🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
گرجا گھر کو مسجد میں تبدیل کرنے کا طریقہ
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1430 ترقیم فقہی: -- 601
-" اذهبوا بهذا الماء، فإذا قدمتم بلدكم فاكسروا بيعتكم وانضحوا مكانها من هذا الماء واتخذوا مكانها مسجدا".
قیس بن طلق اپنے باپ سیدنا طلق سے روایت کرتے ہیں کہ ہم چھ افراد وفد کی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نکلے، پانچ کا تعلق قبیلہ بنوحنیفہ سے تھا اور ایک بنوضبیعہ بن ربیعہ سے تھا۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ ہماری زمین میں ایک گرجا گھر ہے (ہم اسے مسجد بنانا چاہتے ہیں، اس لیے) ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو سے بچا ہوا پانی طلب کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور وضو کیا اور کلی کی، پھر وہ پانی ایک برتن میں انڈیلا اور ہمیں دے دیا اور فرمایا: یہ پانی لے کر چلے جاؤ، جب تم اپنے ملک میں پہنچو تو گرجا گھر گرا دو، وہاں یہ پانی چھڑکو اور اس جگہ پر مسجد بنا لو۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارا ملک بہت دور ہے، اس لیے پانی خشک ہو جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں پانی ملاتے جانا وہ اس کی اس کی پاکیزگی میں اضافہ کرے گا۔ ہم نکل پڑے، لیکن پانی والے برتن کو اٹھانے کے بارے میں جھگڑنے لگے (یعنی کوئی دوسرے کو دینے کے لیے تیار نہیں تھا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باریاں مقرر کر دیں کہ ہر آدمی ایک رات اور ایک دن اٹھائے گا۔ پس ہم نکل پڑے، حتی کہ اپنے ملک میں پہنچ گئے، ہم نے پہنچ کر وہی کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا۔ طی قبیلے کا ایک پادری تھا، جب ہم نے اذان دی تو اس نے کہا: یہ دعوت حق ہے۔ (اس قرار کے بعد) وہ کہیں بھاگ گیا اور اس کے بعد نظر نہ آیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 601]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1430

قال الشيخ الألباني:
- " اذهبوا بهذا الماء، فإذا قدمتم بلدكم فاكسروا بيعتكم وانضحوا مكانها من هذا الماء واتخذوا مكانها مسجدا ".
‏‏‏‏_____________________
‏‏‏‏
‏‏‏‏أخرجه ابن حبان (304) وكذا النسائي (1 / 114) وأحمد (4 / 23) وابن سعد
‏‏‏‏(5 / 552) وأبو نعيم في " دلائل النبوة " (ص 22 - 23) من طريق عبد الله بن
‏‏‏‏بدر عن قيس بن طلق عن أبيه قال: " خرجنا ستة وافدا إلى رسول الله صلى الله
‏‏‏‏عليه وسلم، خمسة من بني حنيفة ورجل من بني ضبيعة بن ربيعة حتى قدمنا على رسول
‏‏‏‏الله صلى الله عليه وسلم ، فبايعناه وصلينا معه وأخبرناه أن بأرضنا بيعة لنا
‏‏‏‏واستوهبناه من فضل طهوره، فدعا بماء فتوضأ منه ومضمض، ثم صب لنا في إداوة
‏‏‏‏ثم قال: (فذكره) . فقلنا: يا رسول الله! البلد بعيد والماء ينشف، قال:
‏‏‏‏فأمدوه من الماء فإنه لا يزيده إلا طيبا، فخرجنا، فتشاحنا على حمل الإداوة
‏‏‏‏أينا يحملها، فجعلها رسول الله صلى الله عليه وسلم نوبا بيننا، لكل رجل منا
‏‏‏‏يوما وليلة، فخرجنا بها حتى قدمنا بلدنا، فعملنا الذي أمرنا، وراهب القوم
‏‏‏‏رجل من طيء، فنادينا بالصلاة فقال الراهب: دعوة حق، ثم هرب فلم ير بعد ".
‏‏‏‏قلت: وهذا إسناد صحيح، رجاله كلهم ثقات. ¤