
”مجھے امید ہے کہ ان شاء اللہ اس میں کوئی تنگی نہیں ہے۔“
[ماہنامہ الحدیث حضرو، حدیث/صفحہ نمبر: 999]
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 240
نماز کی صفت کا بیان
”. . . سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ادا فرماتے دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کی وتر (رکعت) پڑھتے تو (پہلے تھوڑا) بیٹھتے پھر سیدھا کھڑے ہو جاتے۔ (بخاری) . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/باب صفة الصلاة: 240]
”. . . سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ادا فرماتے دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کی وتر (رکعت) پڑھتے تو (پہلے تھوڑا) بیٹھتے پھر سیدھا کھڑے ہو جاتے۔ (بخاری) . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/باب صفة الصلاة: 240]
لغوی تشریح:
«فِي وِتْرٍ مِنْ صَلَاتِهِ» جب آپ طاق رکعت، یعنی پہلی یا تیسری رکعت مکمل فرما لیتے اور دوسری یا چوتھی کے لیے کھڑا ہونا چاہتے۔
«لَمْ يَنْهَضْ» نہ کھڑے ہوتے۔
«حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا» حتی کہ پہلے سیدھے ہو کر مکمل طور پر بیٹھ جاتے۔ اسے جلسہ استراحت کہتے ہیں اور یہ مسنون و مشروع ہے۔
فائدہ:
اس حدیث سے جلسہ استراحت کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ اس کے قائل ہیں مگر امام احمد اور امام ابوحنیفہ رحمہما اللہ اس کے قائل نہیں۔ وہ اسے بڑھاپے پر محمول کرتے ہیں۔ لیکن یہ تاویل درست نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مالک رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء سے فرمایا تھا: «صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُنِي أُصَلِّي» ”تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔“ [صحيح البخاري، الصلاة، حديث: 631] اور وہی بیان کرتے ہیں کہ آپ جلسہ استراحت کرتے تھے۔ خود راوی حدیث نے جب اسے پڑھاپے پر محمول نہیں کیا تو پھر یہ محمول تحکم محض ہے۔
«فِي وِتْرٍ مِنْ صَلَاتِهِ» جب آپ طاق رکعت، یعنی پہلی یا تیسری رکعت مکمل فرما لیتے اور دوسری یا چوتھی کے لیے کھڑا ہونا چاہتے۔
«لَمْ يَنْهَضْ» نہ کھڑے ہوتے۔
«حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا» حتی کہ پہلے سیدھے ہو کر مکمل طور پر بیٹھ جاتے۔ اسے جلسہ استراحت کہتے ہیں اور یہ مسنون و مشروع ہے۔
فائدہ:
اس حدیث سے جلسہ استراحت کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ اس کے قائل ہیں مگر امام احمد اور امام ابوحنیفہ رحمہما اللہ اس کے قائل نہیں۔ وہ اسے بڑھاپے پر محمول کرتے ہیں۔ لیکن یہ تاویل درست نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مالک رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء سے فرمایا تھا: «صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُنِي أُصَلِّي» ”تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔“ [صحيح البخاري، الصلاة، حديث: 631] اور وہی بیان کرتے ہیں کہ آپ جلسہ استراحت کرتے تھے۔ خود راوی حدیث نے جب اسے پڑھاپے پر محمول نہیں کیا تو پھر یہ محمول تحکم محض ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 240]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:802
... ابوقلابہ کہتے ہیں کہ اس وقت حضرت مالک بن حویرث ؓ نے ہمیں ہمارے شیخ ابو یزید کی طرح نماز پڑھائی۔ اور ابو یزید جب دوسرے سجدے سے سر اٹھاتے تو سیدھے ہو کر بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہوتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:802]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے شریعت کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے ہر رکن کو پورے سکون اور اطمینان سے ادا کیا جائے کہ جسم کا ہر عضو اپنی اپنی جگہ پر سکون و اطمینان سے ٹھہر جائے۔
شریعت کی نظر میں طویل قیام کی اتنی اہمیت نہیں کیونکہ قیام میں حالات و ظروف کے پیش نظر کمی و بیشی ہو سکتی ہے لیکن مواضع اربعہ، یعنی رکوع، قومہ، سجدہ اور درمیانی نشست کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول ہمیشہ یکساں رہا ہے۔
(2)
واضح رہے کہ حدیث میں مذکور شیخ سے مراد حضرت عمرو بن سلمہ جرمی ہیں۔
(فتح الباري: 375/2)
اس حدیث میں جلسۂ استراحت کا بھی بیان ہے جس کی وضاحت ہم حدیث: 823 میں کریں گے۔
(1)
اس حدیث سے شریعت کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے ہر رکن کو پورے سکون اور اطمینان سے ادا کیا جائے کہ جسم کا ہر عضو اپنی اپنی جگہ پر سکون و اطمینان سے ٹھہر جائے۔
شریعت کی نظر میں طویل قیام کی اتنی اہمیت نہیں کیونکہ قیام میں حالات و ظروف کے پیش نظر کمی و بیشی ہو سکتی ہے لیکن مواضع اربعہ، یعنی رکوع، قومہ، سجدہ اور درمیانی نشست کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول ہمیشہ یکساں رہا ہے۔
(2)
واضح رہے کہ حدیث میں مذکور شیخ سے مراد حضرت عمرو بن سلمہ جرمی ہیں۔
(فتح الباري: 375/2)
اس حدیث میں جلسۂ استراحت کا بھی بیان ہے جس کی وضاحت ہم حدیث: 823 میں کریں گے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 802]
Sahih Bukhari Hadith 823 in Urdu
عبد الله بن زيد الجرمي ← مالك بن الحويرث الليثي