یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
156. باب يستقبل الإمام الناس إذا سلم:
باب: امام جب سلام پھیر چکے تو لوگوں کی طرف منہ کرے۔
حدیث نمبر: 845
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابورجاء عمران بن تمیم نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا، انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز (فرض) پڑھا چکتے تو ہماری طرف منہ کرتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 845]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
845
| إذا صلى صلاة أقبل علينا بوجهه |
صحيح مسلم |
5937
| إذا صلى الصبح أقبل عليهم بوجهه فقال هل رأى أحد منكم البارحة رؤيا |
جامع الترمذي |
2294
| إذا صلى بنا الصبح أقبل على الناس بوجهه وقال هل رأى أحد منكم الليلة رؤيا |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 845 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 845
حدیث حاشیہ:
اس سے صاف معلوم ہوا کہ نماز فرض کے بعد سنت طریقہ یہی ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد امام دائیں یا بائیں طرف منہ پھیر کر مقتدیوں کی طرف منہ کرکے بیٹھے مگر صد افسوس ایک دیوبندی مترجم وشارح بخاری صاحب فرماتے ہیں آج کل دائیں یابائیں طرف رخ کر کے بیٹھنے کا عام طور پر رواج ہے اس کی کوئی اصل نہیں نہ یہ سنت ہے نہ مستحب جائزضرور ہے (تفہیم البخاری پ 4 ص22)
پھر حدیث مذکورہ ومنعقدہ باب کا مفہوم کیا ہے اس کا جو اب فاضل موصوف یہ دیتے ہیں کہ مصنف ؒ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد اگر امام اپنے گھر جانا چاہتا ہے تو گھر چلا جائے لیکن اگر مسجد میں بیٹھنا چاہتا ہے تو سنت یہ ہے کہ دوسرے موجودہ لوگوں کی طرف رخ کر کے بیٹھے (حوالہ مذکورہ)
ناظرین خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ فاضل شارح بخاری کے ہر دو بیانات میں کس قدر تضاد ہے۔
حضرت امام بخاری ؒ کے باب اور حدیث کا مفہوم ظاہر ہے۔
اس سے صاف معلوم ہوا کہ نماز فرض کے بعد سنت طریقہ یہی ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد امام دائیں یا بائیں طرف منہ پھیر کر مقتدیوں کی طرف منہ کرکے بیٹھے مگر صد افسوس ایک دیوبندی مترجم وشارح بخاری صاحب فرماتے ہیں آج کل دائیں یابائیں طرف رخ کر کے بیٹھنے کا عام طور پر رواج ہے اس کی کوئی اصل نہیں نہ یہ سنت ہے نہ مستحب جائزضرور ہے (تفہیم البخاری پ 4 ص22)
پھر حدیث مذکورہ ومنعقدہ باب کا مفہوم کیا ہے اس کا جو اب فاضل موصوف یہ دیتے ہیں کہ مصنف ؒ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد اگر امام اپنے گھر جانا چاہتا ہے تو گھر چلا جائے لیکن اگر مسجد میں بیٹھنا چاہتا ہے تو سنت یہ ہے کہ دوسرے موجودہ لوگوں کی طرف رخ کر کے بیٹھے (حوالہ مذکورہ)
ناظرین خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ فاضل شارح بخاری کے ہر دو بیانات میں کس قدر تضاد ہے۔
حضرت امام بخاری ؒ کے باب اور حدیث کا مفہوم ظاہر ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 845]
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، صحیح بخاری 845
سلام کے بعد امام مقتدیوں کی طرف رخ پھیرے:
➊ حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
«كان النبى صلى الله عليه وسلم إذا صلى صلاة أقبل علينا بوجهه»
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تھے تو (سلام کے بعد) اپنا چہرہ ہماری طرف کر لیتے تھے۔“ [صحیح بخاری: 845]
➋ حضرت یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم حجتہ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز فجر پڑھائی۔
«ثم انحرف جالسا واستقبل الناس بوجهه»
”پھر بیٹھے ہوئے ہی پھرے اور اپنا چہرہ لوگوں کی طرف متوجہ کر لیا۔“ [أحمد: 161/4]
امام کو دائیں جانب پھرنا چاہیے یا بائیں جانب اس کے متعلق دو بظاہر مختلف احادیث ہیں:
➊ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
