🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب من أين تؤتى الجمعة وعلى من تجب:
باب: جمعہ کے لیے کتنی دور والوں کو آنا چاہیے اور کن لوگوں پر جمعہ واجب ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q902
لِقَوْلِ اللَّهِ جَلَّ وَعَزَّ: إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ سورة الجمعة آية 9، وَقَالَ عَطَاءٌ: إِذَا كُنْتَ فِي قَرْيَةٍ جَامِعَةٍ فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَحَقٌّ عَلَيْكَ أَنْ تَشْهَدَهَا سَمِعْتَ النِّدَاءَ أَوْ لَمْ تَسْمَعْهُ وَكَانَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قَصْرِهِ أَحْيَانًا يُجَمِّعُ وَأَحْيَانًا لَا يُجَمِّعُ وَهُوَ بِالزَّاوِيَةِ عَلَى فَرْسَخَيْنِ
‏‏‏‏ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الجمعہ میں) ارشاد ہے «إذا نودي للصلاة من يوم الجمعة» جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان ہو (تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو) عطاء نے کہا کہ جب تم ایسی بستی میں ہو جہاں جمعہ ہو رہا ہے اور جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو تمہارے لیے جمعہ کی نماز پڑھنے آنا واجب ہے۔ اذان سنی ہو یا نہ سنی ہو۔ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ (بصرہ سے) چھ میل دور مقام زاویہ میں رہتے تھے، آپ یہاں کبھی اپنے گھر میں جمعہ پڑھ لیتے اور کبھی یہاں جمعہ نہیں پڑھتے۔ (بلکہ بصرہ کی جامع مسجد میں جمعہ کے لیے تشریف لایا کرتے تھے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: Q902]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 902
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" كَانَ النَّاسُ يَنْتَابُونَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ مَنَازِلِهِمْ وَالْعَوَالِيِّ، فَيَأْتُونَ فِي الْغُبَارِ يُصِيبُهُمُ الْغُبَارُ وَالْعَرَقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُمُ الْعَرَقُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْسَانٌ مِنْهُمْ وَهُوَ عِنْدِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَنَّكُمْ تَطَهَّرْتُمْ لِيَوْمِكُمْ هَذَا".
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، ان سے عبیداللہ بن ابی جعفر نے کہ محمد بن جعفر بن زبیر نے ان سے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ نے، آپ نے کہا کہ لوگ جمعہ کی نماز پڑھنے اپنے گھروں سے اور اطراف مدینہ گاؤں سے (مسجد نبوی میں) باری باری آیا کرتے تھے۔ لوگ گردوغبار میں چلے آتے، گرد میں اٹے ہوئے اور پسینہ میں شرابور۔ اس قدر پسینہ ہوتا کہ تھمتا (رکتا) نہیں تھا۔ اسی حالت میں ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اس دن (جمعہ میں) غسل کر لیا کرتے تو بہتر ہوتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 902]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ لوگ اپنے گھروں اور مدینہ کے بالائی علاقوں سے نماز جمعہ پڑھنے کے لیے باری باری آتے تھے۔ چونکہ وہ گرد و غبار میں چل کر آتے، اس لیے ان کے بدن سے غبار اور پسینے کی وجہ سے بدبو آنے لگتی، چنانچہ ان میں سے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ آپ اس وقت میرے گھر میں تھے، تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کاش کہ تم لوگ اس مبارک دن میں نہا دھو لیا کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 902]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن جعفرالأسدي
