🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
ہر دشمن سے بچانے والا اللہ ہے . . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی انتقام نہ لینا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3546 ترقیم فقہی: -- 170
- (إنّ هذا اخترط سيفي وأنا نائمٌ، فاستيقظت وهو في يده صلتاً، فقال لي: من يمنعك مني؟ قلت: الله، فها هو ذا جالسٌ) .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف ایک غزوے میں شریک تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس پلٹے تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ چلتے چلتے ایسی وادی میں قیلولے کا وقت ہو گیا جس میں خار دار درخت بہت زیادہ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پڑاؤ ڈالا اور لوگ درخت کا سایہ حاصل کرنے کے لئے بکھر گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ببول کے درخت کے نیچے آ گئے اور اس کے ساتھ اپنی تلوار لٹکا دی۔ ہم سو گئے، اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلایا، جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بدو آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا: میں سویا ہوا تھا، اس بدو نے میری تلوار میان سے نکالی، جب بیدار ہوا تو میری تلوار اس کے ہاتھ میں سونتی ہوئی تھی۔ اس نے مجھے کہا: کون ہے جو آپ کو مجھ سے بچائے گا؟ میں نے کہا: اللہ ہے۔ یہ دیکھو! اب یہ بیٹھا ہوا ہے (اور میرا کچھ نہ بگاڑ سکا)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کوئی انتقام نہ لیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 170]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3546

قال الشيخ الألباني:
- (إنّ هذا اخترط سيفي وأنا نائمٌ، فاستيقظت وهو في يده صلتاً، فقال لي: من يمنعك مني؟ قلت: الله، فها هو ذا جالسٌ) .
‏‏‏‏_____________________
‏‏‏‏
‏‏‏‏أخرجه البخاري (4134 و4135) ، ومسلم (7/62) ، والنسائي في " السنن الكبرى " (8772 و 2 885) ، والبيهقي في " السنن " (6/319) وفي "دلائل النبوة " (3/373) ، وأحمد (3/3311) من طريق سنان بن أبي سنان وأبي سلمة عن جابر بن عبد الله:
‏‏‏‏أنه غزا مع رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قبل نجد، فلما قفل رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قفل معه، فأدركتهم القائلة في واد كثير العضاه، فنزل رسول الله - صلى الله عليه وسلم -؛ وتفرق الناس في العضاه يستظلون بالشجر، ونزل رسول الله - صلى الله عليه وسلم - تحت سمُرة، فعلق بها سيفه. قال جابر: فنمنا نومة؛ فإذا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يدعونا، فجئناه؛ فإذا عنده أعرابي جالس، فقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: ... فذكر الحديث، وزاد البخاري وغيره:
‏‏‏‏ثم لم يعاقبه رسول الله - صلى الله عليه وسلم -. * ¤

 
Silsilat al-Ahadith al-Sahihah Hadith 170 in Urdu