«لقد رأيت النبى كثيرا ينصرف عن يساره»
”بے شک میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ اپنے بائیں جانب پھرتے ہوئے دیکھا ہے۔“
[بخاري: 852، كتاب الأذان: باب الانفتال والا نصراف من اليمين والشمال، مسلم: 707، أبو داود: 1042، نسائي: 81/3، ابن ماجة: 930، دارمي: 311/1، حميدي: 127، عبد الرزاق: 3208، أبو عوانة: 250/2]
➋ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
«اكثر ما رأيت رسول الله ينصرف عن يمينه»
”اکثر جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے وہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں جانب پھرتے تھے۔“
[مسلم: 708، كتاب صلاة المسافرين وقصرها: باب جواز الانصراف من الصلاة عن اليمين والشمال، نسائي: 81/3، دارمي: 312/1، ابن أبى شيبة: 305/1، بيهقى: 295/2]
(نوویؒ) ان دونوں روایات کو اس طرح جمع کیا جائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بھی کرتے تھے اور اُس طرح بھی۔ اور ان دونوں (صحابہ) میں سے جس نے جو اکثر عمل سمجھا اس کو بیان کر دیا اور یقیناً حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دائیں جانب پھرنے کے وجوب کے اعتقاد کو ناپسند کیا ہے۔ (یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ صرف دائیں طرف ہی پھرنا چاہیے درست نہیں)۔ [شرح مسلم: 238/3]
(ابن حجرؒ) ایک اور طریقے سے بھی ان احادیث کو جمع کیا جا سکتا ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کو مسجد میں نماز پڑھنے پر محمول کیا جائے اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کو اس کے علاوہ سفر وغیرہ پر۔ اور جب حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کے اعتقاد میں تعارض ہوا ہے تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو ترجیح دی جائے گی کیونکہ وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے زیادہ عالم، زیادہ عمر رسیدہ، بزرگ اور اکثر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے والے تھے۔ [فتح الباري: 609/2]
(راجح) دونوں طرح جائز ہے البتہ دائیں جانب پھرنا عمومی دلائل کی بنا پرعلماء کے نزدیک افضل ہے۔ [نيل الأوطار: 155/2]
➌ حضرت قبیصہ بن ھلب عن ابیہ روایت ہے کہ
«كان رسول الله يؤمنا فينصرف عن جانبي جميعا، على يمينه وعلى شماله»
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت کراتے تو دونوں جانب پھرتے تھے، یعنی اپنی دائیں جانب اور اپنی بائیں جانب۔“
[حسن: صحيح ترمذي: 246، كتاب الصلاة: باب ما جاء فى الإنصراف عن يمينه و عن شماله، صحيح أبو داود: 919، ترمذي: 301، أبو داود: 1041، ابن ماجة: 929، ابن حبان: 1998، بيهقي: 295/2]
اس روایت کو نقل کرنے کے بعد امام ترمذیؒ بیان کرتے ہیں کہ اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور مزید کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی جاتی ہے کہ انہوں نے کہا: «ان كانت حاجته عن يمينه أخذ عن يمينه وإن كانت حاجته عن يساره أخذ عن يساره» اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں جانب کوئی ضرورت یا کام ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں جانب پھر جاتے اور اگر بائیں جانب کوئی حاجت ہوتی تو بائیں جانب پھر جاتے۔“
➊ حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
«كان النبى صلى الله عليه وسلم إذا صلى صلاة أقبل علينا بوجهه»
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تھے تو (سلام کے بعد) اپنا چہرہ ہماری طرف کر لیتے تھے۔“ [صحیح بخاری: 845]
➋ حضرت یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم حجتہ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز فجر پڑھائی۔
«ثم انحرف جالسا واستقبل الناس بوجهه»
”پھر بیٹھے ہوئے ہی پھرے اور اپنا چہرہ لوگوں کی طرف متوجہ کر لیا۔“ [أحمد: 161/4]
امام کو دائیں جانب پھرنا چاہیے یا بائیں جانب اس کے متعلق دو بظاہر مختلف احادیث ہیں:
