🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب وقت الجمعة إذا زالت الشمس:
باب: جمعہ کا وقت سورج ڈھلنے سے شروع ہوتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q903
وَكَذَلِكَ يُرْوَى عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، وَعَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ.
‏‏‏‏ اور عمر اور علی اور نعمان بن بشیر اور عمرو بن حریث رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اسی طرح مروی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: Q903]
 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 903
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عَمْرَةَ عَنِ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَتْ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:" كَانَ النَّاسُ مَهَنَةَ أَنْفُسِهِمْ، وَكَانُوا إِذَا رَاحُوا إِلَى الْجُمُعَةِ رَاحُوا فِي هَيْئَتِهِمْ فَقِيلَ لَهُمْ لَوِ اغْتَسَلْتُمْ".
ہم سے عبدان عبداللہ بن عثمان نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا کہ ہمیں یحیٰی بن سعید نے خبر دی کہ انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے جمعہ کے دن غسل کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ لوگ اپنے کاموں میں مشغول رہتے اور جمعہ کے لیے اسی حالت (میل کچیل) میں چلے آتے، اس لیے ان سے کہا گیا کہ کاش تم لوگ (کبھی) غسل کر لیا کرتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 903]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ لوگ اپنا کام کاج خود کیا کرتے تھے اور جب جمعہ کے لیے آتے تو اسی حالت میں چلے آتے۔ اندریں حالات ان سے کہا گیا: کاش تم نے غسل کر لیا ہوتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 903]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية
Newعمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← يحيى بن سعيد الأنصاري
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥عبد الله بن عثمان العتكي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عثمان العتكي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
903
الناس مهنة أنفسهم وكانوا إذا راحوا إلى الجمعة راحوا في هيئتهم فقيل لهم لو اغتسلتم
مسندالحميدي
178
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 903 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 903
حدیث حاشیہ:
باب اور حدیث میں مطابقت لفظ حدیث کانو ''إذا راحوا إلی الجمعة'' سے ہے۔
علامہ عینی ؒ فرماتے ہیں لأن الرواح لا یکون إلابعد الزوال امام بخاری نے اس سے ثابت فرمایا کہ صحابہ کرام جمعہ کی نماز کے لیے زوال کے بعد آیا کرتے تھے معلوم ہوا کہ جمعہ کا وقت بعد زوال ہوتا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 903]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:903
حدیث حاشیہ:
(1)
جمعہ کا وقت جمہور ائمہ کے نزدیک وقت ظہر ہی ہے، یعنی اسے بھی زوال آفتاب کے بعد پڑھنا چاہیے جبکہ امام احمد کا موقف ہے کہ جمعہ، عیدین کے وقت بھی پڑھا جا سکتا ہے۔
امام بخاری ؒ نے اس عنوان میں امام احمد ؒ کے موقف سے اختلاف کر کے جمہور کے موقف کو ثابت کیا ہے، چنانچہ اس حدیث میں لفظ "راحوا" استعمال ہوا ہے جس کے معنی بعد از زوال جانا ہے جیسا کہ اکثر اہل لغت نے اس کی صراحت کی ہے۔
پھر اس حدیث میں وضاحت ہے کہ اسی حالت میں لوگوں کو پسینہ آ جاتا جس سے بدبو پھیل جاتی۔
ایسا ہونا سخت گرمی میں ممکن ہے جبکہ وہ عوالی سے آتے تھے۔
معلوم ہوتا ہے کہ لوگ زوال یا اس کے قریب قریب مسجد میں آتے ہوں گے۔
اسی مناسبت سے امام بخاری ؒ نے حدیث عائشہ ؓ کو ذکر کیا ہے۔
(فتح الباري: 499/2) (2)
بعض حنابلہ نے نماز جمعہ قبل از زوال، یعنی چاشت کے وقت پڑھنا جائز قرار دیا ہے۔
ان کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کو مسلمانوں کی عید قرار دیا ہے، اس بنا پر عیدین کے وقت اسے پڑھا جا سکتا ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اسے مسلمانوں کی عید قرار دینے کا مطلب یہ نہیں کہ عید کے تمام احکام اس پر چسپاں کر دیے جائیں۔
عید کے دن روزہ رکھنا حرام ہے لیکن جمعہ کے دن روزہ رکھا جا سکتا ہے۔
(فتح الباري: 498/2)
اس کے علاوہ جمعہ میں خطبہ نماز سے پہلے ہے جبکہ عیدین میں نماز کے بعد ہے۔
عیدین میں نماز سے پہلے نوافل ادا کرنا منع ہے جبکہ جمعہ سے پہلے جائز ہے۔
عیدین کے لیے اذان و اقامت نہیں جبکہ جمعہ کے لیے اذان اور اقامت کہی جاتی ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 903]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:178
فائدہ:
اس حدیث سے جمعہ کے غسل کی اہمیت ثابت ہوتی ہے، راجح موقف یہی ہے کہ غسل جمعہ مستحب ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 178]

Sahih Bukhari Hadith 903 in Urdu