Newمحمد بن جعفرالأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة
👤←👥عبيد الله بن أبي جعفر المصري
Newعبيد الله بن أبي جعفر المصري ← محمد بن جعفرالأسدي
ثقة
👤←👥عمرو بن الحارث الأنصاري، أبو أيوب، أبو أمية
Newعمرو بن الحارث الأنصاري ← عبيد الله بن أبي جعفر المصري
ثقة فقيه حافظ
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← عمرو بن الحارث الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥أحمد بن صالح المصري، أبو جعفر
Newأحمد بن صالح المصري ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
902
لو أنكم تطهرتم ليومكم هذا
صحيح مسلم
1958
لو أنكم تطهرتم ليومكم هذا
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 902 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 902
حدیث حاشیہ:
جمعہ کے دن غسل کرنا موجب اجر وثواب ہے مگر یہ غسل واجب ہے یا مستحب، اس میں اختلاف ہے۔
بعض احادیث میں اس کے لیے لفظ واجب استعمال ہوا ہے اور بعض میں صیغہ امر بھی ہے جس سے اس کا وجوب ثابت ہوتا ہے مگر ایک روایت میں سمرہ ابن جندب ؓ سے ان لفظوں میں بھی مروی ہے۔
أن نبي اللہ صلی اللہ علیه وسلم قال من توضأ للجمعة فبھا ونعمت ومن اغتسل فذلك أفضل۔
(رواہ الخمسة إلا ابن ماجة)
یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے جمعہ کے لیے وضو کیا پس اچھا کیا اور بہت ہی اچھا کیا اور جس نے غسل بھی کر لیا پس یہ غسل افضل ہے۔
اس حدیث کو ترمذی نے حسن کہا ہے اسی بناءپر علامہ شوکانی فرماتے ہیں:
۔
قال النووي فحکی وجوبه عن طائفة من السلف حکوہ عن بعض الصحابة وبه قال أھل الظاھر۔
یعنی (حدیث بخاری کے تحت)
سلف میں سے ایک جماعت سے غسل جمعہ کا وجوب نقل ہوا ہے بعض صحابہ سے بھی منقول ہے اور اہل ظاہر کا یہی فتوی ہے۔
مگر دوسری روایت کی بنا پر حضرت علامہ شوکانی فرماتے ہیں:
وذھب جمھور العلماء من السلف والخلف وفقھاءالأمصار إلی أنھا مستحب۔
(نیل)
یعنی سلف اور خلف سے جمہور علماءفقہاءامصار اس طرف گئے ہیں کہ یہ مستحب ہے جن روایات میں حق اور واجب کا لفظ آیا ہے اس سے مراد تاکید ہے اور وہ وجوب مراد نہیں ہے جن کے ترک سے گناہ لازم آئے (نیل)
ہاں جن لوگوں کا یہ حال ہو وہ ہفتہ بھر نہ نہاتے ہوں اور ان کے جسم ولباس سے بدبو آرہی ہو، ان کے لیے غسل جمعہ ضروری ہے۔
حضرت علامہ عبد الرحمن مبارکپوری ؒ فرماتے ہیں۔
قلت قد جاء في ھذا الباب أحادیث مختلفة بعضھا یدل علی أن الغسل یوم الجمعة واجب وبعضھا یدل علی أنه مستحب والظاھر عندي أنه سنة مؤکدة وبھذا یحصل الجمع بین الأحادیث المختلفة واللہ تعالی أعلم۔
(تحفۃ الاحوذی)
یعنی میں کہتا ہوں کہ اس مسئلہ میں مختلف احادیث آئی ہیں بعض سے وجوب غسل ثابت ہوتا ہے اور بعض سے صرف استحباب اور میرے نزدیک ظاہر مسئلہ یہ ہے کہ غسل جمعہ سنت مؤکدہ ہے اور اسی طرح سے مختلف احادیث واردہ میں تطبیق دی جا سکتی ہے۔
احادیث مذکورہ سے یہ بھی ظاہر ہے کہ اہل دیہات جمعہ کے لیے ضرور حاضر ہوا کرتے تھے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداءان کے لیے باعث صد فخر تھی اور وہ اہل دیہات بھی ایسے کہ اونٹ اور بکریوں کے چرانے والے، عسرت کی زندگی گزارنے والے، بعض دفعہ غسل کے لیے موقع بھی نہ ملتا اور بدن کے پسینوں کی بو آتی رہتی تھی۔
