🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
اللہ تعالیٰ کی رحمت اور غضب کی وسعت اور ان کے تقاضے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2167 ترقیم فقہی: -- 8
-" لو تعلمون قدر رحمة الله عز وجل لاتكلتم وما عملتم من عمل ولو علمتم قدر غضبه ما نفعكم شيء".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت (کی وسعت) کا اندازہ ہو جائے تو تم توکل (کر کے بیٹھ جاؤ اور) کوئی عمل نہ کرو اور اگر تمہیں اس کے غضب کا اندازہ ہو جائے تو (تم یہ سمجھ لو کہ) تمہیں کوئی عمل نفع نہیں دے گا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 8]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2167
تخریج الحدیث: «رواه ابن أبى الدنيا فى ”حسن الظن“: 1/193/2، والبزار»

قال الشيخ الألباني:
- " لو تعلمون قدر رحمة الله عز وجل لاتكلتم وما عملتم من عمل ولو علمتم قدر غضبه ما نفعكم شيء ".
‏‏‏‏_____________________
‏‏‏‏
‏‏‏‏رواه ابن أبي الدنيا في " حسن الظن " (2 / 193 / 1) عن موسى الأسواري عن عطية
‏‏‏‏عن ابن عمر مرفوعا.
‏‏‏‏__________جزء : 5 /صفحہ : 200__________
‏‏‏‏
‏‏‏‏قلت: وعطية ضعيف. لكن قال الهيثمي (10 / 213) : "
‏‏‏‏رواه البزار، وإسناده حسن "! كذا قال، وبالرجوع إلى " زوائد البزار "
‏‏‏‏للهيثمي (4 / 85 / 3256) تبين أنه عند البزار من طريق الحجاج عن عطية نفسه!
‏‏‏‏مع كون الحجاج - وهو ابن أرطأة - مدلسا. ومع ذلك سكت عنه الأعظمي في تعليقه
‏‏‏‏على " الزوائد "! ثم رواه ابن أبي الدنيا من طريق قتادة مرسلا نحوه.
‏‏‏‏قلت: فالحديث حسن، والله أعلم.
‏‏‏‏¤



سلسلہ احادیث صحیحہ کی حدیث نمبر 8 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد محفوظ حفظہ الله، فوائد و مسائل، صحیحہ 8
فوائد:
جہاں مومن کو اللہ تعالی کی رحمت کی امید ہوتی ہے، وہاں اسے اللہ تعالی کے غضب سے ڈرنا بھی چاہیے، اللہ تعالی نے اس مضمون کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:
«تتجا فى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَطَاجِحِ يَدْعُونَ ربِّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ» [سوره سجده: 16]
یعنی: ان کی کروٹیں بستروں سے الگ رہتی ہیں (یعنی رات کو نوافل کا اہتمام کرتے ہیں) اور اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دے رکھا ہے، وہ خرچ کرتے ہیں۔
یعنی مومن لوگ اللہ کی رحمت اور فضل و کرم کی امید بھی رکھتے ہیں اور اس کے عتاب و عقاب اور مواخذہ و عذاب سے ڈرتے بھی ہیں۔ محض امید ہی نہیں کہ عمل سے بے پرواہ ہو جائیں، جیسے بے عمل اور بد عمل لوگوں کا رویہ ہے اور نہ عذاب کا اتنا خوف طاری کر لیتے ہیں کہ اس کی رحمت سے مایوس ہو جائیں۔ اس حدیث مبارکہ میں ان عمل خوروں کا ردّ ہے، جو اللہ تعالی کی رحمت کی وسعت کا سہارا لے کر اعمالِ صالحہ کے گراف میں کمی کرتے رہتے ہیں۔
[سلسله احاديث صحيحه شرح از محمد محفوظ احمد، حدیث/صفحہ نمبر: 8]

Silsilat al-Ahadith al-Sahihah Hadith 8 in Urdu