🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
خلیفہ معاف نہیں کر سکتا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1638 ترقیم فقہی: -- 1183
-" لا تكونوا أعوانا للشيطان على أخيكم. إنه لا ينبغي للإمام إذا انتهى إليه حد إلا أن يقيمه، إن الله عفو يحب العفو، * (وليعفوا وليصفحوا ألا تحبون أن يغفر الله لكم، والله غفور رحيم) *".
ابوماجدہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے کہا: میں اس پہلے آدمی کو جانتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کا ہاتھ کاٹا تھا۔ چور کو لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، لیکن ایسے لگ رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ ہو گئے ہیں۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے لگتا ہے کہ آپ اس کا ہاتھ کاٹنے کو ناپسند کر رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے کیا رکاوٹ ہو سکتی ہے؟ اپنے اس بھائی کے بارے میں شیطان کے مددگار نہ بنو، ہر امام کو یہی زیب دیتا ہے کہ جونہی اس تک کوئی حد پہنچے وہ اسے نافذ کر دے، بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے اور معاف کرنے کو پسند کرتا ہے، (‏‏‏‏ارشاد باری تعالیٰ ہے:) اور وہ معاف کریں اور درگزر کریں، کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تم کو (‏‏‏‏تمہاری خطاؤں کو بخشے) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (‏‏‏‏سورہ نور: ۲۲) [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1183]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1638

قال الشيخ الألباني:
- " لا تكونوا أعوانا للشيطان على أخيكم. إنه لا ينبغي للإمام إذا انتهى إليه حد إلا أن يقيمه، إن الله عفو يحب العفو، * (وليعفوا وليصفحوا ألا تحبون أن يغفر الله لكم، والله غفور رحيم) * ".
‏‏‏‏_____________________
‏‏‏‏
‏‏‏‏أخرجه أحمد (1 / 438) والحاكم (4 / 382 - 383) والبيهقي (8 / 331) من
‏‏‏‏طريق يحيى الجابر سمعت أبا ماجدة يقول: " كنت قاعدا مع عبد الله بن مسعود
‏‏‏‏رضي الله عنه، فقال: إني لأذكر أول رجل قطعه رسول الله صلى الله عليه وسلم ،
‏‏‏‏أتى بسارق فأمر بقطعه، فكأنما أسف وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقالوا
‏‏‏‏: يا رسول الله كأنك كرهت قطعه؟ قال: وما يمنعني؟ ! لا تكونوا ... الخ
‏‏‏‏وقال الحاكم: " صحيح الإسناد ". وسكت عنه الذهبي وما يحسن ذلك منه، فإذا
‏‏‏‏أورد أبا ماجدة هذا في " الميزان " وقال: " لا يعرف، وقال النسائي: منكر
‏‏‏‏الحديث، وقال البخاري: ضعيف ". لكن الحديث عندي حسن، فإن جله قد ثبت مفرقا
‏‏‏‏في أحاديث، فقوله: " لا تكونوا أعوانا للشيطان على أخيكم "، أخرجه البخاري
‏‏‏‏عن أبي هريرة. انظر " المشكاة " (2621) . وقوله: " إنه لا ينبغي ... "،
‏‏‏‏يشهد له حديث ابن عمرو " تعافوا الحدود بينكم ... " وهو مخرج في " المشكاة "
‏‏‏‏(3568) . وحديث العفو، ويشهد له حديث عائشة " قولي اللهم إنك عفو تحب
‏‏‏‏العفو ... ". وهو في المشكاة (2091) . وذكر له السيوطي شاهدا آخر من رواية
‏‏‏‏ابن عدي عن عبد الله بن جعفر. ¤

 
Silsilat al-Ahadith al-Sahihah Hadith 1183 in Urdu