➊ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
«لقد رأيت النبى كثيرا ينصرف عن يساره»
”بے شک میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ اپنے بائیں جانب پھرتے ہوئے دیکھا ہے۔“
[بخاري: 852، كتاب الأذان: باب الانفتال والا نصراف من اليمين والشمال، مسلم: 707، أبو داود: 1042، نسائي: 81/3، ابن ماجة: 930، دارمي: 311/1، حميدي: 127، عبد الرزاق: 3208، أبو عوانة: 250/2]
➋ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
«اكثر ما رأيت رسول الله ينصرف عن يمينه»
”اکثر جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے وہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں جانب پھرتے تھے۔“
[مسلم: 708، كتاب صلاة المسافرين وقصرها: باب جواز الانصراف من الصلاة عن اليمين والشمال، نسائي: 81/3، دارمي: 312/1، ابن أبى شيبة: 305/1، بيهقى: 295/2]
(نوویؒ) ان دونوں روایات کو اس طرح جمع کیا جائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بھی کرتے تھے اور اُس طرح بھی۔ اور ان دونوں (صحابہ) میں سے جس نے جو اکثر عمل سمجھا اس کو بیان کر دیا اور یقیناً حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دائیں جانب پھرنے کے وجوب کے اعتقاد کو ناپسند کیا ہے۔ (یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ صرف دائیں طرف ہی پھرنا چاہیے درست نہیں)۔ [شرح مسلم: 238/3]
(ابن حجرؒ) ایک اور طریقے سے بھی ان احادیث کو جمع کیا جا سکتا ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کو مسجد میں نماز پڑھنے پر محمول کیا جائے اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کو اس کے علاوہ سفر وغیرہ پر۔ اور جب حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کے اعتقاد میں تعارض ہوا ہے تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو ترجیح دی جائے گی کیونکہ وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے زیادہ عالم، زیادہ عمر رسیدہ، بزرگ اور اکثر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے والے تھے۔ [فتح الباري: 609/2]
(راجح) دونوں طرح جائز ہے البتہ دائیں جانب پھرنا عمومی دلائل کی بنا پرعلماء کے نزدیک افضل ہے۔ [نيل الأوطار: 155/2]
➌ حضرت قبیصہ بن ھلب عن ابیہ روایت ہے کہ
«كان رسول الله يؤمنا فينصرف عن جانبي جميعا، على يمينه وعلى شماله»
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت کراتے تو دونوں جانب پھرتے تھے، یعنی اپنی دائیں جانب اور اپنی بائیں جانب۔“
[حسن: صحيح ترمذي: 246، كتاب الصلاة: باب ما جاء فى الإنصراف عن يمينه و عن شماله، صحيح أبو داود: 919، ترمذي: 301، أبو داود: 1041، ابن ماجة: 929، ابن حبان: 1998، بيهقي: 295/2]
اس روایت کو نقل کرنے کے بعد امام ترمذیؒ بیان کرتے ہیں کہ اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور مزید کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی جاتی ہے کہ انہوں نے کہا: «ان كانت حاجته عن يمينه أخذ عن يمينه وإن كانت حاجته عن يساره أخذ عن يساره» اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں جانب کوئی ضرورت یا کام ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں جانب پھر جاتے اور اگر بائیں جانب کوئی حاجت ہوتی تو بائیں جانب پھر جاتے۔“
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 443]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:845
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ کو بیان کیا گیا ہے کہ نماز سے فراغت کے بعد آپ مقتدیوں کی طرف منہ کر لیتے تھے۔
شارحین نے اس کی حکمت یہ بیان کی ہے کہ باہر سے آنے والے کو معلوم ہو جائے کہ جماعت ہو چکی ہے۔
اگر امام قبلہ رو ہو کر بیٹھا رہے گا تو وہم ہو سکتا ہے کہ شاید وہ تشہد میں بیٹھا ہوا ہے۔