اگر اسلام میں اہل دیہات کے لیے جمعہ کی ادائیگی معاف ہوتی تو ضرور کبھی نہ کبھی آنحضرت ان سے فرما دیتے کہ تم لوگ اس قدر محنت مشقت کیوں اٹھاتے ہو، تمہارے لیے جمعہ کی حاضری فرض نہیں ہے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ بھی کبھی ایسا نہیں فرمایا جس سے صاف ظاہر ہے کہ جمعہ ہر مسلمان پر فرض ہے ہاں جن کوخود صاحب شریعت نے مستثنی فرما دیا، ان پر فرض نہیں ہے۔
اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ غسل جمعہ بہر حال ہونا چاہیے کیونکہ اسلام میں صفائی ستھرائی کی بڑی تاکید ہے۔
قرآن مجید میں اللہ پاک نے فرمایا:
﴿اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِینَ وَیُحِبُّ المُتَطَھَّرِینَ ﴾ (البقرۃ: 222)
بے شک اللہ پاک توبہ کرنے والوں اور پاکی حاصل کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
غسل بھی پاکی حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہے، اسلام میں یہ اصول مقرر کیا گیا کہ بغیر پاکی حاصل کئے نماز ہی درست نہ ہوگی جس میں بوقت ضرورت استنجائ، غسل، وضو سب طریقے داخل ہیں۔
حجۃ الہند حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں۔
قال النبی صلی اللہ عله وسلم الطھور شطر الإیمان۔
أقول المراد بالإیمان ھھنا ھیئة نفسانیة مرکبة من نور الطھارة والأخبات والإحسان أوضح منه في هذا المعنی ولا شك أن الطھور شطرہ۔
(حجۃ اللہ البالغۃ)
یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ طہارت نصف ایمان ہے میں کہتاہوں کہ یہاں ایمان سے ایک ایسی ہیئت نفسانیہ مراد ہے جو نور طہارت اور خشوع سے مرکب ہے اور لفظ احسان اس معنی میں ایمان سے زیادہ واضح ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ طہارت اس کانصف ہے۔
خلاصۃ المرام یہ کہ جمعہ کے دن خاص طور پر نہا دھوکر خوب پاک صاف ہو کر نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے جانا موجب صداجر وثواب ہے اور نہانے دھونے سے صفائی ستھرائی کا حصول صحت جسمانی کے لیے بھی مفید ہے۔
جو لوگ روز انہ غسل کے عادی ہیں ان کا تو ذکر ہی کیا ہے مگر جو لوگ کسی وجہ سے روزانہ غسل نہیں کر سکتے کم از کم جمعہ کے دن وہ ضرورضرورغسل کر کے صفائی حاصل کریں۔
جمعہ کے دن غسل کے علاوہ بوقت جنابت مرد وعورت دونوں کے لیے غسل واجب ہے، یہ مسئلہ اپنی جگہ پر تفصیل سے آچکا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 902]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:902
حدیث حاشیہ:
(1)
عوالی، مدینہ کے بالائی علاقے میں تین چار میل پر واقع آبادی کو کہتے ہیں۔
معلوم ہوا اتنی مسافت پر رہنے والوں کو شہر کی مساجد میں جمعہ کے لیے حاضر ہونا ضروری نہیں۔
اگر ضروری ہوتا تو باری باری آنے کی بجائے سب کے سب حاضر ہوتے۔
ان حضرات کا باری باری آنا تعلیم کے لیے تھا جیسا کہ حضرت عمرؓ اور ایک انصاری صحابی باری باری مسجد نبوی میں حصول علم کے لیے حاضر ہوتے تھے۔
(2)
اس حدیث سے کئی ایک چیزوں کا پتہ چلتا ہے، مثلاً:
٭ عالم دین کو طلباء کے ساتھ نرمی کرنی چاہیے۔
٭ اہل خیر کی مجالس میں نظافت اور صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔
٭ مسلمان کی اذیت رسانی سے اجتناب کرنا چاہیے۔
٭ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم امتثال اوامر پربڑے حریص تھے اگرچہ انہیں مشقت اٹھانا پڑتی تھی۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 902]

Sahih Bukhari Hadith 902 in Urdu