🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
مقتول کے لواحقین کو دو اختیار حاصل ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3529 ترقیم فقہی: -- 1191
- (إنّ الله حبس عن مكة القتل- أو الفيل، شك أبو عبد الله-، وسلط عليهم رسول الله - صلى الله عليه وسلم - والمؤمنين، ألا وإنها لم تحلّ لأحد قبلي، ولم تحل لأحد بعدي، ألا وإنها حلت لي ساعة من نهار، ألا وإنها ساعتي هذه حرامٌ؛ لا يختلى شوكها، ولا يعضدُ شجرها، ولا تلتقط ساقطتها إلا لمنشد، فمن قُُتلَ؛ فهو بخير النظرين: إما أن يعقل، وإما أن يُقاد أهل القتيل) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو خزاعہ نے فتح مکہ والے سال اپنے ایک مقتول کے بدلے بنو لیث کا ایک آدمی قتل کیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے اور خطبہ دیا، جس میں یہ بھی فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مکہ میں قتل کرنے سے منع کر دیا ہے اور رسول اللہ اور مومنوں کو ان پر مسلط کر دیا ہے۔ خبردار! یہ (‏‏‏‏حرم مکی) نہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال تھا اور نہ (‏‏‏‏کسی کے لیے) بعد میں ہو گا۔ آگاہ رہو! اسے میرے لیے دن کی کچھ گھڑی کے لیے حلال کیا گیا۔ خبردار! اب اس وقت میں یہ حرام ہے، اس کے کانٹوں کو نہ اکھاڑا جائے، اس کے درختوں کو نہ کاٹا جائے اور اس کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے، مگر تشہیر کے لیے۔ اگر کوئی قتل ہو جائے تو (‏‏‏‏اس کے ورثا کو) دو اختیارات میں سے ایک کا حق حاصل ہے، یا تو وہ دیت لے لیں یا پھر قصاص۔ ایک یمنی آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! (‏‏‏‏یہ خطبہ) میرے لیے لکھوا دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: ابوفلاں کے لیے لکھ دو۔ (‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کے دوران) ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اذخر نامی گھاس (‏‏‏‏کو کاٹنے کی اجازت دے دیں) کیونکہ ہم اس گھاس کو گھروں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (‏‏‏‏ ‏‏‏‏ٹھیک ہے) اذخر گھاس (‏‏‏‏ ‏‏‏‏کاٹ سکتے ہو)۔ امام مسلم نے (‏‏‏‏ ‏‏‏‏اس روایت کے الفاظ میں) یہ زیادتی کی ہے: ولید نے کہا: میں نے اوزاعی سے کہا: (‏‏‏‏ ‏‏‏‏یمنی نے جو یہ کہا: کہ) اے اللہ کے رسول! میرے لیے لکھوا دیں۔ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: وہ خطبہ جو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1191]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3529

قال الشيخ الألباني:
- (إنّ الله حبس عن مكة القتل- أو الفيل، شك أبو عبد الله-، وسلط عليهم رسول الله - صلى الله عليه وسلم - والمؤمنين، ألا وإنها لم تحلّ لأحد قبلي، ولم تحل لأحد بعدي، ألا وإنها حلت لي ساعة من نهار، ألا وإنها ساعتي هذه حرامٌ؛ لا يختلى شوكها، ولا يعضدُ شجرها، ولا تلتقط ساقطتها إلا لمنشد، فمن قُُتلَ؛ فهو بخير النظرين: إما أن يعقل، وإما أن يُقاد أهل القتيل) .
‏‏‏‏_____________________
‏‏‏‏
‏‏‏‏أخرجه البخاري (112 و2434و6880) ، ومسلم (4/110) ، والدارمي (2/265) ، وأحمد (2/238) ، وعنه أبو داود (2017) ، والدارقطني (3/96/58) ، والبيهقي في "السنن " (8/52) و"الدلائل " (5/84) كلهم من طريق أبي سلمة عن أبي هريرة:
‏‏‏‏أن خُزاعة قتلوا رجلاً من بني ليث عام فتح مكة بقتيل منهم قتلوه، فأخبر بذلك النبي - صلى الله عليه وسلم -، فركب راحلته فخطب فقال: ... فذكره. وزاد الشيخان وغيرهما: فجاء رجل من أهل اليمن فقال: اكتب لي يا رسول الله! فقال:
‏‏‏‏"اكتبوا لأبي فلان ". فقال رجل من قريش: إلا الإذْخِرَ يا رسول الله! فإنا نجعله في بيوتنا وقبورنا؟! فقال النبي - صلى الله عليه وسلم -:
‏‏‏‏¬
‏‏‏‏__________
‏‏‏‏(¬1) كان هنا الحديث: "إن الله استقبل بي الشام ... !، وكان الشيخ- رحمه الله- قد تراجع عنه في المجلد الأول من "الصحيحة" الطبعة الجديدة ونقله إلى "الضعيفة" (5848) ، فحذفنا هذا.
‏‏‏‏__________جزء : 7 /صفحہ : 1481__________
‏‏‏‏
‏‏‏‏"إلا الإذخر".
‏‏‏‏زاد مسلم: قال الوليد: فقلت للأوزاعي: ما قوله: اكتبوا لي يا رسول الله!؟ قال: هذه الخطبة التي سمعها من رسول الله-صلى الله عليه وسلم -. * ¤

 
Silsilat al-Ahadith al-Sahihah Hadith 1191 in Urdu