🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
«لا اله الا الله» کے ذکر کی کثرت کی نصیحت اور وجہ
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 467 ترقیم فقہی: -- 34
-" اركع ركعتين ولا تعودون لمثل هذا. يعني الإبطاء عن الخطبة. قاله لسليك الغطفاني".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے معبود برحق ہونے کی گواہی کثرت سے دیتے رہا کرو، قبل اس کے کہ تمہارے اور اس کے مابین کوئی رکاوٹ حائل ہو جائے اور قریب المرگ لوگوں کو اس کی تلقین کیا کرو۔ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 34]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 467
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏أخرجه أبو يعلى فى ”مسنده“: 6147/8/11، وابن عدى فى ”الكامل“: 2/204، عنه وعن غيره، وابن حمصة فى ”جزء البطاقة“: 1/69، والخطيب فى ”تاريخ بغداد“: 38/3، وابن عساكر فى ”تاريخ دمشق“: 2/207/17، والحديث فى صحيح مسلم و غيره بلفظ: ولقنوا موتاكم لا اله الا الله» ‏‏‏‏

قال الشيخ الألباني:
- " اركع ركعتين ولا تعودون لمثل هذا. يعني الإبطاء عن الخطبة. قاله لسليك الغطفاني ".
‏‏‏‏_____________________
‏‏‏‏
‏‏‏‏أخرجه ابن حبان (569) والدارقطني (169) من طريق يعقوب بن إبراهيم حدثنا
‏‏‏‏أبي عن ابن إسحاق حدثني أبان بن صالح عن مجاهد عن جابر بن عبد الله قال:
‏‏‏‏" دخل سليك الغطفاني المسجد يوم الجمعة، ورسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب
‏‏‏‏الناس، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم ... " فذكره.
‏‏‏‏وقال ابن حبان: " أراد الإبطاء ".
‏‏‏‏قلت: وإسناده حسن قد صرح عنده ابن إسحاق بالتحديث بخلاف
‏‏‏‏__________جزء : 1 /صفحہ : 835__________
‏‏‏‏
‏‏‏‏الدارقطني، وهي
‏‏‏‏فائدة من أجلها خرجت الحديث هنا، وقد أورده عبد الحق الإشبيلي في " أحكامه "
‏‏‏‏(رقم 1753 - بتحقيقي) من طريق الدارقطني وسكت عليه مشيرا بذلك إلى صحته! ¤



سلسلہ احادیث صحیحہ کی حدیث نمبر 34 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد محفوظ حفظہ الله، فوائد و مسائل، صحیحہ 34
فوائد:
مختلف احادیث سے ثابت ہوتا کہ اس کلمے کے فضائل ثابت ہوتے ہیں، مثلا: جنت میں داخل کرنا، جہنم سے آزاد کرنا، شرک سے پاک کرنا۔ وغیرہ
اس حدیث مبارکہ میں «أَشْهَدُ لَا إِلَهَ إِلَّا الله» کا زندگی میں کثرت سے ذکر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، تا کہ مسلمان اس ذکر کے عظیم ثواب سے محروم نہ رہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ معلوم نہیں کہ آیا موت کے وقت کلمۂ شہادت کا موقع ملتا ہے یا نہیں، اس لیے موت سے پہلے ہی آخرت کی مکمل تیاری کر لینی چاہیے۔
قارئین کرام! آپ نے دیکھا ہو گا کہ کئی افراد حادثات اور بعض بیماریوں کی وجہ سے اچانک لقمہ اجل بن جاتے ہیں اور بعض افراد ہمارے سامنے مر رہے ہوتے ہیں، لیکن وہ یہ کلمہ ادا نہیں کر رہے ہوتے۔ سچ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایسے مراحل عبور کرنے سے پہلے ہی توشہ آخرت تیار کر لینا چاہیے، حدیث کے دوسرے حصے میں قریب المرگ آدمی کو کلمہ توحید کی تلقین کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
[سلسله احاديث صحيحه شرح از محمد محفوظ احمد، حدیث/صفحہ نمبر: 34]

Silsilat al-Ahadith al-Sahihah Hadith 34 in Urdu