🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپنے میں شقِّ بطن کا واقعہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام فرزندان امت سے بھاری ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2529 ترقیم فقہی: -- 3790
-" يا أبا ذر! أتاني ملكان وأنا ببعض بطحاء مكة، فوقع أحدهما على الأرض وكان الآخر بين السماء والأرض، فقال أحدهما لصحابه: أهو هو؟ قال: نعم، قال: فزنه برجل فوزنت به، فوزنته، ثم قال: فزنه بعشرة، فوزنت بهم، فرجحتهم، ثم قال: زنه بمائة فوزنت بهم، فرجحتهم، ثم قال: زنه بألف فوزنت بهم، فرجحتهم، كأني أنظر إليهم ينتثرون علي من خفة الميزان، قال: فقال أحدهما لصاحبه: لو وزنته بأمة لرجحها".
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب آپ کو تاج نبوت پہنایا گیا تو آپ کو کیسے پتہ چلا کہ آپ نبی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر! میرے پاس دو فرشتے آئے اور میں اس وقت مکہ کی کسی وادی میں تھا، ان میں ایک زمین پر تھا اور دوسرا زمین و آسمان کے مابین۔ ایک نے دوسرے کے کہا: (‏‏‏‏جس شخصیت کی طرف ہم کو بھیجا گیا ہے) کیا یہ وہی ہے؟ دوسرے نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: ایک آدمی کے ساتھ ان کا وزن کرو، میرا وزن کیا گیا، لیکن میں بھاری رہا۔ اس نے کہا: دس آدمیوں سے ان کا وزن کرو۔ میرا وزن کیا گیا، لیکن میں ان پر بھی بھاری ثابت ہوا۔ اس نے کہا: سو افراد کے ساتھ وزن کرو۔ میرا وزن کیا گیا، لیکن میرا وزن زیادہ رہا۔ اس نے کہا: ہزار افراد کے ساتھ وزن کرو۔ میرا وزن کیا، لیکن (‏‏‏‏اب کی بار بھی) میں ہی وزنی رہا اور ان (‏‏‏‏ہزار آدمیوں کا پلڑا ہلکا ہونے کی وجہ سے) اتنا اوپر ا‏‏‏‏ٹھ گیا کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہیں وہ خفت میزان کی وجہ سے مجھ پر گر ہی نہ جائیں۔ (‏‏‏‏بالآخر) ایک نے دوسرے سے کہا: اگر انکا وزن ان کی پوری امت سے کر دے تو یہ سب پر بھاری ثابت ہوں گے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات/حدیث: 3790]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2529

قال الشيخ الألباني:
- " يا أبا ذر! أتاني ملكان وأنا ببعض بطحاء مكة، فوقع أحدهما على الأرض وكان الآخر بين السماء والأرض، فقال أحدهما لصحابه: أهو هو؟ قال: نعم، قال: فزنه برجل فوزنت به، فوزنته، ثم قال: فزنه بعشرة، فوزنت بهم، فرجحتهم، ثم قال: زنه بمائة فوزنت بهم، فرجحتهم، ثم قال: زنه بألف فوزنت بهم، فرجحتهم ، كأني أنظر إليهم ينتثرون علي من خفة الميزان، قال: فقال أحدهما لصاحبه: لو وزنته بأمة لرجحها ".
‏‏‏‏_____________________
‏‏‏‏
‏‏‏‏أخرجه الدارمي (1 / 9) : حدثنا عبد الله بن عمران حدثنا أبو داود حدثنا جعفر
‏‏‏‏بن عثمان القرشي عن عثمان بن عروة بن الزبير عن أبيه عن أبي ذر الغفاري قال
‏‏‏‏: قلت: يا رسول الله! كيف علمت أنك نبي حين استنبئت؟ فقال: يا أبا ذر أتاني
‏‏‏‏.. إلخ. وهذا إسناد جيد رجاله كلهم ثقات معروفون، وفي جعفر بن عثمان - وهو
‏‏‏‏ابن عبد الله بن عثمان - كلام لا يضر إن شاء الله تعالى، وقد وثقه أبو حاتم،
‏‏‏‏وأبو داود في الإسناد هو الطيالسي، ومن طريقه رواه ابن عساكر أيضا كما في "
‏‏‏‏البداية " (2 / 276) والعقيلي كما في " الميزان " (1 / 190) .
‏‏‏‏__________جزء : 6 /صفحہ : 69__________
‏‏‏‏
‏‏‏‏وللحديث
‏‏‏‏شواهد كثيرة، فانظر (أنا دعوة أبي إبراهيم) ، رقم (1545 و 1546) والحديث
‏‏‏‏عند ابن عساكر أتم منه، ففيه ذكر شق صدره، وخياطته، وجعل الخاتم بين كتفيه
‏‏‏‏. قال: " فما هو إلا أن وليا عني، فكأنما أعاين الأمر معاينة ".
‏‏‏‏¤

 
Silsilat al-Ahadith al-Sahihah Hadith 3790 in Urdu