دوسری حکمت یہ بیان کی گئی ہے کہ مقتدی حضرات کو ایسے امور کی تعلیم دے جس کے وہ ضرورت مند ہیں، یا انہیں وعظ و نصیحت کرے۔
(2)
علامہ زین بن منیر لکھتے ہیں کہ امام کا مقتدیوں کی طرف پیٹھ کرنا امامت کی وجہ سے تھا، جب نماز ہو چکی تو یہ سبب بھی ختم ہو گیا، چونکہ اب امامت سے فارغ ہو چکا ہے، اس لیے امام کو چاہیے کہ وہ مقتدیوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے ایسا کرنے سے تکبر و غرور اور مقتدی حضرات پر ترفع وغیرہ کا وہم نہیں ہو گا۔
بہرحال امام کو چاہیے کہ وہ نماز سے فراغت کے بعد مقتدیوں کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھنے کی بجائے ان کی طرف منہ کر کے بیٹھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت مبارکہ تھی۔
اگر ضرورت ہو تو سلام کے بعد اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے فوراً جا سکتا ہے جیسا کہ آئندہ بیان ہو گا۔
(فتح الباري: 431/2)
(1)
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ کو بیان کیا گیا ہے کہ نماز سے فراغت کے بعد آپ مقتدیوں کی طرف منہ کر لیتے تھے۔
شارحین نے اس کی حکمت یہ بیان کی ہے کہ باہر سے آنے والے کو معلوم ہو جائے کہ جماعت ہو چکی ہے۔
اگر امام قبلہ رو ہو کر بیٹھا رہے گا تو وہم ہو سکتا ہے کہ شاید وہ تشہد میں بیٹھا ہوا ہے۔
دوسری حکمت یہ بیان کی گئی ہے کہ مقتدی حضرات کو ایسے امور کی تعلیم دے جس کے وہ ضرورت مند ہیں، یا انہیں وعظ و نصیحت کرے۔
(2)
علامہ زین بن منیر لکھتے ہیں کہ امام کا مقتدیوں کی طرف پیٹھ کرنا امامت کی وجہ سے تھا، جب نماز ہو چکی تو یہ سبب بھی ختم ہو گیا، چونکہ اب امامت سے فارغ ہو چکا ہے، اس لیے امام کو چاہیے کہ وہ مقتدیوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے ایسا کرنے سے تکبر و غرور اور مقتدی حضرات پر ترفع وغیرہ کا وہم نہیں ہو گا۔
بہرحال امام کو چاہیے کہ وہ نماز سے فراغت کے بعد مقتدیوں کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھنے کی بجائے ان کی طرف منہ کر کے بیٹھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت مبارکہ تھی۔
اگر ضرورت ہو تو سلام کے بعد اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے فوراً جا سکتا ہے جیسا کہ آئندہ بیان ہو گا۔
(فتح الباري: 431/2)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 845]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5937
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھ لیتے تھے تو رخ ان کی طرف کرلیتے اور پوچھتے، ”کیا تم میں سے کسی نے آج رات خواب دیکھا؟“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5937]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ امام کو صبح کی نماز کے بعد مقتدیوں کی طرف منہ کر کے بیٹھ جانا چاہیے اور ان سے کوئی پوچھنے کی چیز ہو تو پوچھ لینا چاہیے اور صبح کی نماز کے بعد خواب کی تعبیر لگانا زیادہ مناسب ہے،
کیونکہ خواب دیکھنے والے کے ذہن میں خواب ابھی تازہ تازہ ہوتا ہے اور تعبیر لگانے والا ذہن اور دماغ میں حاضر ہوتا ہے،
معاش کی فکر ابھی مبتلا نہیں ہوا ہوتا،
اس لیے ان لوگوں کا خیال غلط ہے،
جو کہتے ہیں،
خواب کی تعبیر سورج نکلنے سے پہلے نہیں پوچھنی چاہیے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ امام کو صبح کی نماز کے بعد مقتدیوں کی طرف منہ کر کے بیٹھ جانا چاہیے اور ان سے کوئی پوچھنے کی چیز ہو تو پوچھ لینا چاہیے اور صبح کی نماز کے بعد خواب کی تعبیر لگانا زیادہ مناسب ہے،
کیونکہ خواب دیکھنے والے کے ذہن میں خواب ابھی تازہ تازہ ہوتا ہے اور تعبیر لگانے والا ذہن اور دماغ میں حاضر ہوتا ہے،
معاش کی فکر ابھی مبتلا نہیں ہوا ہوتا،
اس لیے ان لوگوں کا خیال غلط ہے،
جو کہتے ہیں،
خواب کی تعبیر سورج نکلنے سے پہلے نہیں پوچھنی چاہیے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5937]
Sahih Bukhari Hadith 845 in Urdu
عمران بن ملحان العطاردي ← سمرة بن جندب الفزاري